کشمیرتشدد، دو فوجی ہلاک

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کشمیر
- وقت اشاعت
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں پے در پے تشدد کی دو وارداتوں میں دو نیم فوجی اہلکار ہلاک جبکہ سرکاری فورسز کے چار اہلکاروں سمیت سولہ افراد زخمی ہوگئے۔
پہلے واقعہ میں نامعلوم پستول برداروں نے شہر کے تجارتی مرکز لالچوک میں دو نیم فوجی اہلکاروں کو نزدیک سے گولی مار کر ہلاک کردیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اُسوقت ہوا جب لالچوک میں لوگوں کی خاصی بھیڑ تھی اور شاہراہوں پر گاڑیوں کا تانتا بندھا تھا۔
گولیوں کی آواز سنتے ہی لوگ بھاگنے لگے اور نیم فوجی عملہ کی بڑی تعداد جائے واردات پر پہنچ گئی۔ بعدازاں کاروباروی سرگرمیاں اور ٹریفک دوبارہ بحال ہوگئے۔
سی آر پی ایف کے ترجمان پربھاکر ترپاٹھی نے بتایا : 'سی آر پی ایف کی اٹھاسویں بٹالین کے راج شیکھر اور ملِک ارجُن لالچوک میں ڈیوٹی پر مامورتھے۔ پستول برداروں نے انہیں پیچھے سے گولی مار دی اور وہ وہیں پر ڈھیر ہوگئے۔ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔'
اس واقعہ کے کچھ دیر بعد بتہ مالو میں واقع جموں کشمیر پولیس ہیڈکوارٹر کے صدردروازہ کے قریب ایک بم دھماکہ ہوا جس میں دو نیم فوجی اہلکار، دو پولیس والے اور بارہ راہگیر زخمی ہوگئے۔
پولیس حکام کا ماننا ہے کہ لالچوک اور بتہ مالو میں ہوئے حملہ مسلح افراد کے ایک ہی گروپ نے کئے ہیں۔
واضح رہے چند ہفتے قبل اسی نوعیت کے ایک حملے میں ایک پولیس اہلکار بتہ مالو کے قریب ہلاک ہوگیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رمضان کے مہینے میں تشدد کی یہ پہلی کاروائی ہے جو شہر کے بیچوں بیچ رونما ہوئی ہے۔ تاہم اس دوران دوردراز علاقوں میں فوج اور پولیس مسلح افراد کے ساتھ متصادم ہوتے رہتے ہیں۔
مسٹر ترپاٹھی نے آئندہ ایام میں ایسے مزید حملوں کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے : 'امسال تو مارچ سے ہی دراندازی کا عمل جاری ہے۔ وہ مارے بھی جاتے ہیں ، لیکن سارے سارے بھی نہیں مارے جاتے ۔ کچھ لوگ تو بچ نکلتے ہیں اور وادی کے مختلف علاقوں میں دہشت پھیلاتے ہیں۔وہ تو ایسا کریں گے، لیکن ہم حالات پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔'
قابل ذکر ہے کہ وادی میں سرگرم تمام مسلح تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے ایک بیان میں عوامی نقل و حمل کی جگہوں اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ہتھ گولے پھینکنے پر پابندی عائد کی تھی۔ ممنوعہ لشکر طیبہ نے بھی اپنے بیانات میں واضح کیا ہے کہ اس گروپ کا ہدف صرف اور صرف بھارتی فورسز ہیں نہ کہ عام لوگ۔
لیکن پولیس اور خفیہ اداروں کے اعلیٰ افسران کا اصرار ہے کہ ایسی کاروائیوں میں براہ راست مسلح تنظیموں کا ہاتھ ہے۔
سی آر پی ایف ترجمان کہتے ہیں: 'ہم نے رمضان کے پیش نظر تلاشیوں اور ناکہ بندی کے عمل میں نرمی برتی تھی، لیکن ان لوگوں (مسلح شدت پسندوں) نے اس رعایت کا ناجائز فائدہ اُٹھایا۔'
دریں اثنا لالچوک میں دو سی آر پی ایف اہلکاروں کے قتل کے بعد نیم فوجی عملہ اور پولیس سے وابستہ اہلکاروں نے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے۔ مائسمہ اور لالچوک کے گردونواح میں دکانداروں اور باشندوں نے الزام عائد کیا کہ تلاشی کے بہانے عام لوگوں کی مارپیٹ کی گئی۔
تاہم مسٹر ترپاٹھی کہتے ہیں: 'کوئی زیادتی نہیں ہوئی ہے، جب لوگ زیادتیوں اور مارپیٹ کا رونا روتے ہیں تو حملہ آور کو فرار ہونے کا موقعہ ملتا ہے۔'






















