کشمیر، ایل او سی پر دراندازی میں اضافہ

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دیپک کپور نے کہا ہے کہ ریاست جموں کشمیر میں سرحد پار سے دراندازی میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ کہ ’سردی شروع ہونے سے پہلے زیادہ سے زیادہ عسکریت پسندوں کو بھیجنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
جنرل کپور نے دلی میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئےکہا کہ ’(برفباری سے پہلے) یہ ایک اہم مرحلہ ہے، وادی میں امن قائم ہے۔۔۔ لہذا سرحد پار سے امن میں خلل ڈالنے اور سردی شروع ہونے سے پہلے زیادہ سے زیادہ عسکریت پسند بھیجنے کی کوشش ہوگی۔‘
خبر رساں اداروں کے مطابق یکم ستمبر کو لائن آف کنٹرول پر پاکستانی افواج کی فائرنگ میں ایک بھارتی فوجی ہلاک ہوا تھا جو امسال فائر بندی کی خلاف ورزی کا پہلا واقعہ تھا۔
جنرل کپور نے کہا کہ ’وہ دھیان ہٹانے کے لیے فائرنگ کرتے ہیں۔ فائرنگ کے دوران وہ جتنی تعداد میں چاہیں عسکریت پسندوں کو ہمارے علاقے میں بھیج سکتے ہیں۔ لیکن ہم ان کی اس حکمت عملی کو سمجھتے ہیں اور اس سے نمٹنے کے لیے تدابیر کر رہے ہیں۔‘
ہندوستان اور پاکستان نے دو ہزار تین میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا فیصلہ کیا تھا۔
وزیر دفاع اے کے اینٹونی نے حال ہی میں کہا تھا کہ سن دو ہزار چھ سے کشمیر میں فائر بندی کے ایک سو دس واقعات ہوئے ہیں۔
جنرل کپور نے کہا کہ جب بھی فائر بندی کی خلاف ورزی ہوگی تو ہم جوابی کارروائی کریں گے۔ ’ہم زیادہ سے زیادہ صبر و تحمل سے کام لینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کسی نہ کسی مرحلے پر ہمیں جوابی کارروائی کرنا ہی پڑتی ہے۔‘


















