ہند۔چین کنٹرول لائن پر بڑھتی کشیدگی

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- وقت اشاعت
چین کے فوجی ہیلی کاپٹروں نے ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے لداخ خطے میں حال میں ہندوستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ ہندوستان کی فوج نے اپنے خطے میں چینی ہیلی کاپٹروں کی پرواز کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے اس معاملے کو چینی فوجی حکام کے ساتھ ہونے والی فلیگ میٹنگ میں اٹھایا گیا تھا۔
لیہ سکٹر میں ہند چین حقیقی کنٹرول لائن پر فضائی حدود کی خلاف ورزی کا یہ معاملہ جون کے اواخر میں پیش آیا ہے لیکن ہندوستان کی خبر رساں ایجیسنیوں نے اس کی خبر پیر کے روز دی۔ اطلاعات کے مطابق حقیقی کنٹرول لائن پر تریگ چوٹی کے نزدیک چینی ہیلی کاپٹر ہندوستانی فضا میں پانچ منٹ تک پرواز کرتے رہے اور انہوں نے ڈبہ بند کھانے کی چیزیں بھی زمین پر گرائیں۔
بری فوج کے سربراہ جنرل دیپک کپور نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہو ئے کہا ’اس طرح کی صورتحال اکثر سمت کے تعین میں غلطی سے بھی پیدا ہو جا تی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اس خلاف ورزی کا جواز پیش کر رہا ہوں۔ اس معاملے کو چین کے فوجی حکام کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں اٹھایا گیا تھا ۔‘
معمول کی طرح چین نے اس معاملے پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے ۔
اطلاعات کے مطابق چین کی طرف سے صرف اگست کے مہینے میں حقیقی کنٹرول لائن کی کم از کم چھبیس بار خلاف ورزی ہوئی ہے۔ جولائی کے مہینے میں بھی چینی گشتی فوج کی ٹکڑیاں متعدد بار ہندوستانی علاقے میں داخل ہوئیں اور ہندوستانی فوجیوں کے کیروسن پٹرول اور دیگر ساز وسامان اٹھا لے گئیں ۔
ہندوستانی فوج کا کہنا ہے کہ متعدد مقامات پر حقیقی کنٹرول لائن کے بارے میں دونوں ملکوں کی پوزیشن میں فرق ہے جس کے سبب اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔ لیکن دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر محض کنٹرول لائن پر کنفیوژن سے یہ صورتحال پیدا ہو رہی ہے تو پھر اس طرح کی غلطی ہندوستان کی طرف سے کیون نہیں ہو رہی ہے۔ بعض اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ چین کی طرف سے خلاف ورزیوں میں گزشتہ برس کے مقابلے پچاس فی صد تک کا اضافہ ہوا ہے ۔ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ چین ہندوستان سے اپنے سرحدی تنازعے میں اب اپنا فوجی دباؤ بڑھا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے شمال مشرقی ریاست سکم سے ہند۔چین سرحد پر چینی فوجیوں کی طوف سے گولہ باری کی اطلاعات آئی تھیں۔ یہ گولہ باری دو روز تک جاری رہی۔ چند ہفتےقبل چین کے ایک نیم سرکاری تحقیقی ادارے کی ویب سائٹ پر ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں تجزیہ نگار نے ’ہندوستان کو بیس سے زیادہ ٹکڑوں میں توڑنے‘ کی تجویز پیش کی تھی۔ تجزیہ کار نے چینی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ ملک کے اندر مختلف علیحدگی پسند گروپوں کی مدد کرے۔
دلجسپ بات یہ ہے کہ اس کی وضاحت چین کے بجائے ہنودستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے آئی اور یہ کہاگیا کہ ’یہ چین کا سرکاری موقف نہیں ہے بلکہ یہ ایک تجزیہ کار کا انفرادی خیال ہے۔‘ چین معمول کی طرح اس بار بھی خاموش رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چین اور ہندوستان کے درمیان سرحدی تنازعہ کئی عشروں پرانا ہے۔ چین ہندوستان کی ریاستوں سکم، اروناجل پردیش اور لداخ خطے میں کئی ہزار مربع کلومیٹر زمین پر دعوے کرتا رہا ہے۔ ہندوستان کا بھی بعض علاقون پر دعوی ہے جو چین کے قبضے میں ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعے پر ایک عرصے سے بات چیت ہو رہی ہے لیکن بظاہر اس بات چیت میں کو ئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ چند مہینے قبل چین نے ہندوستان کی صدر مملکت پرتبھا پاٹل کے اروناچل پردیش کے دورے کی مخالفت کی تھی۔ چین نے عالمی بینک کی ایک امدادی پروجکٹ کی بھی مخالفت کی تھی جس میں امدادی فنڈ کی رقم اروناچل پردیش کے ایک پروجکٹ پر صرف کی جاتی ۔
سلامتی کے امور کے ماہر سی راجہ موہن کہتے ہیں کہ دلائی لامہ اور ان کی سرگرمیاں چین کے لیے مسلسل سر درد بنی رہی ہیں اور ہندوستان کی طرف سے ان کی حمایت سے تعلقات میں تلخی آئی ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں ’چین ایک بڑی اقتصادی قوت ہے اور تعلقات اس حد تک کشیدہ نہیں ہو سکتے کہ کسی فوجی ٹکراؤ کا سبب بن جائیں ۔‘
پیر کو سبکدوش ہونے والے بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سریش مہتہ نے چند ہفتے قبل ہندوستان کی حکومت کو آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا ’چین اقتصادی طور پر طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ سرحدوں کے معاملے مین ہندوستان پر اپنا دباؤ بڑھاتا جائےگا‘۔انہوں نے کہ یہ بھی کہا تھا کہ فوجی اعتبار سے ہندوستان چین سے بہت پیچھے ہے اور یہ فی الوقت اس کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ ایڈمرل مہتہ نے کہا ’دفاعی اعتبار سے ہماری پوری توجہ پاکستان پر رہی ہے لیکن اب ہمیں پاکستان کے بجائے چین پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔‘
گزشتہ ہفتے نئی دلی میں ہندوستان کے سفیروں اور سینیر سفارتکاروں کی میٹنگ میں بھی چین کے بڑھتے ہو ئے دباؤ اور اس کا سامنا کرنے کے پہلوؤں پرغور و خوض کیا گیا ہے ۔
گزشتہ مہینوں میں چین اپنے سرحدی دعووں پر کبھی مضمون، کبھی بیانات تو کبھی سرحدی خلاف ورزیوں کی شکل میں زور دیتا رہا ہے۔ ہندوستان کی حکومت ان واقعات کو زیادہ اجاگر نہ کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ ہند۔ین تعلقات کے ضمن میں سب کچھ معمول پر ہے۔ لیکن ان واقعات سے ملک کے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں واضح طور پر بے چینی کے آثار ہیں۔ ان بے چینیوں کو بھرت ورما جیسے دفاعی تجزیہ کاروں کے خیالات سے مزيد تقویت پہنچی ہے۔ دفاعی جریدے ’انڈین ڈیفنس ریویو‘ کے مدیر بھرت ورما نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ چین کو اپنی طاقت کے مظاہرے کے لیے ایک عسکری فتح کی ضرورت ہے اور ’وہ ایشیا پر اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے ہندوستان پر عنقریب حملہ کر سکتا ہے۔‘ ہندوستان کی حکومت اس طرح کے تصورات کو ابھی تک مسترد کرتی رہی ہے لیکن اب وہ بھی بدلتے ہو ئے جالات میں چین کے حوالے سے ایک طویل مدتی حکمت عملی وضع کرنے میں مصروف ہے ۔






















