’پاکستان کے میدان ویران نہ ہوں‘
سری لنکا کی ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان کے سابق کرکٹر کی پاکستان میں کرکٹ کے مستقبل پر رائے:
انضمام الحق

حالیہ برسوں میں غیر ملکی ٹیمیں سکیورٹی خدشات کے سبب پاکستان آکر کھیلنے سے انکار کرتی رہی ہیں اور سری لنکا کی ٹیم کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد میں نہیں سمجھتا کہ کافی عرصے تک کوئی ٹیم پاکستان آنے کے بارے میں سوچے گی۔
یقیناً یہ پاکستانی کرکٹ کے لیے کٹھن وقت ہے اور آنے والے دن مزید مشکل ہوسکتے ہیں جس کے لیے پاکستانی کرکٹ کو تیار رہنا چاہیے۔ پاکستان کے پاس اب صرف دو راستے رہ گئے ہیں کہ وہ اپنی بین الاقوامی کرکٹ نیوٹرل گراؤنڈز پر کھیلے اور غیرملکی دوروں پر انحصار کرے اسی صورت میں ہمارے کرکٹرز کو انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کو مل سکے گی جو پہلے ہی حالات کے سبب زیادہ کرکٹ کھیلنے سے قاصر رہے ہیں۔
پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بہت زیادہ مالی نقصان بھی ہوگا لیکن مجھے جو بات زیادہ پریشان کر رہی ہے وہ ہے ورلڈ کپ۔ اگر آئی سی سی بین الاقوامی دباؤ میں آکر ورلڈ کپ کی میزبانی سے پاکستان کو محروم کرتی ہے تو یہ انتہائی افسوسناک بات ہوگی۔
ظہیر عباس
لاہور دہشت گردی نے سفید فام ٹیموں کو یہ کہنے کا موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ سکیورٹی کے جن خدشات کا اظہار کرتے تھے وہ بے بنیاد نہیں تھے۔ اس واقعے کے بعد پاکستان میں کھیلوں خصوصاً کرکٹ کی بین الاقوامی سرگرمیاں ختم ہوگئی ہیں۔ پاکستانی کرکٹ کو اس صورتحال سے نکلنے میں کافی وقت لگے گا۔ میرے خیال میں ٹاپ لیول کی کرکٹ پاکستان میں دو سال سے پہلے شروع نہیں ہوسکے گی لیکن اس کا انحصار بھی حالات کی بہتری پر ہوگا۔
وسیم اکرم

لاہور میں سری لنکا کے کرکٹرز کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ قابل مذمت ہے۔ اس واقعے کے دوررس اثرات پاکستانی کرکٹ پر مرتب ہوں گے۔ غیر ملکی ٹیمیں پہلے ہی پاکستان آنے کے لیے تیار نہیں تھیں اور آئی سی سی کو چیمپئنز ٹرافی بھی پاکستان سے منتقل کرنی پڑی تھی۔ اس واقعے کے بعد کم از کم دوسال تک یہاں بین الاقوامی کرکٹ ہوتی نظر نہیں آتی اور سب سے اہم بات یہ کہ 2011ء میں ورلڈ کپ کا انعقاد بھی مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
رمیز راجہ
پاکستانی کرکٹ اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے۔ جو کچھ ہوا ہے اس کے اثرات یقیناً منفی ہیں اور اس میں تبدیلی فوراً ممکن نہیں لیکن ساتھ ہی اس مرحلے پر اگر پاکستانی کرکٹ کو کسی دباؤ میں آکر تنہا چھوڑا گیا تو یہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی کرکٹ کا بھی نقصان ہوگا۔
پاکستان میں چودہ ماہ بعد بین الاقوامی کرکٹ کھیلی گئی تھی اور یونس خان کی ٹرپل سنچری کی شکل میں عالمی سطح پر ایک خوشگوار تاثر قائم ہوا تھا مگر سب کچھ پیچھے چلا گیا ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دہشت گردی اس وقت ایک عالمگیر مسئلہ ہے اور اسے صرف پاکستان کا مسئلہ قرار دے کر ورلڈ کپ کی میزبانی چھین لینا یا انٹرنیشنل کرکٹ سے اسے محروم کر دینا زیادتی ہوگی۔
آئی سی سی اور تمام کرکٹ بورڈز کو اس صورتحال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے تاکہ یہاں کے میدان ویران نہ ہوں۔ خاص کر بھارتی کرکٹ بورڈ پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ بیشک اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں لیکن بی سی سی آئی کو اس مشکل وقت میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔
جاوید میانداد

آئی سی سی اور کرکٹ کھیلنے والے ممالک اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ دہشت گردی کی لپیٹ میں صرف پاکستان ہے تو وہ غلطی پر ہیں۔ آئی پی ایل کے دوران بھارت میں دھماکے ہوئے۔ اٹلانٹا اولمپکس اور میونخ اولمپکس کے دوران دہشت گردی اور بم دھماکے ہوئے۔ ٹینس کورٹ میں کھیلتے ہوئے مونیکا سیلس پر چاقو سے حملہ کیا گیا۔ انگلینڈ میں دھماکوں کے باوجود آسٹریلوی ٹیم وہیں موجود تھی۔ اس طرح کے کئی واقعات موجود ہیں لیکن کسی میں بھی یہ نہیں ہوا کہ کھیل متاثر ہوئے ہوں۔
پاکستان میں صورتحال یقیناً اچھی نہیں رہی ہے لیکن اس کے نتیجے میں بین الاقوامی کرکٹ کو روک دینا درست نہیں ہوگا۔






















