ممبئی حملے، ایف بی آئی کی گواہی

اجمل امیر قصاب
،تصویر کا کیپشنممبئی کے حملہ آوروں میں شامل اجمل امیر قصاب ہی بچ سکے تھے
وقت اشاعت

گزشتہ نومبر میں ممبئی پر ہوئے حملوں کی سماعت کے سلسلے میں خصوصی عدالت میں امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی کے دو افسران بھی اپنا بیان دینے والے ہیں۔

ممبئی حملوں سے متعلق مقدمہ ایک خصوصی عدالت میں چل رہا ہے جہاں بہت سے عینی شاہدین اپنا بیان درج کروا چکے ہیں۔

اس مقدمہ میں امریکہ کے تین دیگر شہری بھی عدالت میں اپنا بیان درج کروائیں گے لیکن وہ بذات خود عدالت میں حاضر ہونے کے بجائے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اپنی بات کہیں گے۔

چھبیس نومبر دوہزار آٹھ میں ممبئی پر ہونے والے حملے میں مجموعی طور پر ایک سو ستّر لوگ ہلاک ہوئے تھے جس میں چھ امریکی شہری بھی شامل تھے۔

مقدمے کے سرکاری وکیل اجول نکم کا کہنا تھا کہ ’فیڈرل بیورو آف انوسٹیگیشن کے دو افسران بذات خود عدالت میں اپنی گواہی درج کروائیں گے‘۔

اجول نکم کا کہنا تھا کہ ایف بی آئی کے افسران عدالت کو یہ بتائيں گے کہ کس حملہ آوروں نے کیسی ٹیکنالوجی استعمال کی تھی اور حملے کے دوران وہ اپنے آقاؤں سے رابطے میں کیسے تھے۔

سیکیورٹی کی وجوہات کے سبب ان افسران اور دیگر امریکی شہریوں کی شناخت کو پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ ممبئی حملوں کی سماعت ایک خصوصی عدالت میں ہو رہی ہے جس میں اب تک بہت سے گواہ اپنا بیان درج کروا چکے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں بیرونی ممالک کے یہ پہلے گواہ ہونگے۔

ممبئی حملہ آوروں میں واحد زندہ بچنے والے محمد امیر اجمل قصاب نے ابتداء میں اپنے اوپر عائد تمام الزمات سے انکار کیا تھا لیکن بعد میں عدالت میں انہوں نے حملہ آوروں میں شامل ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ لیکن جج نے اعتراف کے باوجود مقدمہ کی سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔