ملک گیر دھرنے کی کال پر ریلیاں

سپریم کورٹ کی جانب سے شریف برادران کی انتخابی نااہلی کے خلاف جمعہ کو مسلم لیگ ن کے ملک گیر احتجاج اور دھرنے کی کال پر ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔
راولپنڈی میں مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں نے شہزاد ٹاؤن کے تھانے کی عمارت کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے مسلم لیگ ن کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کی گاڑی پر ڈنڈے برسائے ہیں جس سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے تھانے کی نئی تعمیر شدہ عمارت پر پتھراؤ کیا جس سے اسے نقصان پہنچا جبکہ وہاں کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
راجہ ظفر الحق کی گاڑی پر 'حملے‘ کا واقعہ لیاقت باغ کے قریب اس وقت پیش آیا جب وہ راولپنڈی میں مسلم لیگ کی احتجاجی ریلی کی قیادت سے قبل بینظیر بھٹو کی یادگار پر پھول چڑھانے کے لیے گئے۔
جب وہ یادگار کے قریب پہنچے تو وہاس پر پہلے سے موجود پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ان کی گاڑی کو گھیرے میں لے لیا اور اس پر ڈنڈے برسائے جس سے گاڑی کو نقصان پہنچا۔ تاہم راجہ ظفر الحق کا ڈرائیور گاڑی کو تیزی سے نکال کر لے جانے میں کامیاب رہا۔
یاد رہے کہ نااہلی کا فیصلہ آنے کے بعد مبینہ طور پر مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے بینظیر بھٹو کی یادگار کو نقصان پہنچایا تھا اور ان کی تصاویر پھاڑ دی تھیں۔ اس واقعے کے بعد اب پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے یادگار پر باقاعدہ پہرہ دینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما اس واقعے میں اپنی جماعت کے کارکنوں کی شمولیت سے انکار کر رہے ہیں اور سینیئر مسلم لیگی رہنما اور رکن اسمبلی چودھری نثار علی کا کہنا ہے کہ یہ ایک سازش ہے جس میں خفیہ ہاتھ ملوث ہے۔
راولپنڈی میں حکام نے مری روڈ کو بند کر دیا ہے جبکہ جی ٹی روڈ پر ریلیاں نکلنی شروع ہو چکی ہیں۔مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف اپنی پارٹی کے اراکین اسمبلی اور کارکنوں کے ساتھ پنجاب اسمبلی کے سامنے مال روڈ پر دھرنا دے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبہ پنجاب میں پولیس کی بھاری نفری کو اہم شاہراہوں اور مقامات پر تعینات کیا گیا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ اگر مظاہرے پرتشدد ہوئے تو پولیس کل کے نرم رویے کے مقابلے میں آج زیادہ سختی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔






















