ملک گیر دھرنے کی کال پر ریلیاں

نواز شریف احتجاجی ریلی
،تصویر کا کیپشننواز شریف احتجاجی ریلی
وقت اشاعت

سپریم کورٹ کی جانب سے شریف برادران کی انتخابی نااہلی کے خلاف جمعہ کو مسلم لیگ ن کے ملک گیر احتجاج اور دھرنے کی کال پر ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔

راولپنڈی میں مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں نے شہزاد ٹاؤن کے تھانے کی عمارت کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے مسلم لیگ ن کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کی گاڑی پر ڈنڈے برسائے ہیں جس سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے تھانے کی نئی تعمیر شدہ عمارت پر پتھراؤ کیا جس سے اسے نقصان پہنچا جبکہ وہاں کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

راجہ ظفر الحق کی گاڑی پر 'حملے‘ کا واقعہ لیاقت باغ کے قریب اس وقت پیش آیا جب وہ راولپنڈی میں مسلم لیگ کی احتجاجی ریلی کی قیادت سے قبل بینظیر بھٹو کی یادگار پر پھول چڑھانے کے لیے گئے۔

جب وہ یادگار کے قریب پہنچے تو وہاس پر پہلے سے موجود پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ان کی گاڑی کو گھیرے میں لے لیا اور اس پر ڈنڈے برسائے جس سے گاڑی کو نقصان پہنچا۔ تاہم راجہ ظفر الحق کا ڈرائیور گاڑی کو تیزی سے نکال کر لے جانے میں کامیاب رہا۔

یاد رہے کہ نااہلی کا فیصلہ آنے کے بعد مبینہ طور پر مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے بینظیر بھٹو کی یادگار کو نقصان پہنچایا تھا اور ان کی تصاویر پھاڑ دی تھیں۔ اس واقعے کے بعد اب پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے یادگار پر باقاعدہ پہرہ دینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما اس واقعے میں اپنی جماعت کے کارکنوں کی شمولیت سے انکار کر رہے ہیں اور سینیئر مسلم لیگی رہنما اور رکن اسمبلی چودھری نثار علی کا کہنا ہے کہ یہ ایک سازش ہے جس میں خفیہ ہاتھ ملوث ہے۔

راولپنڈی میں حکام نے مری روڈ کو بند کر دیا ہے جبکہ جی ٹی روڈ پر ریلیاں نکلنی شروع ہو چکی ہیں۔مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف اپنی پارٹی کے اراکین اسمبلی اور کارکنوں کے ساتھ پنجاب اسمبلی کے سامنے مال روڈ پر دھرنا دے رہے ہیں۔

صوبہ پنجاب میں پولیس کی بھاری نفری کو اہم شاہراہوں اور مقامات پر تعینات کیا گیا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ اگر مظاہرے پرتشدد ہوئے تو پولیس کل کے نرم رویے کے مقابلے میں آج زیادہ سختی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔