ہنگلاج کے قریب ڈیم: ہندو فکرمند

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع دنیا بھر کے ہندؤں کی مقدس عبادت گاہ ہنگلاج کے قریب ندی پر ڈیم بنانے کے حکومت کے منصوبے سے ہندو کمیوٹنی میں تشویش پائی جاتی ہے۔
واپڈا(واٹر اینڈ پاور ڈیلوپمنٹ اتھارٹی) کی جانب سے ہنگول ندی پر ڈیم بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس سے نوے ہزار ایکڑ بارانی زمین آباد ہوگی اور سات سو اڑتیس میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔
ہر سال اپریل میں ہنگلاج کا میلہ منعقد کیا جاتا ہے، پرانے دور میں لوگ جنگلوں، پہاڑوں اور ویرانوں سے گذر کر یہاں پہنچتے تھے۔ اب یہاں سڑک کی سہولت موجود ہے مگر بارشوں کے بعد ہنگول ندی میں پانی کا بہاؤ بڑھنے سے یہ راستہ کٹ جاتا ہے اور پل نہ ہونے کی وجہ سے لوگ پانی میں کمی کا انتظار کرتے ہیں۔
بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے پہاڑی سلسلے میں ہنگلاج کے مقامات مسلمانوں کے لیے نانی پیر کا آستانہ اور ہندوؤں کے لیے ہنگلاج ماتا اور کالی دیوی کا آستھان ہے۔
ان تمام مناظروں اور یاترا کو مستقبل میں خطرات لاحق ہیں۔ لیکن واپڈا کے اس منصوبے نے مقامی لوگوں اور ہندؤں میں بے چینی پیدا کردی ہے ۔
ہنگلاج شیوا منڈلی کے چیف آرگنائزر ویرسی مل کا کہنا ہے کہ'بھارت میں موجود چار دام یاترا کی بھی وہ افادیت یا حیثیت نہیں جب تک ہنگلاج یاترا نہیں کی جاتی۔ اس جگہ ہنگلاج یاترا کے ساتھ منڈ کٹا گنیش، اور کالی ماتا کا آستھان بھی اہمیت کا حامل ہے۔ ‘
سکھوں کے مذہبی رہنما بابا گرونانک اور سندھی زبان کے نامور اور بزرگ شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی یہاں حاضری دے چکے ہیں۔
واپڈا کی جانب سے ڈیم کی تعمیر کے لئے تین آپشن دیئے گئے ہیں ہندو کمیونٹی کہنا ہے کہ تینوں آپشن ناقابل قبول ہیں۔کیونکہ اس منصوبے سے ان کی یاترائیں زیر آب آْجائیں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واپڈا کی رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ ہندو کمیونٹی کے ان صدیوں پرانے مقدس مقامات کو دوسرے جگہ منتقل کیا جائے۔ ہنگلاج شیوا منڈلی کے چیف آرگنائزر ویرسی مل اس تجویز کو بھونڈا مذاق قرار دیتے ہیں۔' اگر منتقلی ممکن ہوتی تو اسے کراچی منتقل نہیں کرلیتے ، ہزاروں لوگ جو کئی کلومیٹر کا سفر طئے کرکے یہاں آتے ہیں کیا ان کے گھر یا علاقے میں مندر نہیں ہے،اس جگہ اور مقام کی اہمیت اور حیثیت ہے۔ ہم اس کی منتقلی کے بارے میں صرف سوچیں تو بھی گناہ گار ہوتے ہیں‘۔
تمام جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اقلیتی اراکین اسمبلی پہلی مرتبہ کسی معاملے پر متفق نظر آتے ہیں، پچھلے دنوں ان اراکین نے علاقے کا دورہ کیا اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
رکن قومی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر کشن چند پاروانی کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی نہیں مذہبی معاملہ ہے ۔ نہ تو اسے سنجیدگی سے لیا جارہا ہے اور نہ ہی منصوبہ بندی سے پہلے ہندو کمیونٹی کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ ' یہ لوگ ہمیشہ ہمارے جذبات سے کھیلتے ہیں، حکومت کہتی ہے کہ ہندو کمیونٹی کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا مگر یہ تحفظ کرنا تو نہیں ہوا۔ یہ تو مذہبی جذبات سے کھیلنے کے مترداف ہے‘۔
واپڈا کا کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت کی تجویز پرڈیم بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی مگر پچھلے دنوں بلوچستان اسمبلی نے متفقہ رائے سے قرار داد منظور کرکے موجود سائیٹ پر ڈیم بنانے کی مخالفت کی اور ہندو کمیونٹی سے اظہار یکجہتی کیا۔
بلوچستان کے صوبائی وزیر برائے آبپاشی سردار اسلم بزنجو کہتے ہیں کہ مذہبی حوالے سے یہ مندر اہمیت کا حامل ہے۔ ہم نے واپڈا کو کہا ہے کہ ہم نے ڈیم بنانے کے لئے ضرور کہا ہے مگر اس سے ہنگلاج ماتا کی یاترا کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیئے۔
ہندو کمیونٹی کے انجنیئر مہرو مل کا کہنا ہے وہ ڈیم کے خلاف نہیں ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ڈیم بننے سے علاقے میں خوشحالی آئیگی۔
ان کا کہنا ہے کہ واپڈا صرف اپنی فزیبلٹی رپورٹ پر نظر ثانی کرے۔'ہنگول ندی پر تین ایسے مقامات ہیں جن پر ڈیم کی تعمیر ہوسکتی ہے، ان میں ایک پھول ڈاٹ سائٹ ہے، دوسری جبل ہنگلاج اور تیسری شام کور سائیٹ ہے یہ تینوں مقامات اپ اسٹریم میں ہیں جہاں ڈیم بننے سے لاگت میں بھی اضافہ نہیں ہوگا اور ڈیم کی گنجائش بھی زیادہ ہوگی۔‘
کوہ ہنگلاج اور ہنگول ندی تاریخی اہمیت کی بھی حامل ہے سکندراعظم نے بھی یہاں قیام کیا تھا، بھارتی ریاستوں راجستھان اور گجرات کے رجپوت گھرانے کے حکمران خاص طور پر یہ یاترا کرتے رہے ہیں۔ اسی روایت کے تحت بھارت کے سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ بھی تین سال قبل یہ یاترا کرنے آئے تھے۔
وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کا کہنا ہے کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق اور ان کی عبادتوں گاہوں کے تحفظ کو اپنا اولین فرض سمجھتی ہے۔
اس ڈیم سے ہنگلاج یاترا کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اگر ایسا ہوا تو ڈیم کی تعمیر نہیں کی جائے گی، جب ان سے سوال کیا گیا کے کیا حکومت یہ اعلان کر رہ ی ہے کہ اس مقام پر ڈیم کی تعمیر نہیں ہوگی تو ان کا کہنا تھا وہ یہ نہیں کہہ رہے ، ہندوں کے خدشات دور کیئے جائیں گے۔
واپڈا پاکستان میں ایک طاقتور محکمہ تصور کیا جاتا ہے۔ چھوٹے صوبوں کا یہ بھی الزام ہے کہ اس ادارے کو ان کے استحصال کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے، ان کا اشارہ ان ڈیموں اور کینالوں کی طرف ہوتا ہے جو خلاف قائدہ ان کی مرضی کے بغیر دریائے سندھ پر بنائے گئے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان میں ان ہندوں کی کتنی شنوائی ہوتی ہے۔






















