پنجاب بحران، شہباز کی ملاقاتیں

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی نے بہاولپور میں مسلم لیگ ن کے صدر اور پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے کی بات کی گئی۔ سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ قومی مفاہمت وقت کی ضرورت ہے لیکن اس کی بنیاد قومی ایشوز ہوسکتے ہیں ذاتیات نہیں۔ اسلم رئیسانی نے کل اسلام آباد میں صدر آصف زرداری سے بھی ملاقات کی تھی۔ سیاسی حلقوں میں خیال کیاجارہا ہے کہ شہباز سے ملاقات میں بلوچ رہنما نے صدر آصف زرداری کا پیغام بھی پہنچایا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ڈسٹرکٹ بار سے خطاب کے لیے بہاولپور میں موجود ہی تھے کہ کچھ دیر بعد بلوچستان کے وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی ان سے ملاقات کے لیے خصوصی پرواز کے ذریعے پہنچ گئے۔
دونوں رہنماؤں میں تقریباً پندرہ منٹ بند کمرے میں ملاقات ہوئی البتہ اس موقع پر مسلم لیگ ن کے نائب صدر جاوید ہاشمی بھی موجود تھے۔ ملاقات کے بعد شہباز شریف نے میڈیا کو بتایا کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ نےمفاہمت کے ذریعے ملک کے موجودہ بحران کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی ہے اور جواباً انہوں نے اسلم رئسیانی کے اس جذبہ کے ستائش کی ہے۔
شہباز شریف کے بقول بلوچستان کے وزیر اعلی بھائی چارے، محبت اور مفاہمت کاپیغام لائے تھے اور انہوں نے ماضی کے واقعات پر افسوس کیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے کہا اسلم رئیسانی کو کہا کہ ان کی ایک بلوچ، ایک پاکستانی اور ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ ہونے کے ناطے مفاہمت کی کوششیں قابل قدر ہیں۔

بعد میں شہباز شریف نے بہاولپور ڈسٹرکٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر صدر آصف زرداری سترہویں ترمیم ختم کریں وہ مفاہمت کے لیے ایک قدم نہیں دس قدم چلنے کو تیار ہیں البتہ انہوں نے کہا کہ اگریہ سمجھا جائے کہ ہم اپنی ذات کی بحالی کے لیے مفاہمت کے لیے تیار ہیں تو خدا کی قسم قیامت آجائے گی یہ سر آپ کے سامنے جھکے گا نہیں۔ سابق وزیر اعلی نے کہا کہ وہ مفاہمت کی بات کرتے ہیں لیکن نواز شریف نے کب اس سے انکار کیا تھا آپ خود معاہدے لکھ کر منحرف ہوگئے تھے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر عدلیہ بحال کرے اور اپنے غیرجمہوری اقدامات واپس لیں بصورت دیگر یہ قوم قربانی دینے کی بڑی قوت رکھتی ہے۔


















