انڈیا، نوابوں کے وظیفہ میں اضافہ

ہندوستان کی ریاست راجستھان میں ٹونک علاقے کے پرانے نوابوں کے وارثوں کے لیے سرکاری وظیفے کی رقم کے لیے ایک لمبی جدوجہد کرنی پڑی ہے۔
ٹونک کے نوابین کے وارثین نے ایک طویل قانونی لڑائی جیتی ہے جس کے تحت اب کسی بھی فرد کو سو روپے سے کم کا وظیفہ نہیں ملےگا۔
اس سے پہلے ٹونک نوبین کے وارثوں میں سے ہر فرد کو پچاس پیسے ملتے تھے۔
عدالت کے حکم کے مطابق اس اضافی رقم کا شمار پچھلے بیس برسوں سے ہوگا۔ ٹونک کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ بیس برسوں کے حساب سے یہ رقم تقریبا ایک کروڑ سولہ لاکھ روپے بنتی ہے۔
ضلع کے مجسٹریٹ سبیر کمار کا کہنا تھا '' چونکہ عدالت میں ان لوگوں کے حق میں فیصلہ ہوچکا ہے اس لیے ہم نے انہیں یہ رقم ادا کرنے کے لیے ریاستی حکومت سے مانگی ہے۔''
اس دور میں ٹونک کے نوابوں کے پانچ سو ستّر وارث ہیں جس کی ایک تنظیم '' انجمن سوسائٹی خاندان امیریہ'' ہے۔ اس انجمن کے سابق سکریٹری عصمت علی خان کہتے ہیں کہ '' یہ رقم چھوٹی ہو سکتی ہے لیکن اس میں شامل عزت و وقار بہت زیادہ ہے۔ اس چھوٹی سی رقم سے تاریخی یادیں وابستہ ہیں۔ وظیفہ کی یہ رقم جب مٹھی میں آتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے پرانا فخر پھر سے مل گیا ہو۔''
سنہ انیس سو چوالیس میں انگریزی حکومت نے ٹونک کے نوابوں کو وظیفہ دینا شروع کیا تھا۔ ریاستی حکومت نے ان وارثوں کے وظیفہ کی رقم پہلے بڑھائی تھی لیکن سنہ انیس سو اناسی میں اسے کم کردیا تھا جس پر انجمن نے نارضگی ظاہر کی تھی اور عدالت میں کیس درج کیا تھا۔
سنہ دو ہزار چھ میں ریاستی ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں وظیفہ سو روپے کرنے کا حکم دیا تھا لیکن راجستھان کی حکومت اس پر راضی نہیں ہوئی اور اس نے سپریم کورٹ نے اپین دائر کی تھی جسے عدالت عظمی نے حارج کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس خاندان کے ایک شخص محمد رفیق کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ نوابوں کے خاندان سے ہیں لیکن ان کے خاندان میں آج کل کئی لوگ مالی تنگی سے گزر رہے ہیں۔
آزادی سے قبل راجستھان میں بہت سی ریاستیں تھیں لیکن ٹونک واحد مسلم ریاست تھی۔ ٹونک شہر اٹھار سو سترہ سے سنہ انیس سو سینتالیس تک ریاست کی دارالحکومت تھا جسے ایک مسلم حکمراں نے آباد کیا تھا۔






















