لازمی تعلیم کا بل

سکول کے بچے
،تصویر کا کیپشنماہرین کےمطابق ایک بڑا چیلنج دور دراز علاقوں میں نئے سکول قائم کرنا اور وہاں ٹیچروں کی موجودگی اور تعلیم کے معیار کو یقینی بنانا ہوگا
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

ہندوستان میں بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرانے کے لیے پارلیمان میں جو بل منظور کیا گیا ہے اس میں وعدے تو بہت کیے گئے ہیں لیکن سکیم کے اطلاق پر اخراجات کا تخمینہ شامل نہیں۔

سنہ دو ہزار چار میں ایک سرکاری ادارے کا اندازہ تھا کہ مفت تعلیم فراہم کرنے کے لیے آئندہ چھ برسوں میں کم سے کم تین لاکھ اکیس ہزار کروڑ روپے درکار ہوں گے اور یہ رقم چار لاکھ چھتیس ہزار کروڑ روپے تک جا سکتی ہے۔ (ہندوستان کی قومی مجموعی پیداوار کے ڈیڑھ فیصد کے برابر)

سنہ دو ہزار پانچ میں حکومت نے بل کو پارلیمان میں پیش کرنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا کیونکہ اس کے اطلاق کے لیے ’انتہائی خطیر‘ رقم درکار تھی۔

بل کے تحت چھ سے چودہ سال کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کا آئینی حق عمل میں آجائے گا لیکن مخالفین چھ سال سے کم عمر کے بچوں کو نئے قانون کے دائرے سے باہر رکھے جانے پر ناراض ہیں۔ (مفت اور لازمی تعلیم کا حق دینے کے لیے سنہ دو ہزار دو میں آئین میں ترمیم کی گئی تھی۔) ماہر تعلیم ڈاکٹر انل سدگوپال بل کے سخت مخالفین میں سے ایک ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ آئین میں چودہ سال کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق حاصل تھا جو اس بل کی رو سے محدود ہو جائے گا۔ ’جب آئین وضع کیا گیا تھا تو اس میں تمام بچوں کے لیے دس سال کے اندر مفت تعلیم کا وعدہ شامل تھا۔ انیس سو ترانوے تک بھی جب یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا تو سپریم کورٹ نے(انی کرشنن کیس میں) پھر کہا کہ اس ملک کے شہریوں کو تعلیم کا بنیادی حق حاصل ہے۔۔۔اس کے نو سال بعد آئین میں ترمیم کی گئی۔۔۔ لیکن نئے قانون میں چھ سال سے چوٹے بچوں کو یہ حق کیوں حاصل نہیں؟‘ بل میں کئی ترقی پسند تبدیلیوں کی تجویز شامل ہے۔ انسانی وسائل کے وزیر کپل سبل کے مطابق ان کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور ان عوامل کو ختم کرنا ہے جن کی وجہ سے بچے پڑھائی بیچ میں ہی چھوڑ دیتے ہیں یا سکول نہیں جاپاتے۔ اس میں یہ شق بھی شامل ہے کہ ’کسی بھی بچے کو نہ فیل کیا جائے گا، نہ سکول سے نکالا جائے گا اور نہ ہی اسے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے کوئی بورڈ کا امتحان دینے کے لیے کہا جائے گا۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہر بچے کو ایک سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔‘ اس کے علاوہ ٹیچروں کو ٹیوشن پڑھانے کی اجازت نہیں ہوگی اور سکولوں کو پچیس فیصد نشستیں غریب بچوں کے لیے مخصوص کرنی ہوں گی۔ لیکن ڈاکٹر سدگوپال کہتے ہیں کہ اگر حکومتی ادارے تعلیم کا حق یقینی بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو ان کے خلاف کسی کارروائی کی گنجائش نہیں رکھی گئی ہے۔ ماہرین کےمطابق ایک بڑا چیلنج دور دراز علاقوں میں نئے سکول قائم کرنا اور وہاں ٹیچروں کی موجودگی اور تعلیم کے معیار کو یقینی بنانا ہوگا۔ حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ 'پڑوس' میں سکول قائم کیے جائیں تاکہ بچوں کو زیادہ دور سفر نہ کرنا پڑے لیکن بل میں فاصلے کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ ہر بچےکو اس کی عمر کے حساب سے مناسب کلاس میں داخلہ دیا جائے گا لیکن عمر کا سرٹیفیکیٹ داخلے کے لیے لازمی نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ ضروری ہوگا کہ داخلہ تعلیمی سال کے شروع میں ہی لیا جائے۔ نہ داخلے کے لیے بچوں کا سلیکشن کیا جاسکے گا اور نہ کوئی رقم وصول کی جائے گی۔ بل میں اگرچہ کئی اییسی تجاویز ہیں جن سے بچوں کے لیے سکول جانا آسان ہوجائے گا لیکن ماہرین کی نگاہیں اس بات پر ہوں گی کہ تعلیم کا معیار کیسے بہتر بنانا جائے گا کیونکہ اصل مسئلہ صرف سہولیات کا فقدان ہی نہیں بیداری کی کمی بھی ہے۔