اچھی پیش رفت کی امید کم ہے

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
ملکی سیاست کو آج کل اگر مولانا فضل الرحمان کی عینک سے دیکھیں تو مفاہمت میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن اگر نواز شریف کے عوامی جلسے میں جائیں تو ایک بڑے ٹکراؤ کی خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن اگر سیاسی عدم استحکام کی مار کھانے والے عام شہری کی کمزور نظر سے دیکھیں تو اسے کسی اچھی پیش رفت کی امید کم ہی ہے۔
موسم بہار والے مارچ میں لانگ مارچ کے آغاز سے قبل ہی سیاسی تپش بڑھ گئی ہے۔ پاکستانی سیاست کے سب سے پرانے اصول کے مطابق حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے حکومت پر رہنماؤں کی نااہلی کے بعد دباؤ بڑھا رکھا ہے۔ اسے امید ہے کہ جاری دباؤ اور بارہ مارچ سے شروع ہونے والے لانگ مارچ سے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب حکومت اسے تسلی سے کام لینے کی تلقین کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمان جیسے درمیانی راہ پیدا کرنے کے ماہر کی خدمات بھی حاصل ہیں۔ پیپلز پارٹی نے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) میں فاروڈ بلاک قائم کرکے اسے اس کے گڑھ میں کمزور کرنے کی کوششیں بھی شروع کر دی تھیں جو اب بارآور بھی ثابت ہو رہی ہیں۔ فریقین نے اس روش سے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ انہوں نے نوے کی دہائی والی ہی سیاست اپنانی ہے۔ ایک جانب جہاں نواز شریف اب تمام فیصلے سڑکوں پر کرنے پر تلے ہیں تو دوسری جانب پیپلز پارٹی اس کے پر کاٹنے کے لیے فارورڈ بلاک والی سیاست دوہرانے پر اڑی ہوئی ہے۔

مبصر کہتے ہیں کہ ایک درجن حملہ آوروں میں سے تو ایک بھی قابو میں نہیں آیا ہاں پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے ستائیس اراکین گھیر لیے بڑی آسانی سے۔ تو یہاں سوال فطری ہے کہ دونوں میں کیا مماثلت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پھر صدر کی جانب سے نواز شریف سے مفاہمت کا اور دوسری جانب مسلم لیگ کی توڑ پھوڑ میں کیا بات یکساں ہے؟ مختصر جواب یہی کہ کچھ نہیں۔ صورتحال کے اس حد تک واضح ہونے کے بعد بھی اگر عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی خان اور جعمیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان اپنی مصالحتی کوششیں جاری رکھتے ہیں تو پھر یہ ان کی انتہائی سادگی ہوگی یا بہت زیادہ چالاکی۔ اگر یہ ان کی سادگی ہے تو پھر وہ پاکستان کی سیاست کے ماضی سے ناواقف ہیں۔ لیکن یہ بات شاید ہی کوئی ماننے کو تیار ہو۔ حکومت کے نشے میں ہوتے ہوئے کسی حکمراں نے کم ہی حزب اختلاف کو گھاس ڈالی ہے لہذا اب کیوں ایسا کوئی کرے گا۔ تو کیا یہ محض حکمراں اتحاد کی ایک سیاسی چال ہے۔ ملک کی کئی اہم سیاسی اور سابق فوجی ہستیوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل ایک خط میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ایک آسان راستہ دکھایا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ نواز برادران کی نااہلی ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے عدالت سے باہر ہی صدر ایک فرمان کے ذریعے حل کرسکتے ہیں۔ اگر ایسا کرنا ہوتا تو وہ اس وقت ہی کرچکے ہوتے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی خان نے نواز شریف کے ساتھ مصالحتی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کر دیا تھا کہ نواز برادران کی نااہلی درست فیصلہ نہیں تھا۔ ان کا یہ موقف حکومتی موقف سے قدرے مختلف ہے جو اسے عدالتی فیصلہ قرار دیتے ہوئے اپنی بے بسی کا اظہار کر رہی ہے۔ اسی وجہ سے مفاہمتی کوششوں میں اب مولانا فضل الرحمان زیادہ پیش پیش دکھائی دے رہے ہیں لیکن اسفند یار نہیں۔
حالیہ کشیدگی میں فریقین اپنے موقف کی وجہ سے انتہائی حد تک پہنچ چکے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کسی صورت معزول چیف جسٹس کو بحال کرنے کی تیار نہیں اور نواز شریف، اگر ان کو پنجاب حکومت واپس کر بھی دی جائے تو اب اپنی پوزیشن سے واپس نہیں لوٹ سکتے۔ ایسے میں مفاہمت کن نکتوں پر ممکن ہے ایسا ہوتا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
اب ایک مرتبہ پھر اشارے ہیں کہ باہر کی دنیا کو اس انتشار کے بڑھنے سے شدت پسندوں کے مضبوط ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ لہذا وہ اپنی عافیت کی خاطر دونوں جماعتوں کو ’اچھے بچے‘ بننے کا حکم دے رہے ہیں۔ اس ہدایت میں تیسری طاقت کی تھپکی بھی شامل بتائی جاتی ہے۔
یہ بیرونی دباؤ اور تیسری قوت ہی اگر فریقین کو راہ راست پر لایا جا تو ٹھیک ورنہ اس تمام کشیدگی میں عام شہری کو اصل فکر یہی ہے کہ اس ایک مرتبہ پھر احتجاج کی اصل قیمت تو اسی کو چکانی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















