کولکاتہ: ریلی میں 5 لاکھ، زندگی مفلوج

کولکاتہ ریلی
،تصویر کا کیپشنریلی میں 5 لاکھ افراد نے شرکت کی ہے۔
    • مصنف, سبیر بھومک
    • عہدہ, بی بی سی نیوز کلکتہ
  • وقت اشاعت

ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کے کولکاتہ شہر میں بائیں بازوں کی جماعتوں کی جانب سے ایک ریلی منعقد کی گئی ہے جس میں پانچ لاکھ لوگوں نے حصہ لیا ہے۔ ریلی کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوگئی ہے۔

یہ ریلی کولکاتہ میں 1959 میں ہوئے ' فوڈ مومنٹ' یا چاولوں کی قیمتوں کے اضافے کے خلاف چلی تحریک کی پچاسویں برسی پر ہوئی ہے۔ اس تحریک کے دوران پولیس فائرنگ میں 8 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس وقت یہ تحریک بائیں بازوں کی جماعتوں نے چلائی تھی۔ اس وقت ریاست میں کانگریس کی حکومت تھی اور اس کی حکومت کے دوران ہونے والی یہ پہلی اتنی بڑی عوامی تحریک تھی۔

پیر کو ہونے والی ریلی کو بائیں بازوں کی جماعتوں کی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

ریلی کا انعقاد شہر کے اسپلاندے میدان میں کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے 21 جولائی کو ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت ترنامول کانگریس نے یہ بھی یہی ایک ریلی کی تھی جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی تھی۔

1959 میں جو تحریک چلی تھی اس کو ' ریلی آف دی ہنگری' یعنی بھوکے کی ریلی کا نام دیا گیا تھا۔ پولیس نے اس ریلی کو روکنے کی کوشش میں گولی چلائی تھی جس میں آٹھ شہری ہلاک ہوئے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ریلی کے ذریعے بائیں بازوں نے بنگال کی نئی نسل کو کانگریس کے دور میں ہونے والے تشدد کی یاد دلانے کی کوشش کی ہے۔

ریاست کے وزیر اعلی بدھا دیب بھٹاچاریا کا کہنا ہے ' پولیس نے غریب اور بھوکے لوگوں پر گولیاں چلائی تھیں۔ کانگریس کی حکومت کا ضمیر نہیں تھا۔ دو دن میں آٹھ لوگوں کو مار دیا گیا تھا'۔

بدھا دیب بھٹاچاریا کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں جس طرح سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اور فصلیں پیدا نہیں ہورہی ہیں اس سے ایک بار پھر غذائی بحران پیدا ہوگیا۔

ریلی میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت سے جہاں بائیں بازوں کی جماعتوں نے عوام میں اپنی مقبولیت کا پیغام دیا ہے وہیں اس ریلی سے عام زندگی مفلوج ہوگئی ہے۔