’سعودی حکومت نے وعدہ پورا نہیں کیا‘

حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والے گروپ ہیومن رائٹس واچ نے سعودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ خواتین کے لیے مرد نگہبان کی موجودگی کی روایت ختم کرنے کا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اس نظام کے تحت سعودی خواتین کو روزمرہ کے کاموں کے لیے بھی مردوں کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اب بھی سعودی خواتین کو اپنے مرد نگہبان کی اجازت کے بغیر سفر کرنے یا علاج معالجے کی سہولیات حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام خواتین کے لیے نگہبانی کی ضرورت پر زور نہیں دیتا اور وہ اس روایت کے خاتمے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ تاہم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سعودی حکومت کو یہ روایت ختم کرنے کی کوششوں کے اعلانات کی بجائے اسے ختم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہیئیں۔
سعودی عرب کی قدامت پسند مذہبی اور بدو روایات میں خواتین کو ایسے مردوں سے دور رکھا جاتا ہے جن سے ان کی کوئی رشتہ داری نہ ہو۔ سعودی معاشرے میں خواتین کی عزت و آبرو کو مرکزی مقام حاصل ہے اور اگر کوئی خاتون روایات سے انحراف کرتی ہے تو سارے خاندان کو شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے۔
سعودی عرب میں عوامی مقامات پر خواتین کو پردہ کرنا لازم ہے، انہیں گاڑی چلانے کی اجازت نہیں اور پینتالیس برس سے کم عمر خواتین کو سفر کے لیے مرد کی اجازت لازم ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کو تعلیم اور روزگار کے لیے بھی مردانہ نگہبانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ تاہم کچھ سعودی خواتین کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس تحفظ کو پسند کرتی ہیں اور انہیں نہیں لگتا کہ اس سے ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔


















