علی گڑھ میں ووٹنگ

جمعرات سات مئی کو انڈیا کے شہر علی گڑھ میں پولنگ ہوئی۔ علی گڑھ سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے قاری ڈاکٹر اسد فیصل فاروقی نے اس دن اپنا ووٹ ڈالا اور اپنے تجربات اور چند تصاویر ہمیں بھیجی ہیں:
سات مئی، علی گڑھ
آج ووٹنگ کی شروعات صبح سات بجے ہوئی لیکن ووٹر ندارد۔ دس بجے تک جہاں اور دنوں کے مقابلے موسم بہتر تھا اور امید کی جا رہی تھی کہ ووٹر اچھی تعداد میں ووٹ ڈالنے آئیں گے، مگر ایک بار پھر ووٹروں نے اپنا زوق نہیں دکھایا اور ووٹنگ بوتھ پر لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو نہیں ملیں۔ جو لوگ آئے تھے ان میں خواتین کی اچھی تعداد نظر آئی۔ سکیورٹی کے انتظامات زیادہ سخت نہیں تھے۔ پچھلے مرحلے میں کم ووٹنگ کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے پولنگ بوتھ پر گاڑیوں کو آنے کی اجازت دے دی تھی، تاکہ بزرگوں اور خواتین کو پولنگ بوتھ تک آنے میں پریشانی نہ ہو۔
جب میں دس بجے پولنگ بوتھ سٹیشن پر پہنچا تو وہاں پر کوئی گہما گہمی نہیں تھی اور پوری طرح سناٹا چھایا ہوا تھا۔ میرے آگے صرف ایک بزرگ اور میرے پیچھے ایک نوجوان۔ بوتھ سے باہر نکلا کو کچھ گہما گہمی نظر آئی۔ کچھ لوگ شناختی کارڈ ہونے کے باؤجود اس وجہ سے ووٹ ڈالنے سے رہ گئے کیونکہ نئی حدبندی کی وجہ سے ووٹنگ لِسٹ میں انکا نام نہیں تھا، یا پھر ان کا پولنگ سٹیشن گھر سے خاصا دور تھا۔ بہت سے ووٹر اپنے نام کو ڈھونڈتے نظر آئے۔ کچھ نے مایوس ہو کر اور کچھ نے اپنی خفگی کا اظہار کرتے ہوئے گھر کی راہ لی۔ پر کچھ لوگ جانے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے الیکشن میں انہوں نے اور ان کے گھر والوں نے یہیں ووٹ ڈالے ہیں۔ لیکن اس بار ان کا نام لِسٹ میں نہیں ہے۔
لوگوں سے بات کرکے ایسا لگا کہ علی گڑھ ذات پر تقسیم ہو چکا ہے۔ ووٹر یا تو خاموش ہیں یا پھر پارٹی کو نظرانداز کرکے بڑی حد تک ذات پر تقسیم ہو چکے ہیں، اور اپنی ذات کے امیدوار کو جتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

محلہ امیرانشاہ کے نوجوان ووٹر مسٹر پِنٹو کانگریس کی تعریف کرتے ملے۔ ’آج جب پوری دنیا کے معاشی حالات بگڑتے جا رہے ہیں اور بیرون ممالک بشمول امریکہ سے نوکریاں ختم کی جا رہی ہیں، کانگریس کی اقتصادی پالیسیاں ہی انڈیا کو ترقی یافتہ ملک بنا سکتی ہیں، کیونکہ ان کے پاس پانچ سال کا تجربہ اور اچھے ماہر اقتصادیات ہیں جو این ڈی اے کے پاس نہیں ہیں۔‘
ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ووٹنگ میں حصے نہ لینے پر وارڈ 58 کے کاؤنسلر مسٹر لدن پریشان نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے پسندیدہ امیدوار منتخب نہیں ہو پاتے۔ ’سمینار یا گھر میں بیٹھ کر سیاسی مباحثے میں بی جے پی یا دیگر فرقہ پرست قوتوں کو ہرانے سے بہتر ہے کہ میدان میں آکر بڑی تعداد میں ووٹ ڈال کر ان طاقتوں کو اقتدار سے دور رکھا جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طبِ یونانی کے طالب علم سید ارشد علی چاہتے ہیں کہ سماجوادی پارٹی کے ظفر عالم فاتح ہوں۔ ’اس بار کانگریس اور سماجوادی پارٹی دونوں نے بہتر امیدواروں کو ٹکٹ دیا، مگر میں نے ظفر عالم کو ووٹ دیا۔ کیونکہ علی گڑھ کی تاریخ میں ساٹھ سال بعد ہمیں دوسری بار یہ موقع ملا ہے کہ ہم کسی مسلم کو علی گڑھ سے پارلیمان کا نمائندہ منتخب کر سکیں۔ مجھے افسوس ہے کہ ووٹنگ کم ہو رہی ہے۔ پر پھر بھی،
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی ہے تو ہے‘






















