کیا واقعی تصویر بدلے گی

- مصنف, نارائن باریٹھ
- عہدہ, بی بی سی، جے پور
- وقت اشاعت
بھارتیہ حکومت نے حال میں سبھی کو مفت اور لازمی تعلیم سے متعلق بل پارلیمان میں منظور میں کردیا ہے۔ لیکن کیا یہ آسانی سے عمل میں آئے گا۔ ہندوستان میں تعلیمی معیار کی زمینی سچائی جاننے کی کوشش کررہے ہیں بی بی سی کے مختلف نامہ نگار۔ اس سلسلے میں پیش ہے راجستھان سے بی بی سی کے نامہ نارائن باریٹھ کی رپورٹ
راجستھان نے تعلیم کے شعبے میں بہت زیادہ ترقی کی ہے لیکن آبادی کے ایک بڑے حصے کے لیے تعلیم ابھی بھی ایک خواب ہے۔
ریاست کے دارلحکومت جے پور میں ہی ایک بہت سے بچے ہیں جو کم عمر میں ہی کام کرنے پر مجبور ہیں۔
حالانکہ تعلیم سے متعلق نئے بل کو لوگ بہت امید سے دیکھ رہے ہیں پر ساتھ ساتھ ان اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ بل جب قانون بن جائے گا تو اسے صحیح طریقے سے لاگو کیا جائے گا یا نہیں۔
راجستھان یونیورسٹی سنڈیکٹ کے سابق ممبر پرکاش چترویدی کہتے ہیں کہ ملک میں وہ طاقتیں مضبوط ہیں جو غریب بھارت کو ناخواندہ دیکھنا چاہتی ہیں۔
رامو کی عمر 11 سال ہے۔ اور وہ اپنے والد کی دوکان پر پنکچر جوڑنے کا کام کرتا ہے۔ لازمی تعلیم کا قانون رامو کی زندگی بدل پائے گا یا نہیں یہ نہیں معلوم لیکن رامو کی تمنا ہے کہ وہ پنکچر جوڑنے کا کام نہ کرکے ڈاکٹربنے۔
رامو کی تمنا ڈاکٹر بننے کی ہے لیکن اسکے گھر کے معاشی حالات اسکو کم عمری میں کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
میں نے جب رامو سے یہ پوچھا کہ وہ سکول کیوں نہیں جاتا تو اسکا کہنا تھا ' کچھ وقت تک سکول گیا۔ لیکن اب تو پاپا کے ساتھ کام کرتا ہوں۔ اگر موقع ملا تو پڑھائی کرنا چاہوں گا'۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رامو کے والد راجستھان کے دوسا ضلع سے جے پور روزی روٹی کی تلاش میں آئے تھے۔ انکا کہنا ہے کہ انکے دو بیٹے سکول جاتے ہیں۔
انکا کہنا ہے کہ رامو کو سرکاری سکول بھیجا تھا لیکن وہاں پڑھائی تو ہوتی نہیں ہے ' میں نے کئی بار رامو کو سکول نہ جانے پر ڈانٹا لیکن اس میں اسکا کیا قصور ہے۔ سکول میں ٹیچرز پڑھاتے ہی نہیں ہیں'۔
رامو اور اسکے والد کو نہیں معلوم کہ ملک کی سب سےبڑی پنچایت یعنی پارلیمان ایسے چمتکاری قانون بنانے جارہی ہے جو رامو جیسے بچوں کا مستقبل سوارنے کا جادو رکھتا ہے۔
ماہر تعلیم پرکاش چترویدی کہتے ہیں ' مجھے تو لگتا ہے کہ یہ قانون ملک کی قسمت بدلنے میں مددگار ثابت ہوگا کیونکہ ملک کے ان 19 کروڑ بچوں کی مستقبل سنوار سکتا ہے جنہیں یہ نہیں معلوم کہ تعلیم کیا ہے'۔
رقبے کے حساب سے راجستھان ملک کی سب بڑی ریاست ہے۔ ریاست میں 51 ہزار سے زیادہ پرائمری سکول ہیں اور 50 ہزار سے زیادہ ہائر سیکنڈری سکول ہیں۔ چھ سے گیارہ سال تک جو بچے سکول میں داخل ہیں انکی تعداد تقریبا 47 لاکھ سے زیادہ 11 سے چودہ برس کی عمر کے سکول جانے والے بچوں کی تعداد بارہ لاکھ سے زیادہ ہے۔
راجستھان میں شرح خاندگی 65 فی صد ہے۔ جس میں خواتین کی شرح خاندگی 44 فی صد ہے۔
راجستھان کے وزیر تعلیم بھنور لال میگھوال کہتے ہیں ریاست حکومت اس بات کی یقین دہانی کرائے گی کہ بھی بغیر تعلیم کے نہ رہے۔ انہوں نے کہا ' ابھی پوری جانکاری جٹا رہے ہیں۔ ابھی بل منظور ہوا ہے تھوڑا انتظار کیجیے۔ ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ انکے بچے تعلیم پائیں۔ ہم اس خواہش کو پورا کرنے کا کام کریں گے'۔
پر کیا نجی سکول اسکے لیے تیار ہونگیں۔ وزیر تعلیم کہتے ہیں ' اگر انکو اپنی شناخت اور ریکگنیشن کو برقرار رکھنا ہے تو انہیں سبھی بچوں کو پڑھنے کا موقع دینا ہوگا'۔






















