'وہ ایک عظیم لیڈر تھے'

وائی ایس آر ریڈی
،تصویر کا کیپشنوائی ایس آر ریڈی کی موت پر برطانیہ اور امریکہ نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وقت اشاعت

آندھرا پردیش کے وزیر اعلی وائی ایس آر راجشیکھر ریڈی کی موت پر مختلف سیاسی پارٹیوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ملک کی سیاسی پارٹیوں کے علاوہ برطانیہ اور امریکہ نے بھی تعزیاتی پیغام میں افسوس کا اظہار کیا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ راجشیکھر ریڈی کی موت آندھرا پردیش ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سینئر لیڈر اے بے وردھن نے کہا ہے کہ حالانکہ انکے راجشیکھر ریڈی سے نظریاتی اختلافات تھے لیکن انکی موت ایک افسوسناک حادثہ ہے۔

آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلی اور تیلگودیشم پارٹی کے صدر چندر بابو نائیڈو نے راجشیکھر ریڈی کو دوست بتایا اور کہا کہ انکی موت سے انہیں صدمہ پہنچا ہے۔

مجلس اتحادلمسلیمین کے صدر اور ممبر پارلیمان اسد اویسی نے راجشیکھر ریڈی کو زمین سے جڑا شخص بتایا اور کہا کہ وہ انکے اچھے کام کی عزت کرتے ہیں۔

ادھر امریکہ کی طرف سے راج شیکھر ریڈی کی موت پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ بھارت میں امریکہ کے سفیر ٹموتھی جے رومر نے تعزیاتی پیغام میں کہا ہے کہ راجشیکھر ریڈی بھارت اور امریکہ کے درمیان دوستی کے حامی تھے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ آندھرا پردیش اور امریکہ کے لوگوں کے درمیان مضبوط اقتصادی اور دوستانہ رشتے تھے۔

بھارت میں برطانوی سفیر سر رچرڈ سٹیگ نے کہا کہ راج شیکھر ریڈی کے دور اقتدار میں برطانوی حکومت اور آندھرا پردیش نے مل کر کام کیا ہے۔

کانگریس کی لیڈر رینوکا چودھری کا کہا ' ہم امید کررہے تھے کہ انکا ہیلی کوپٹر اگر حادثے کا شکار ہوا بھی ہو لیکن ریڈی بچ جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس حادثے سے ہمیں بھاری نقصان ہوا ہے۔'