نظامِ عدل یا ’بندوق‘ ریگولیشن

’جتنی شدت سے سیکولر اور لادین طبقہ طالبان اور اسلامی مدارس کو ختم کرنے کے درپے ہے اتنی ہی شدت سے طالبان ان لوگوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔ اور ان دونوں شدت پسندوں کے درمیان پس رہے ہیں بیچارے غریب عوام۔‘
یہ رائے ہے ایک قاری کی جس نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے فورم ’طاقت کا استعمال یا مذاکرات‘ میں حصہ لیا۔
فورم میں پاکستان کے سرحدی علاقے میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال اور شدت پسند کارروائیوں کے تناظر میں لوگوں کی رائے پوچھی گئی تھی کہ کیا طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے بعد حکومت فوجی کارروائی کرنے میں حق بجانب ہے؟ کیا بات چیت کا وقت گزر گیا ہے یا اب بھی طالبان سے بات چیت ممکن ہے؟
اس فورم میں لوگوں کی مختلف آراء دیکھنے میں آئیں۔ کسی نے کہا کہ طالبان کا خاتمہ ہونا چاہیئے تو کسی نے مذاکرات کو اس کا حل بتایا۔ اگر کوئی نظام عدل کو پورے ملک میں پھیلانے کا متمنی ہے تو دوسرا اسے نظامِ عدل ریگولیشن نہیں بلکہ ’بندوق ریگولیشن‘ کہہ رہا ہے۔ لیکن پھر بھی زیادہ تر کی رائے ہے کہ حکومت نے سوات امن معاہدے اور نظامِ عدل ریگولیشن پر دستخط کر کے ثابت کر دیا تھا کہ وہ ان علاقوں میں امن قائم کرنے میں سنجیدہ ہے لیکن طالبان نے جب اپنی شدت پسندانہ کارروائیاں تیز کر دیں اور لوگوں کو ڈرانا دھمکانا بند نہ کیا تو مجبوراً حکومت کو اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے فوجی کارروائی کرنا پڑی اور اسے شر پسند عناصر کے مکمل خاتمے تک جاری رہنا چاہیئے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے باغ سے عبدالحمید لکھتے ہیں کہ ’مذاکرات کی ميز ان کو راس نہ آئی تو گِلہ کيسا۔ اسلحہ ليے گھومنا اور سر عام لوگوں سے ظلم، لاشوں کو قبروں سے نکال کر چوراہوں ميں لٹکانا يا قبروں پر دھماکے کرنا۔ کون سا دين ہے یہ۔ ہمارے مذہب اسلام نے دوسروں کے مذہب کے احترام کا حکم ديا ہے۔ ان حالات ميں سختی سے نمٹنا حکومت کی مجبوری بن گئی ہے۔‘
کچھ یہی سوچ رائے کراچی کی ماریہ خان کی بھی ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ صوبہ سرحد ميں جاری کشيدگی کا انجام طاقت کا استعمال ہی ہے۔ ’يہ کہنا کہ مذاکرات کے تحت اس مسئلے کا پر امن حل نکالا جائے تو اس کا نتيجہ ہم عدل ريگوليشن کی منظوری کی صورت ميں ديکھ چکے ہيں۔ سوال يہ ہے کہ طالبان اسلحے کے زور پر کون سا اسلام نافذ کرنا چاہتے ہيں؟‘
تاہم ایک مکتبہ فکر یہ بھی کہتا ہے کہ یہ سب کچھ غیر ملکی 'آقاؤں‘ کے کہنے پر کیا جا رہا ہے۔
خضدار سے مہران حسنی لکھتے ہیں کہ 'سب سے پہلے آپ يہ ديکھیں کہ پاکستان کے حکمران کتنے فيصلے خود کرتے ہيں۔ آيا فاٹا کا جو آپريشن ہے اس کو يہ اپنی مرضی سے کر رہے ہيں يا کسی اور سے ڈکٹيشن ليتے ہيں۔ ميرے خيال ميں ان کو اپنی مرضی سے مکھی مارنے کی بھی اجازت نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسلام آباد سے عادل پرویز لکھتے ہیں کہ سوات میں امن معاہدے کے بعد طالبان نے بونیر، دیر اور شانگلہ جا کر غلطی کی لیکن حکومتی انتباہ کے بعد طالبان واپس سوات تک محدود ہونے پر تیار ہوگئے تھے۔ ان کا خیال ہے کہ طالبان نے علماء کو نظام عدل کے معاہدے میں ضروری ترامیم کی اجازت بھی دے دی تھی لیکن اب کچھ قوتیں پھر خون خرابہ چاہتی ہیں۔ ’وہ حکومت سے کہہ رہی ہیں کہ آپریشن کیا جائے، لال مسجد کے معاملے میں بھی یہی ہوا، لال مسجد والوں نےآخری وقت میں حکومت کی ساری شرائط مان لی تھیں لیکن بعض قوتوں نےآپریشن کا فیصلہ کیا جس کا نتیجہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔‘
تاہم ایک قاری شہزادی خان کا خیال ہے کہ حکومت کو مذاکرات سے کام لينا چاہيے۔ فوجی آپريشن کا اثر ملک کے ديگر شہروں ميں خودکش حملوں کی صورت ميں ہوتا ہے جس سے ملک کا امن مزيد خراب ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف ہیوسٹن، امریکہ سے کامران لکھتے ہیں کہ خود کش حملوں کے خوف سے طالبان کو گلے کاٹنے کی چھوٹ دينا بزدلی اور بيوقوفی ہے اور طالبان کو پورے ملک پر قبضے کی دعوت دينے کے مترادف ہے۔ طالبان کا واحد علاج فوج کے مؤثر آپريشن کے ذريعے خاتمہ ہے۔ لہذا دير آئيد درست آئيد۔
اسی طرح ایک قاری لکھتے ہیں کہ تين دہايوں تک بوئی جانے والی فصل ايک دن ميں نہيں کاٹی جا سکتی۔ دہشتگردوں کے خلاف حکومت کو ايک مستقل پاليسی بنانی چاہيے۔ طاقت کا استعمال اس پاليسی کا ايک حصہ ہے۔ سياسی اور علمی جنگ بھی پاليسی کا خاص حصہ ہونا چاہيے۔
قارئین کی خطوط میں جو ایک دلچسپ بات سامنے آئی وہ یہ ہے کہ سوات اور دیگر علاقوں میں شدت پسندانہ کارروائیوں اور اس کے جواب میں فوجی کارروائی کا ذمہ دار سابق صدور جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کو قرار دیا جا رہا ہے۔ بہت سے قارئین کا خیال ہے کہ پاکستان میں درپیش مسائل کے ذمہ دار وہ دونوں ہیں۔
سعودی عرب سے عبدالباسط لکھتے ہیں کہ ’جب تک مشرف كے پاليسياں جارى رہيں گى، ملک ميں اسى طرح خون ريزى ہوتی رہے گی۔‘ اور وحیدعبدالوحید کے خیال میں ’دراصل يہ پھل ہيں 'ضيائی مدرسوں‘ کے‘۔






















