پاکستان 2008 میں حقوق انسانی

ہلیری کلِنٹن
،تصویر کا کیپشنہلیری کلِنٹن
    • مصنف, حسن مجتبی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیو یارک
  • وقت اشاعت

امریکی محکمۂ خارجہ نے پاکستان میں عورتوں اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیاز و تشدد، سیاسی تشدد، دوران تحویل قیدیوں کی ہلاکتوں، غیر ملکیوں کے اغوا، سندھی اور بلوچ قوم پرستوں سمیت ایک ہزار افراد کی سیکیورٹی ادراوں کے ہاتھوں گمشدگيوں اور صوبہ سرحد میں شورش کی وجہ سے دو لاکھ افراد کے بےگھر ہونے سمیت انسانی حقوق کی کئي خلاف وزریوں کے بارے میں رپورٹ جاری کی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے انسانی حقوق پر اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں انسانی حقوق کی کئي خلاف ورزيوں کا ذکر کیا ہے جس میں بینظیر بھٹو پر کراچي میں خود کش حملے میں گیارہ پولیس افسروں سمیت ایک سو تیس افراد کی ہلاکت کے ذمہ داران کی عدم گرفتاری، کراچي کی ایک عدالت کی طرف سے پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویزالہی، انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ بریگيڈئر اعجار شاہ اور آئي ایس آئي کے سابق سربراہ حمید گل کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے حکم اور اجتما‏عی زیادتی کی شکار خاتون نسمیہ لبانو کے ملزمان پر فرد جرم عائد کیے جانے میں تاخیر بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں ایک جگہ کہا گیا کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئٹزرلینڈ کی عدالت میں چلنے والا مقدمہ مبینہ طور پاکستانی حکومت کی درخواست پر واپس لیا گيا۔

سالانہ رپورٹ میں نے سندھ میں اباڑو سے تعلق رکھنے والی خاتون نسیمہ لبانو کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے ایک سال سے زائد کا عرصہ گذرجانے کے باوجود بھی ملزمان کے خلاف انسداد دہسشت گردی کی عدالت میں فرد جرم عائد نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

بدھ کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے ہاتھوں امریکی محکمۂ خارجہ کے بیورو آف ڈیموکریسی اینڈ ہیومن رائٹس کی جانب سے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں جنوبی ایشیا کے ممالک میں پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سال دو ہزار آٹھ کے دوران پاکستان میں ایک سو ایک قیدیوں کی ہلاکتیں ہوئیں اور اکسٹھ افراد پولیس مقابلوں میں ہلاک کیے کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار امریکی محکمۂ خارجہ نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کی غیر سرکاری تنظیم، سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ پرزنرز ایڈ (شارپ) کے حوالے سے دیے ہیں۔ رپورٹ میں اڈیالہ، حیدرآباد اور کراچي کی جیلوں میں قیدیوں پر تشدد اور انکی حالت زار پر روشنی ڈالی گئي ہے۔

رپورٹ میں سندھ میں ایک شخص حضور بخش ملک پر پولیس تشدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایس ایچ او محمد تنیو نے حضور بخش کو شناختی کارڈ نہ ہونے پر مارکیٹ سے گرفتار کیا اور تشدد کے دوران اس کا عضوِ تناسل کاٹ دیا گيا۔

تاہم رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ پاکستان کی حکومت پولیس کے ہاتھوں کئي جرائم کے خلاف باقاعدہ تحقیقیات کرتی رہی ہے اور دو ہزار آٹھ کے اگست مہینے سے سال کے اختتام تک انسپکٹر جنرل پولیس نے نو سو تہتر پولیس اہلکاروں کے خلاف مختلف جرائم میں ملوث ہونے پر تادیبی کارروائی کی۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی اکتوبر دوہزار سات کو کراچي آمد کے موقع پر خود کش حملوں میں گیارہ پولیس اہلکاروں سمیت ایک سو تیس افراد کی گرفتاری کے ذمہ داران کی عدم گرفتاری کا بھی ذکر کیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کراچي کی ایک ضلعی عدالت نے پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہی، انٹیلیجنس بیورو کی سابق ڈائریکٹر جنرل بریگیڈئر اعجاز شاہ اور آئي ایس آئي کے سابق سربراہ حمید گل کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کا حکم دیا تھا۔

رپورٹ میں انتیس اور تیس نومبر دو ہزار آٹھ کو متحدہ قومی موومنٹ کے اندرونی ذرا‏ئع کے حوالے سے کہا گیا ہے ایم کیو ایم کا الزام ہے کہ کراچي میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے ان کے انیس کارکنوں کو قتل کیا جب کہ جماعت اسلامی کا الزام ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں نے اس کے تیرہ کارکنوں کو ہلاک کیا۔

رپورٹ میں ہیوممن رائٹس کمیشن آف پاکستان ک حوالے سے ریاستی اداروں کے ہاتھوں سیاسی بنیادوں پرگرفتاری کے بعد لاپتہ ہونے والے گيارہ سو لوگوں کے بارے میں کہا گيا ہے کہ اب بھی یہ افراد ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں جن میں سے اکثریت کے متعلق وزرات داخلہ کا ماننا ہے کہ ان لاپتہ افراد کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ رپورٹ میں ریاستی اداروں کے ہاتھوں لاپتہ لوگوں کے بارے میں بتایا گيا ہے کہ اگرچہ سال دو ہزار سات کے مقابلے میں دو ہزار آٹھ میں ریاستی اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد میں کمی واقع ہوئي اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے حوالے سے نومبر دو ہزار آٹھ تک سیاسی بنیاد پرگرفتاری کیے گئے ان لوگوں کی تعداد گيارہ سو تھی۔ جب کہ انسانی حقوق کی تنظمیں ایسے افراد کی تعداد پندرہ سو بتاتی ہیں۔ رپورٹ میں پاکستانی وزرات داخلہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اکثر لاپتہ لوگوں کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ریاستی ایجنسیوں کے ہاتھوں گمشدہ افراد میں سے کچھ دہشت گردی اور ملکی سلامتی کے متعلق الزامات ميں غائب ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کنہا ہے کہ سندھی اور بلوچ قوم پرستوں کی ایک بڑی تعداد گم ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا ہے کہ گم شدہ افراد میں کچھ لوگ بچوں سمیت لاپتہ ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں لاپتہ افراد میں سے مسعود جنجوعہ، اسامہ وحید، خضدار کے قمبرانی اور ذیشان جلیل کا ذکر کیا گیا ہے جب کہ ریاستی اداروں کے لاپتہ رہنے کے بعد حال ہی میں ازآد ہوکر آنے والے لوگوں میں سے بلوچ قوم پرست رؤف ساسولی اور سندھی قرم پرست اور پاکستان اور امریکہ کی دوہری شہریت رکھنے والے ڈاکٹر صفدر سرکی کا بھی ذکر کیا گيا ہے۔ رپورٹ میں ڈاکٹر صفدر سرکی کے متعلق بتایا گيا ہے کہ انہیں سولہ اہلکاروں نے گرفتار کیا اور کئي ماہ کی گمشدگی کے بعد انہیں پاکستان کی دور دراز جیل میں پھینک دیا گيا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی طرف سے انسانی حقوق کی رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ پاکستان میں احمدیوں، عیسائيوں اور سندھ کے ہندوؤں کے ساتھ تعلیمی اداروں اورملازمتوں میں امتیازي سلوک روا رکھا جاتا ہے جبکہ احمدیوں، ہندوؤں، عیساؤں اور شعیوں کیخللاف تشدد کے کئي واقعات کابھی ذکر کیا گيا ہے۔ رپورٹ میں احمدی کمیونٹی کے دو اراکین، کوٹری کے منان احمد اور نوابشاہ کے سیٹھ یوسف، کراچي میں ہندو نوجوان جگدیش کمار اور عیسائي نوجوان نوید مسیح پر تشدد کر کے قتل کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

عورتوں پر تشدد کے حوالے سے انسانی حقوق کی متعدد خلاف ورزیوں کی رپورٹ کے حصے میں صوبہ سندھ سےتعلق رکھنے والی نسیمہ لبانو کے ساتھ اجتماعی

زیادتی کے ملزموں کے خلاف ایک سال گذرنے کے باوجود انسداد دہشتتگردی کی عدالت میں فرد جرم عائد نہ کرنے، مختاراں مائي کیس کے ملزمان کا کیفر کردار تک نہ پہنچنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گيا ہے۔

رپورٹ میں ایشین ہیومن رائٹس کے حوالے سے پنجاب کی ایک عورت کے ساتھ اجتما‏عی زیادتی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے اسے گھنٹوں پولیس لاکپ میں برہنہ رکھا گيا۔

رپورٹ میں صوبہ سرحد میں شورش کے حوالے سے طالبان اور القاعدہ کی طرف سے تشدد اور خودکش حملوں میں ہلاکتیں، ڈیرہ اسماعیل خان اور شمالی علاقہ جات میں شیعہ فرقے کے لوگوں اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں، سوات سمیت قبائیلی علاقوں میں جاری شورش میں دو لاکھ افراد کے بےگھر ہونے کا بھی ذکر کیا گيا ہے۔