ایک سے زائد شادی اسلامی یاغیراسلامی

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنلاء کمیشن کی رپورٹ سے بھارتی مسلمانوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے
    • مصنف, عبدالواحد آزاد
    • عہدہ, بی بی سی دلی
  • وقت اشاعت

ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک سے زائد شادی کرنے کے معاملے میں لاء کمیشن کی تازہ رپورٹ سے علماء خاصے برہم ہیں اور اسے اسلامی تعلیمات اور شریعت کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ لاء کمیشن نے وزارت قانون کو سوپنی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’ نکاح دوئم اسلامی قوانین کی روح کے منافی ہے۔ ساتھ ہی جو یہ عام تصور ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا قانون انہيں چار بیویاں رکھنے کی اجازت دیتا ہے، غلط ہے۔‘

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترکی اور تیونیس جیسے مسلم ممالک میں نکاح دوئم پر مکمل پابندی ہے جبکہ مصر، شام، اردن، عرا‍ق، یمن، مراکش، پاکستان اور بنگلہ دیش میں نکاح دوئم انتظامیہ یا عدالت کے کنٹرول میں ہے۔

لاء کمیشن کی رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دارالعلم دیوبند کے نائب مہتم مولانا خالد مدراسی کا کہنا تھا کہ’ کمیشن کی رپورٹ غلط اور مذہب میں مداخلت کے مترادف ہے۔‘

ان کا کہنا ہے، ’ہم صرف ہندوستانی آئین کے پابند ہیں اور آئین ہر ایک کو اپنے اپنے مذہب کو ماننے کی ضمانت دیتا ہے۔ ایک سے زائد شادی کرنا مسلمانوں کا مذہبی اختیار ہے، میں کمیشن کی رپورٹ کی مذمت کرتا ہوں۔‘

حالانکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی خاتون ممبر حسینہ حاشیہ لاکمیشن کی رائے کو صحیح مانتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیشن کی بات اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔

وہ کہتی ہیں ’گر اسلام میں مخصوص حالات میں ہی ایک سے زائد نکاح کرنے کی اجازت دی گئی ہے جیسے بیواؤں کی تعداد کافی بڑھ گئی ہو اور ایسے میں معاشرے میں برائی پھیلنے کا خوف ہو۔‘

حاشیہ کہتی ہیں کہ ہندوستان میں نکاح ثانی کا معاملہ انتظامہ کے کنٹرول میں ہونا چاہیے۔ جیسے کئی مسلم ممالک میں ہے۔ لیکن پوری طرح سے پابندی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ وہ بھی اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

مسئلے کی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامک سٹڈیز کے پروفیسر جنید حارث کا کہنا ہے کہ اسلام میں ایک سے زائد شادی کی اجازت ضرور دی گئی ہے لیکن اسے لازمی نہیں کیا گيا ہے اور نہ ہی اس کی ترغیب دی گئي ہے۔ بلکہ اس کے لیے بعض شرائط رکھی گئیں ہیں۔

حارث کا کہنا ہے ’اسلام میں ایک سے زائد شادی کی اجازت اسے دی گئی ہے جو اپنے بیویوں کے درمیان انصاف اور ان کے حقوق کو پورا کر سکتا ہے، لیکن اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ جو چاہے اس کا ‌غلط استعمال کرے۔'

جنید حارث اپنے مشاہدے سے اعتراف کرتے ہيں کہ برصغیر میں ایک سے زائد شادی کرنے والے بیشتر لوگ اسلامی قانون کے روح حقیقی کے پابند نہیں اور بعض لوگ تو اپنی پہلی بیوی اور اس سے پیدا ہونے والے بچوں کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔

لیکن بعض مذہبی پیشوا کمیشن کی رپورٹ سے نہ صرف ناراض ہیں بلکہ اسے شریعت کی غلط تشریح قرار دے رہے ہیں۔

جمیت علماء ہند کے ترجمان حمید نعمانی نے لاء کمیشن کی رپورٹ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’کمیشن کو اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ شریعت کی غلط تشریح کرے۔‘

میں نے یہی سوال سماجیات کے ماہر پروفیسر امتیاز احمد کے سامنے رکھا کہ کیا یہ شریعت کی ’غلط تشریح‘ ہے تو ان کا کہنا تھا، شریعت کی تشریح وقت کے اعتبار سے بدلتی رہتی ہے اور ایک سے زائد شادی کی اجازت نہ تو قرآن میں ہے اور نہ ہی حدیث سے ثابت ہے۔‘

تو ایسا کیا ہےکہ علماء کمیشن کی رپورٹ کو مذہب میں مداخلت سے تعبیر کر رہے ہیں تو ان کا کہنا ہے علماء ایسے کسی بھی معاملے میں معمولی تبدیلی کو شریعت میں چھیڑ چھاڑ سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ اسے شناخت کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جبکہ شناخت چار شادی سے نہيں بلکہ نیک کام کرنے سے ہوتی ہے۔‘

مسلمانوں کے ایک سے زائد شادی کا معاملہ ہندوستان میں ہنگامہ خیز رہا ہے لیکن سرکار کے ہی ایک مطالعے کے مطابق سچائی یہ ہے کہ نکاح ثانی کی قانونی ضمانت کے باوجود ہندوستانی مسلمان دوسری شادی کرنے میں ملک کی دوسری مذہبی برادریوں سے پیچھے ہیں