کشمیر:فوجی’قبضے‘ پر اسمبلی میں ہنگامہ

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبھارتی فوج کشمیر کی بہت سی زیمنوں پر قابض ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • وقت اشاعت

بھارت کے زیر انتظام ستاسی رُکنی جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے بھارتی فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ وسیع زمینوں پر قبضہ کر کے یہاں فلسطین جیسے حالات پیدا کررہی ہے۔

حکومت نے سوموار کو ایک سوال کے جواب میں انکشاف کیا تھا کہ وادی میں ساڑھے دس لاکھ سے زائد رقبہ پر فوج اور نیم فوجی عملہ قابض ہے۔

اس انکشاف کے بعد منگل کے روز ایوان کی کاروائی کے دوران پی ڈی پی کے سینئر رہنما اور رکن اسمبلی مولوی افتخار انصاری نے احتجاج کیا۔ مسٹر انصاری کا کہنا تھا کہ ’جس انداز سے فوج اور نیم فوجی ادارے یہاں عام لوگوں کی جائیداد اور اثاثوں پر قابض ہورہے ہیں اس سےلگتا ہے کہ فلسطین جیسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں‘۔

انہوں نے اپنی طویل تقریر میں بتایا کہ ’جموں کشمیر میں لاکھوں کنال زمین پر فوج کا قبضہ مقامی حکومتوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں، کیو نکہ اس ریاست میں وہی حکومت قائم رہ سکتی ہے جو نئی دلّی اور یہاں مقیم فوج کی خوشنودی کرتی رہے۔ ہم ہندوستان کا حصہ ضرور ہیں مگر ہندوستان کے غلام نہیں ہیں‘۔

مولوی افتخار نے کشمیر کے آبادی والے علاقوں میں کثرت سے فوجی جماؤ کے نتائج بیان کرتے ہوئے کہا’جنگلوں میں بھی فوج ہے۔ اب تو وہاں سے جنگلی جانور بھاگ رہے ہیں اور بستیوں میں شہریوں کو مار کاٹ رہے ہیں۔ لوگوں کا چلنا پھرنا دوبھر ہوگیا ہے۔ ہم فوج کے خلاف نہیں ہیں، لیکن فوج کو ہماری زمینوں پر قبضہ نہیں کرنا چاہیئے، اور حکومت کو دیکھنا چاہیئے کہ فوج کو جو بے تحاشا اختیارات حاصل ہیں انہیں کیسے ختم کیا جائے‘۔

مسٹر انصاری نے حکمراں نیشنل کانفرنس کے بانی رہنما کو کشمیر میں بھارتی فوج کو’ویلکم‘ کرنے کا مرتکب ٹھہرایا تو اس پر نیشنل کانفرنس کے رہنما اور وزیر علی محمد ساگر نے کہا ’شیخ صاحب نے کبھی فوج کو ویلکم نہیں کہا، جب یہاں بھارتی فوج آئی تو شیخ صاحب جیل میں تھے‘۔

لیکن پی ڈی پی لیڈر نے اصرار کیا کہ شیخ نے جیل سے چھوٹ کر فوج کی آمد پر زبان کیوں نہیں کھولی۔

فوج کی نکتہ چینی کرنے پر ایوان میں بی جے پی ممبران نے شور مچایا اور انصاری کے خلاف فقرے کسے۔ بی جے پی، جس کے ایوان میں گیارہ ارکان ہیں، کے سربراہ اشوک کھجوریا نے اپنے ردعمل میں کہا کہ’آپ فوجی جوانوں کے خلاف کیوں بولتے ہو۔ جس طرح کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اسی طرح فوج کشمیر میں ہماری سلامتی کا اٹوٹ انگ ہے۔ یہ لوگ ہماری رکشا کرتے ہیں ، بھارت کی رکھشا کرتے ہیں‘۔

بی جے پی نے اسمبلی سپیکر سے درخواست کی کہ وہ افتخار انصاری کے فوج کے خلاف ریمارکس کو ریکارڑ سے حذف کرلیں۔ اس پر سپیکر محمد اکبر لون نے کہا کہ ’انصاری نے فوج کے خلاف کچھ نہیں بولا، وہ تو ایک سچویشن بیان کررہے تھے‘۔