کشمیر: یوم آزادی کے دو دن

اس سال بھی چودہ اگست کو شہر میں تناؤ تھا اور خصوصی سکیورٹی انتظامات تھے
،تصویر کا کیپشناس سال بھی چودہ اگست کو شہر میں تناؤ تھا اور خصوصی سکیورٹی انتظامات تھے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کشمیر
  • وقت اشاعت

ہرسال پاکستان اور بھارت آزادی کا جشن بالترتیب چودہ اور پندرہ اگست کو مناتے ہیں لیکن بھارتی زیرانتظام کشمیر میں دونوں ایام تناؤ اور کشیدگی کی نذر ہوجاتے ہیں۔

مزاح نگار شوکت سرور سے اس بارے رائے پوچھی تو انہوں نے کہا: ’بھارت اور پاکستان کے لیے صرف ایک دن مخصوص ہے، ہمارے یہاں یوم آزادی کے دو دن ہوتے ہیں‘۔ شوکت سرور کی اس ترچھی تنقید کا ہدف دراصل چودہ اور پندرہ اگست کو کشمیر بالخصوص سرینگر میں سخت ترین سکیورٹی پابندیاں ہیں۔

پچھلے بیس سال سے جاری روایت کے مطابق اس سال بھی چودہ اگست کو شہر میں تناؤ تھا کیونکہ جگہ جگہ سکیورٹی پابندیاں تھیں اور سٹیڈیم کے چاروں طرف، جہاں وزیراعلیٰ عمرعبداللہ پریڈ پر سلامی لینے والے تھے، حفاظتی حصار تھا۔ اس دوران چودہ اگست کو ہی پرانے شہر کی بعض بستیوں میں میر واعظ عمر فاروق کی عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ نوجوان لڑکوں نے پاکستانی پرچم لہرایا، اور پاکستان کے یوم آزادی کی ’خوشی‘ میں پٹاخے پھوڑے اور پھول جھڑیوں سے جشن منایا۔

پولیس نے حسب معمول کارروائی کی جس میں درجن بھر نوجوان جزوی طور زخمی ہوگئے۔ چودہ کی شام کو معمول سے کئی گھنٹے قبل ہی کاروبارِ زندگی تھم گیا اور ہر اہم شاہراہ پر پولیس نے ناکے لگا دیے۔

پندرہ اگست کی صبح خاموشی اور سڑکوں پر سناٹے کے باعث خوف کا منظر پیش کررہی تھی۔ گاڑیوں کی آمد ورفت پر پابندی تھی۔ حکومت نے کرفیو کا اعلان کیا تھا نہ ہی کسی قانونی پابندی کا۔ تاہم علیٰحدگی پسند جماعتوں کے اتحاد حریت کانفرنس نے پندرہ اگست کو ’یوم سیاہ‘ کے طور منانے اور ہڑتال کرنے کی کال دی ہوئی تھی۔ شوکت سرور کہتے ہیں: ’ایسا لگتا ہے کہ حُریت کی کال کو نافذ کروانے کے لئے سرکاری فورسز کو کام پر لگایا گیا ہے‘۔

بھارتی یوم آزادی کی خصوصی پریڈ پر سلامی لینے کے دوران مقامی وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے عہد کیا کہ ان کی حکومت جموں کشمیر کو تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے ایک سنہری دور میں داخل کرے گی۔

محقق اور محکمہ تعلیم میں اُستاد منظور راشِد کہتے ہیں: ’پچھلی بار اخباروں میں آیا تھا کہ ہڑتال اور سکیورٹی پابندیوں سے جب کاروبار معطل ہوجاتا ہے توجموں کشمیر کو ایک ارب روپے کا خسارہ اُٹھانا پڑتا ہے۔ وزیراعلیٰ کی سوچ تو مثبت ہے ، لیکن جب آپ لوگوں کو گھر میں قید کرکے رکھیں گے تو کام کون کرے گا، سرمایہ کاری کیسے ہوگی اور پھر یہ سہنری دور کیسے آئے گا‘۔

یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ شاہراہوں پر آمدورفت کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ مواصلاتی سہولیات کو بھی مسدود کیا گیا تھا۔ وادی میں فی الوقت سرکاری بھارت سنچار نگم کے علاوہ ایئرٹیل، ٹاٹا انڈی کام، ایئرسیل، ریلائنس اور ووڈا فون کمپنیاں یہ سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ ایئرٹیل کے خورشید احمد نے بتایا کہ مجموعی طور وادی میں سبھی کمپنیوں کے پچیس سے تیس لاکھ سِم کارڑذ تقسیم ہوچکے ہیں۔ لیکن پندرہ اگست کی صبح کوئی بھی موبائل فون کام نہیں کررہا تھا اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی تھی۔ موبائل فون کے سکرین پر ایک لفظ کا پیغام تھا: ’ایمرجنسی‘۔

حیرت کی بات ہے کہ کڑے سکیورٹی حصار والے بخشی سٹیڈیم کے اندر گویا نارملسی کی عارضی صورت قائم تھی۔ پولیس پریڈ کے علاوہ سکولوں کی طالبات اور فنکاروں نے رنگارنگ سرگرمیوں کا مظاہرہ کیا۔

مصنف اور کالم نویس پیر غلام رسول کہتے ہیں: 'حکومت دراصل آئی لینڈ آف پیس (امن کا جزیرہ) بنارہی ہے، اور اس امن کا فائدہ ابھی تک لوگوں کو نہیں پہنچا ہے۔ سٹیڈیم کے اندر امن اور اس کے باہر بدامنی ہے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: ’ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ امسال نہایت کم اور اِنوِزِبل یعنی خفیہ سکیورٹی کے حق میں تھے، لیکن اگست کے آغاز میں شہر کے کئی مقامات پر تشدد کی وارداتیں ہوئیں جس کی وجہ سے سکیورٹی خطرات بڑھ گئے اور احتیاط کے طور پابندیاں نافذ کرنا پڑیں۔‘

اعلیٰ پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریب پر امن و امان یقینی بنانے کے لیے بخشی سٹیڈیم کے گرد ڈیڑھ کلومیٹر کے دائرے میں کسی بھی شہری یا گاڑی کو نقل وحرکت کی اجازت نہیں تھی۔ یہاں تک کہ عمرعبداللہ کی کابینہ میں وزیر آغا روح اللہ کو بھی بخشی سٹیڈئم کے راستے سے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ آغا نے، جنہیں گاندربل میں سلامی لینی تھی، متبادل مگر طویل راستہ اختیار کیا۔

اس ساری صورت حال کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جہاں ایک طرف چودہ اور پندرہ اگست ہرسال تناؤ اور پابندیوں کی نذر ہوجاتے ہیں، وہیں بڑی تعداد میں لوگ ان ایام کے دوران سیرسپاٹے کے لیے صحت افزا مقامات کا رُخ کرتے ہیں۔

جموں کشمیر بینک کے ایک نوجوان افسر شبیر احمد نے خوبصورت مقام پہلگام سے فون پر بتایا: ’میں نے دوستوں کے ساتھ پہلے ہی طے کیا تھا کہ نہ ہم چودہ اگست کو یہاں رہیں گے اور نہ ہی پندرہ اگست کو۔ لہٰذا ہم تیرہ اگست کی صبح ہی پہلگام کے لیے چل پڑے‘۔