عمرعبداللہ کے سیاسی مستقبل پر ایک نظر

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کشمیر
- وقت اشاعت
عبداللہ خانوادے کے تیسرے حکمران عمرعبداللہ جموں کشمیر میں ’چینج‘ یعنی انقلاب لانا چاہتے ہیں۔کشمیر میں سیاسی نظریات کی تقسیم کے پیش نظر یہ مبہم نعرہ کسی بھی ہند نواز رہنما کے لیے مضر نہیں ہے۔ کیونکہ جہاں لوگ باسٹھ سالہ ناانصافی اور غیریقینیت کی صورتحال میں تبدیلی چاہتے ہیں وہیں حکومت ہند یا ان کے نمائندے بھی پچھلے بیس سال سے جاری شدت پسندی کی صورتحال کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
پانچ جنوری کو جب عُمرعبداللہ نے بھارت کے سب سے کم عمر وزیراعلیٰ کی حیثیت سے جموں کشمیر کا اقتدار سنبھالا، تو انہوں نے اپنے ’چینج‘ سلوگن کی وضاحت کیے بغیر کہا کہ وہ جموں کشمیر میں ’گولڈن ایج‘ یعنی سنہرے دور کا آغاز کرنے والے ہیں۔
کیا عمرعبداللہ کشمیر میں اس سُنہرے دور کو ممکن بنانے کے لیے اپنے دادا اور والد سے آگے نکل جائیں گے؟ اس حوالے سے اکثر مبصرین کہتے ہیں کہ عمر عبداللہ کی کامیابی کا راز ان کےاسی’ چینج‘ سلوگن کی تشریح میں مضمر ہے، کیونکہ نئی دلّی اور کشمیری عوام لفظ ’چینج‘سے اپنا اپنا من پسند مطلب نکالتے ہیں۔
کالم نگار جاوید احمد میر کہتے ہیں’بھارت کشمیر میں اپنی پسند کی تبدیلی چاہتا ہے، مگر عام لوگ سمجھتے ہیں بھارتی افواج ریاست سے چلی جائے تو حقیقی تبدیلی آئے گی۔‘
موقر ہفت روزہ ’چٹان‘ کے مدیر طاہر محی الدین کہتے ہیں کہ عمرعبدللہ تو اپنے والد سے بھی زیادہ کمزور وزیراعلیٰ ہیں۔ ’فاروق کے پاس تو دو تہائی اکثریت تھی۔ اس کی حکومت نے جموں کشمیر کی خودمختاری سے متعلق اسمبلی میں قرار داد پاس کی تو نئی دلّی میں اُس وقت کی این ڈی اے سرکار نے اس سے پڑھے بغیر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ حد یہ ہے کہ عمر اُس وقت این ڈی اے سرکاری میں نائب وزیرخارجہ تھے۔‘ مسٹرطاہر مزید کہتے ہیں کہ اگر فاروق اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے باوجود دلّی والوں سے سیاسی رعایت نہیں لے سکے تو عمرعبداللہ ، جن کے پاس سادہ اکثریت بھی نہیں اور جو کانگریس پر پوری طرح منحصر ہیں، رعایت تو دُور اس کا مطالبہ کرنے کی بھی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ شیخ عبداللہ اور فاروق عبدللہ کے کنھدوں پر علیٰحدگی پسندی کا بوجھ تھا۔ یہ دونوں دلّی والوں کو خوش رکھنے کے بغیر اقتدار میں قائم نہیں رہ سکتے تھے۔شیخ نے تو دو دہائیوں تک علیٰحدگی پسند تحریک چلائی اور جیل بھی گئے۔ فاروق پاکستان گئے تھے اور ’آزادی کی سیاست‘ کا حصہ تھے۔ اور پھر پنجاب شورش کے حوالے سے اندرا گاندھی انہیں شک کی نظروں سے دیکھتی تھیں۔ فاروق کے پاس سیاسی طاقت تو تھی، مگر ان کا ماضی دلّی کو قبول نہیں تھا، لہٰذا وہ خوشنودی سیاست کا سہارا لیتے تھے اور اقتدار میں اندھے اصراف کا مرتکب ہوتے تھے۔
اپنے دادا اور والد کے مقابلے میں عمرعبداللہ کے کندھے پر ماضی کا کوئی بوجھ تو نہیں ہے لیکن وہ اپنی سیاسی پسماندگی کے لیے دلّی کی خوشنودی پر مجبور ہیں۔
فاروق عبداللہ کے ہی ایک واقف کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’فاروق ڈرامے باز تھا، عمر سنجیدہ ہے۔ فاروق نے افسروں کو بے حد اختیارات دے رکھے تھے اور خود لندن میں عیش کرتا تھا، لیکن عمرعبداللہ ایسا نہیں کرتے۔ مگر پھر بھی دونوں کی مجبوریاں ایک جیسی ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے۔ فاروق بھی دلّی کے تابعدار تھے اور عمر کو بھی دلّی کا تابعدار رہنا پڑے گا۔بلکہ عمر کو تو زیادہ نرم رہنا ہوگا، کیونکہ ان کی حکومت ہی کانگریس کی مرہون منّت ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ سیاست کے پروفیسر گُل محمد وانی عمرعبداللہ کے بارے میں مختلف سوچ رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’عمر ایک کلین سلیٹ ہے۔ اس نے این ڈی اے سرکاری کے دوران وزیرکی حیثیت سے دلّی میں کافی رسوخ کمایا ہے۔ اس نے بھارت کی نوجوان قیادت کے ساتھ پختہ مراسم پیدا کیے ہیں۔‘ پروفیسر وانی کے مطابق یہی نوجوان قیادت مستقبل کے ہندوستان کی پالیسی مرتب کرے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ ’عمر کانگریس کا ارتقا بھی دیکھ رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح سونیا گاندھی اقلیتوں، پسماندہ طبقوں اور سماج وادی و اشتراکی نظریات کے حامل حلقوں کو قریب لارہی ہیں۔ عمرعبداللہ نے اپنے آپ کو بھارت کی اسی نئی لِبرل پود کا حصہ بنالیا ہے۔ جب تک کانگریس ہے عمرکا اقتدار محفوظ ہے۔‘
لیکن اکثر حساس حلقوں میں یہ سوال گشت کر رہا ہے کہ اگر فاروق کی طرح ہی عمر عبداللہ بھی بہتر حکمرانی کے بجائے حکومت بچانے میں زیادہ مصروف رہے، تو ان کا ’چینج‘ سلوگن کیا نتائج برآمد کرے گا؟
مبصرین کہتے ہیں کہ اُنیس سو ستاسی میں جب علیٰحدگی پسندوں نے ہندنواز سیاست کا رُخ کر کے فاروق عبداللہ کے خلاف الیکشن لڑا تو فاروق کی حکومت نے تاریخی دھاندلیوں کا ارتکاب کرکے نوجوانوں کو بندوق کی طرف دھکیل دیا اور دو سال بعد مسلح شورش برپا ہوگئی۔
عمر عبداللہ پچھلے آٹھ ماہ کے دوران مختلف سیاسی بحرانوں سے جوجھتے رہے ہیں۔ ان کے وزیراعلیٰ بنتے ہی فوج اور نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں کئی افراد مارے گئے۔ مظاہرے ہوئے اور مظاہرین پر فائرنگ سے ہلاکیتں ہوئیں۔ بعد ازاں مئی میں شوپیاں کی دو خواتین کا ریپ اور قتل ہوا۔
یہ معاملہ اب ایک معمہ بن چکا ہے۔ اس دوران طویل ہڑتالیں ہوئیں۔ سید علی گیلانی، شبیر شاہ، نعیم خان ، آسیہ اندرابی وغیرہ سمیت قریب ڈیڑھ سو علیٰحدگی پسند کارکن جیلوں میں بند ہیں۔ پتھراؤ کرنے کی پاداش میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایک چودہ سالہ لڑکے کو وادی سے باہر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے بعد یوں تو اب خاموشی ہے، لیکن مبصرین کی غالب اکثریت اس خاموشی کوعارضی امن کی صورتحال سے تعبیر کرتی ہے۔
تعمیر و ترقی اور روزگار کے وسائل سے متعلق وزیراعلیٰ بہت سنجیدہ ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پوری توجہ سیاسی اشوز کی بجائے تعمیر و ترقی پر ہی دی جائے۔ لیکن کشمیر کے حالات دیرنیہ فوجی جماؤ اور بیس سالہ مسلح شورش کی وجہ سے اس قدر پیچیدہ ہیں، کہ عمرعبداللہ کے لیے ان اقدامات کو حقیقی ’چینج‘ کے بطور پیش کرنا بہت مشکل ہوگا۔






















