متوازی سنیما اور ملٹی پلیکس کلچر

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
- وقت اشاعت
ملٹی پلیکس کلچر کے دور میں دیہات اور گاؤں میں بسے کسانوں کی زندگی پر مبنی فلم 'کسان ' جو اٹھائیس اگست سے نمائش کے لیے پیش ہو رہی ہے، کیا ناظرین کو اپنی جانب راغب کر سکے گی؟
کیا ملٹی پلیکس کلچر نے سنجیدہ اور متوازی سنیما کو نقصان پہنچایا ہے اور اب ان کی جگہ محض بے مقصد کامیڈی اور ایکشن فلموں نے لے لی ہے؟ یہ بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
کسان فلم کی کہانی دیہاتی زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔ اس میں کسانوں سےجڑے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش ہے لیکن کیا یہ موضوع ملٹی پلیکس میں فلم دیکھ رہے ناظر کو اپنی جانب راغب کر سکے گا؟ سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایت میں بنی ' بلیک' جیسی فلم جسے بے شمار ایوارڈ ملے اس میں امیتابھ بچن سے زیادہ رانی مکھرجی کی اداکاری کی تعریف ہوئی لیکن یہ فلم شروع میں باکس آفس پر فلاپ ہوئی تھی کیونکہ اس کا موضوع ناظرین کو بہت خشک اور بور سا لگا تھا۔
جب سے انڈیا میں ملٹی پلیکس کھلے ہیں فلمسازوں نے ان ناظرین کو ذہن میں رکھ کر فلمیں بنانی شروع کی ہیں۔ اب فلموں کا محور یا تو لندن ، امریکہ کناڈا، آسٹریلیا اور بنکاک کی وادیوں میں پنپتا پیار ہوتا ہے یا پھر بے مقصد کامیڈی اور ایکشن سے بھرپور فلمیں۔
ایسی فلمیں باکس آفس پر زیادہ کامیاب ہوتی ہیں کیونکہ ملٹی پلیکس میں زیادہ تر نوجوان اور امیر طبقہ فلم دیکھنے جاتا ہے اور اس کی وجہ اس کے ٹکٹ کے دام ہیں جو ڈھائی سو سے تین سو روپے تک ہوتے ہیں لامحالہ ایک عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ملٹی پلیکس شاپنگ مالز میں بنے ہوتے ہیں اور شاپنگ مالز تک صرف امیر یا اعلی متوسط طبقہ کی ہی پہنچ ہوتی ہے۔
نامور ہدایت کار سدھیر مشرا جن کی فلم ' ہزاروں خواہشیں ایسی ' اور دھاراوی کو سنجیدہ فلم کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے ، بی بی سی سے گفتگو کے دوران کہا کہ ملٹی پلیکس سنیما کے دور کو آپ پاپ کون سنیما کہہ سکتے ہیں کہ آپ تھیئٹر گئے اور پاپ کون لیا اور ہلکے پھلکے مو ڈ میں وقت گزار آئے۔
مشرا کے مطابق زیادہ تر ملٹی پلیکس چونکہ شاپنگ مالز میں ہوتے ہیں اس لیے لوگ اچھے اور خوشگوار موڈ کو بحال رکھنا چاہتے ہیں اس لیے وہ ہر طرح کے ٹینشن سے بھی بچنا چاہتے ہیں۔ لیکن مشرا کا ماننا ہے کہ ملٹی پلیکس کلچر سے سنجیدہ سنیما بنانا بند نہیں ہوا بلکہ ان کے بنانے کی ترکیب بدل گئی ہے کیونکہ ہر فلساز جانتا ہے کہ اگر اسے نفع کمانا ہے تو اسی ملٹی پلیکس سے اسے منافع مل سکتا ہے۔
مشرا اس کے لیے سب سے زیادہ کریڈٹ وشال بھردواج کو دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھردواج زندگی کے تاریک پہلوؤں پر فلم بناتے ہیں، پوری فلم میں ان کی اپنی مرضی چلتی ہے وہ کسی طرح کا فارمولا استعمال نہیں کرتے لیکن اتنی ہی خوبصورتی کے ساتھ اپنی بات کہہ جاتے ہیں ملٹی پلیکس کے ناظرین نہ صرف انہیں پسند کرتے ہیں بلکہ باکس آفس پر اچھی خاصی کمائی ہو جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اداکار فاروق شیخ البتہ مانتے ہیں کہ ملٹی پلیکس کی وجہ سے سنجیدہ اور معنی خیز سنیما کو اچھی جگہ مل گئی ہے۔ شیخ کے مطابق چار فلمیں اگر فارمولا اور بے مقصد کامیڈٰ فلم ہوتی ہے تو ایک فلم سنجیدہ ہوتی ہے اور اسے ملٹی پلیکس میں جگہ مل جاتی ہے۔ انہوں نے انوپم کھیر کی فلم ' کھوسلہ کا گھوسلہ کی مثال دی۔
شیخ کا ماننا ہے کہ انوپم کھیر ہوں یا رجت شرما، سدھیر مشرا ہوں یا وشال بھردواج ان کی فلموں کو اب جگہ ملنے لگی ہے اور ناظرین کا ایک بڑا طبقہ جو سنگل تھیئٹر میں نہیں جاتا ہے وہ ملٹی پلیکس میں ایسی فلمیں دیکھ لیتا ہے۔ شیخ نے وشال کی فلم ' مقبول ' کی مثال دی ان کا ماننا ہے کہ یہ فلم کسی بھی طرح سنجیدہ یا متوازی فلم سے الگ نہیں ہے۔
تاہم یہ ایک حقیقت ضرور ہے کہ ملٹی پلیکس کلچر نے ناظرین کی پسند نہیں بلکہ فلمساز کے فلم بنانے اور کہانی کہنے کے انداز پر اثر ضرور ڈالا ہے۔ ورنہ اگر شیام بینگل آج کے دور میں انکور، نشانت ،منتھن اور منڈی جیسی فلمیں بنانا چاہیں تو وہ وہ اس میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے کیونکہ ان کی فلموں کے لیے خریدار ہی نہیں ملیں گے تبھی تو متوازی سنیما کےخالق بینگل جیسے فلمساز کو ' ویلکم ٹو سجن پور ' جیسی فلم بنانی پڑی۔






















