کشمیر: 10.5 لاکھ کنال زمین پر فوج کا قبضہ

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
- وقت اشاعت
بھارتی زیرانتظام کشمیر کی مقامی اسمبلی میں حکومت نے سوموار کو اعتراف کیا کہ صوبے کے تینوں خطوں، جموں ، کشمیر اور لداخ میں فوج نے دس لاکھ چون ہزار سات سو اکیس کنال زمین پر قبضہ کرلیا ہے۔
یہ انکشاف حکومت نے اپوزیشن کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں کیا ہے۔ جواب کیا کاپیاں ایوان میں تقسیم کی گئیں کیونکہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ جو صوبے کے وزیر داخلہ بھی ہیں، ایوان میں موجود نہیں تھے۔
سوال کے تحریری جواب میں حکومت نے کہا ہے کہ آٹھ لاکھ پچپن ہزار چار سو سات کنال کے مجموعی رقبہ پر فوج، سی آر پی ایف، بی ایس ایف اور انڈو تبیتّن بارڈر پولیس یا آئی ٹی بی پی غیر قانونی طور قابض ہے۔ جبکہ ایک لاکھ ننانوے ہزار تین سو چودہ کنال کے حقوق حکومت نے مقامی قانون کی رُو سے فوج اور دیگر ایجنسیوں کو منتقل کردئے ہیں۔ ایوان میں جاری کردہ اس دستاویز میں فوجی قبضہ کی تحصیل وار تفصیل دی گئی ہے۔
اس حوالے سے لداخ سرفہرست ہے جہاں چار لاکھ تین ہزار چھہ سو کنال سے زائد رقبہ پر فوج کے کیمپ اور اہم تنصیبات قائم ہیں ۔ اسی طرح شمالی کشمیر کی تیرہ تحصیلوں میں کُل ملاکر اکیاون ہزار نو سو بانوے کنال زمین پر فوج کا قبضہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس خطے کے اوڑی اور کرناہ تحصیلوں میں وسیع رقبہ پر فوجی تنصیبات ہیں۔
سرکار کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر کی تحصیلوں میں بیس ہزار سات سو ستانوے کنال اراضی فوج کے تصرف میں ہے۔ وسطی کشمیر کے سرینگر، بڈگام اور گاندربل خطوں میں پچپن ہزار چار سو اڑسٹھ کنال زمین پر فوج اور نیم فوجی عملہ مقیم ہے۔
حکومت نے اس حساس سوال کے جواب میں واضح کیا ہے: ' صوبے میں زمین کی منقتلی کا قانوں 'لینڈ اینڈ اکوِزیشن ایکٹ' پوری طرح سے نافذ العمل ہے اور اس کی رُو سے اگر کسی (فوجی یا غیر فوجی ادارہ ) نے زمیں حاصل کی ہے اس کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔' حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قانون کی رُو سے زمین کے مالکوں کو نئے نرخوں کے حساب سے زمین کا کرایہ بھی ادا کیا جارہا ہے جبکہ غیر رزعی زمین پر فوج یا دیگر ایجنسیوں کی تعمیرات کے بعد مستحقین کو معاوضہ بھی دیا جارہا ہے۔ جبکہ زرعی زمین پر قبضہ کی صورت میں چھہ ماہ کے اندر اندر معاوضہ یا زمین (جو بھی پہلے ممکن ہو) کی واپسی ہوتی ہے۔
واضح رہے زرعی زمینوں، میوہ باغات اور رہائشی مکانوں کو فوج و نیم فوجی عملہ سے خالی کروانے کے لئے یہاں کی ہند نواز جماعتیں وقفہ وقفہ سے سیاسی مہم چلاتی رہی ہیں۔ اس دوران حساس سماجی حلقے بھی وادی میں فوج کے پھیلاؤ پر فکرمند ہیں۔


















