موبائل عدالتوں کا آرڈینینس واپس

وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی
،تصویر کا کیپشنوزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی مسلم لیگ نواز سے مفاہمت کی کوشش کر رہے ہیں
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا ہے کہ ایوان کے تقدس کو بحال رکھنے کی خاطر گشتی عدالتوں سے متعلق صدارتی آرڈیننس کو واپس لے رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کو گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کے اجلاس کے باوجود گشتی عدالتوں کے آرڈیننس کے اجراء پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ ایوان کے تقدس پر حرف نہیں لانا چاہتے لہذا وہ آئین کے آرٹیکل نواسی کے تحت صدر سے مشورہ دیتے ہوں کہ وہ اسے واپس لے لیں۔ اراکین اسمبلی نے اس موقع پر تالیاں بجا کر اس اقدام کا خیر مقدم کیا۔

تاہم وزیر اعظم ایوان میں اپنے مختصر بیان میں یہ واضح طور پر نہیں کہہ سکے کہ آرڈیننس اجلاس کے دوران نافذ کیا گیا تھا یا بعد میں۔ ایک مقام پر انہوں نے کہا کہ ایوان کا اجلاس جاری تھا تو دوسری جانب انہوں نے کہا کہ ایوان سیشن میں نہیں تھا۔

بعض مبصرین کے مطابق اس اقدام سے وزیر اعظم حزب اختلاف کی مسلم لیگ (ن) سے مفاہمت کی فضا قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خدشہ تھا کہ اس موقع پر ان عدالتوں کے قیام کا مقصد وکلاء مارچ کو سبوتاژ کرنا تھا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے ملک بھر میں سرسری سماعت کی موبائل عدالتیں قائم کرنے اور نئے ضلعی میجسٹریٹس تعینات کرنے کے لئے ایک آرڈیننس میڈیا کو یکم مارچ کو جاری کیا تھا۔ تاہم حکومتی ترجمان کا موقف ہے کہ یہ قانون جاری اس سے قبل ہوچکا تھا میڈیا کو اتوار کو جاری ہوا۔

فوجداری قوانین کے ضابطوں میں ترمیم کر کے اس آرڈیننس کے ذریعے ان موبائل عدالتوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ جائے واردات پر جا کر موقع پر ہی مجرموں کو سزا سنا سکیں گی۔ آرڈیننس کے مطابق یہ موبائیل عدالتیں ہر ضلعے میں تعینات کی جانی تھیں اور انہیں اپنے ضلعے کی حدود میں گھوم پھر کر کام کرنا تھا۔ ان عدالتوں میں ایک یا ایک سے زیادہ میجسٹریٹ کام کریں گے جنکی تعیناتی کا اختیار اس آرڈیننس کے ذریعے صوبائی حکومتوں کو دیا گیا ہے۔