بی جے پی کے جہاز میں کئی سوراخ ہیں

یشمونت سنہا
،تصویر کا کیپشنیشمونت سنہا بھی پارٹی سے ناراض ہیں اور اعلی قیادت سے خوش نہیں
    • مصنف, سنجیو شریواستو
    • عہدہ, بی بی سی، دلی
  • وقت اشاعت

بھارتیہ جنتا پارٹی کا جہاز جیسے طوفان میں پھنس گیا ہے۔ کپتان اور اس کی ٹیم پانی کو اندر گھسنے سے روکنے کے لیے سراخ بند کرتے ہیں تو پانی اندر آنے کا کوئی دوسرا راستہ ڈھونڈ لیتا ہے۔

پہلے راجھستان اور وسندھرا راجے، پھر اس کے بعد جسونت سنگھ، پھر سدھیندر کلکرنی اور اب ارون شوری، اب آگے نہیں معلوم پارٹی سے کون جائےگا۔

ہندوستانی سیاست میں اس طرح کے طوفان کوئی نہیں بات نہیں ہے۔ جس پارٹی کے پاس سو سے زیادہ ممبر پارلیمان ہوں، مین اپوزیشن پارٹی ہو، اور کئی ریاستوں میں اقتدار میں ہو۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حالت جتنی بھی خراب لگ رہی ہوئی ہو لیکن اس کا جہاز آسانی سے ڈوبنے والا نہیں ہے۔

پارٹی میں اصلی پریشانی اس وقت ارون شوری، وسندھرا راجے اور جسونت سنگھ کی جانب سے پارٹی کی مخالفت کرنا نہیں ہے بلکہ پارٹی میں قیادت اور پارٹی کو صحیح راہ دینے والی کی کمی ہے۔

ارون شوری
،تصویر کا کیپشنبی جے پی اب ارون شوری کے خلاف کارروائی سے بچ رہی ہے

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے پارٹی کا موازنہ مغلیہ راج کے آخری مرحلے سے کیا اور کہا کہ سلطنت کی سرحدیں تو مٹتی جارہییں پر لگتا ہے کہ بچے کچھے عہدوں کے لیے پارٹی نے آپس میں ہی بندر بانٹ کررکھا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی پر نظر رکھنے والے اور بعض پارٹی کے ممبران کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں اس وقت چھ ممبران کا ایسا گروپ ہے جن میں سے بعض کی جنتا کے درمیان کوئی پہنچ نہیں ہے اور جن کی تھوڑی بہت پہنچ ہے بھی ان کے سیاسی قد میں قدر کمی آئی ہے۔

ان میں سب سے قابل ذکر نام لال کرشن آڈوانی کا ہے۔ آڈوانی نے پارٹی کو بنانے میں جو کردار ادا کیا ہے اس سے تو ناقدین بھی انکار نہیں کرسکتے ہیں۔

لیکن اس سے بات سے ان کے چاہنے والے بھی انکار نہیں کرسکتے ہیں کا آڈوانی پارٹی کا مستقبل نہیں ہوسکتے ہیں۔ اب تو آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے یہ کہہ دیا ہے کہ آڈوانی اپوزیشن کے لیڈر بنے رہیں۔

آر ایس ایس کا اشارہ صاف ہے آڈوانی پارٹی کو نئی راہ دیکھانے کام تو نہیں کرسکتے ہیں۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیر رہنما اڈوانی بھی حالات پر قابو پانے میں بے بس ہیں

کبھی سیاست کی ٹائمنگ کا ماہر سمجھے جانے والے آڈوانی جی کو بھی وقت کا اشارہ سمجھنا چاہیے اور نئے نوجوان لیڈروں کو آگے آنے کا موقع دینا چاہیے۔

سشما سوراج جنہیں پارٹی کا ایک طبقہ پوپیولر لیڈر اور بہترین ترجمان کے طور پر دیکھتا ہے پر ہریانہ سے تعلق رکھنے والی اور دلی کو اپنا گھر بنانے والی سشما سوراج کو انتخابات مدھیہ پردیش سے لڑنا پڑتا ہے۔

ارون جیٹلی جنتا سے تو کیا پارٹی کے ممبران سے بھی سیدھے منھ بات نہیں کرتے ہیں۔ وہ بعض ٹی وی چینلز کے ذریعے ملک سے مخاطب ہوتے ہیں اور انتخابات لڑنے سے انہیں خاص پرہیز ہے۔

پارٹی میں بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ پارٹی کی نئی قیادت کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس کو ان ریاستوں کی طرف رخ کرنا چاہیے جہاں ان کی پارٹی دوبارہ جیت کر آئی ہے۔ مثلا گجرات اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستیں۔

قیادت تو ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن اس سے بڑی بات ہے کہ پارٹی اب سیلف انٹروسپیکشن کرے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس میں بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ 2009 انتخابات کے نتائج کا سب سے ایماندار اور پارٹی کے لیے پارٹی کے لیے سیاست کے نکتہ نظر سے خطرناک خلاصہ یہ ہے کہ اس کا ووٹ بینک واپس کانگریس کی طرف جارہا ہے۔

بی جے پی کے سپورٹرز کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت کے مسئلے پر سے دھیان ہٹانے کے لیے کبھی جسونت سنگھ تو کبھی ارون شوری پر اپنا دھیان مرکوز کرتی رہتی ہے اس سے پارٹی کا فائدہ نہیں ہوگا۔