’قندہار کا دورہ، اڈوانی جانتے تھے‘

ہندوستان کے سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے کہا ہے کہ ایک بھاتی طیارے کے اغواء کے بعد جب وہ تین شدت پسندوں کو لینے قندہار گئے تھے تو اس وقت کے وزیر داخلہ ایل کے اڈوانی کو اس کا علم تھا۔
اس کے برعکس اڈوانی کا دعویٰ ہے کہ شدت پسندوں کے ساتھ جسونت سنگھ کے جانے کے بارے میں انہیں اندھیرے میں رکھا گیا تھا۔
دس سال قبل جب انڈین ائرلائن کے ایک طیارے کے اغوا کے بعد مولانا مسعود اظہر سمیت تین شدت پسندوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت تھی اور ایل کے اڈوانی وزیر داخلہ تھا۔
ہندوستان میں اس بات پر کافی عرصےسے بحث رہی ہے کہ شدت پسندوں کو رہا کرنے کا فیصلہ صحیح تھا یا غلط۔ اڈوانی نے جب اپنی خود نوشت میں یہ لکھا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ وزیر خارجہ جسونت سنگھ بھی مولانا مسعود اظہر اور دو دیگر شدت پسندوں کے ساتھ قندہار جا رہے ہیں اور یہ کہ انہیں اندھیرے میں رکھا گیا تھا، تو ایک نیا سیاسی طوفان برپا ہوگیا تھا۔
گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں جسونت سنگھ نے بھی یہ کہا تھا کہ اڈوانی کو اس فیصلے کی خبر نہیں تھی۔لیکن جمعہ کو ایک ٹی وی انٹرویو میں جسونت سنگھ نے اس پورے معاملے کو نئی شکل دے دی ہے۔ جسونت سنگھ نے کہا کہ ’انہیں معلوم تھا۔ لیکن جب انہوں نے اس سے انکار کیا تو مجھے بڑا افسوس ہوا۔ اور یہ بات میں نے ان سے جاکر کہی بھی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جب جب پاکستان کے ساتھ کوئی بات چیت ہوئی یا کوئی شدت پسند حملہ ہوا، بس سے لاہور کا سفر، پارلیمان پر حملہ اور یا پھر کرگل کی جنگ۔۔۔ میں نے کبھی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش نہیں کی۔ کیونکہ یہ مجموعی ذمہ داری تھی۔‘
جسونت نے کہا کہ ’اگر آج میں یہ پوچھوں کہ طیارے کو امرتسر سے اڑنے ہی کیوں دیا گیا؟ جیسے ہی طیارہ امرتسر سے گیا، ہم بازی ہار گئِے تھے۔ قندہار میں میں اس لیے گیا تھا کیونکہ اگر وہاں کوئی فیصلہ لینا پڑتا تو فیصلہ کون کرتا؟‘
جسونت سنگھ نے یہ بھی کہا کہ پارلیمانی انتخابات کےدوران بھی انہوں نے اڈوانی کی بات کو غلط کہنے سے گریز کیا کیونکہ وہ ایک پارٹی رفیق کےساتھ وفاداری کر رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جسونت سنگھ نے بانی پاکستان محمد علی جناح پر اپنی حالیہ کتاب میں لکھا ہےکہ ہندوستان میں جناح کی منفی شبیہہ پیش کی گئی ہے اور یہ کہ تقسیم ہند کے لیے جواہر لال نہرو اور ولبھ بھائی پٹیل بھی ذمہ دار تھے۔
ولبھ بھائی پٹیل اور جناح کے بارے میں جسونت سنگھ کے خیالات سے مشتعل ہو کربی جے پی نے انہیں پارٹی سے نکال دیا ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ جسونت سنگھ خاموش بیٹھنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور آنے والے دنوں میں اور بہت سی نئی باتیں سامنے آ سکتی ہیں۔






















