کوئٹہ میں پولیس اہلکار ہلاک

کوئٹہ میں پولیس اہلکار ایک گاڑی کی تلاشی لے رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنکوئٹہ میں پولیس اہلکار ایک گاڑی کی تلاشی لے رہے ہیں
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی اور چھتر کے درمیان ربیع کے مقام پر ریموٹ کنٹرول دھماکے سے ایک پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ آج صبح ایک ہیڈ کانسٹیبل اور ایک سپاہی معمول کی گشت پر تھے کہ ربیع کینال کے قریب ایک زور دار دھماکہ ہوا ہے۔ اس دھماکے سے ہیڈکانسٹیبل موقع پر ہلاک اور سپاہی زخمی ہوا ہے۔

پولیس کے مطابق دھماکہ خیز مواد سڑک کے ساتھ نصب کیا گیا تھا اور دھماکہ ریموٹ کنٹرول سے کیا گیا ہے۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ دھماکہ کن لوگوں نے کیا ہے اور پولیس کو نشانہ کیوں بنایا گیا ہے۔ اس علاقے میں دو قبائل کے مابین زمین کا تنازعہ جاری ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان علاقوں میں کالعدم تنظیموں نے کچھ عرصہ قبل کارروائیاں کی تھیں جن میں پولیس اور سرکار کے مخبروں پر حملے کیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ چار روز پہلے اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر پنجاب جانے والی ایک گیس پائپ لائن اور سیکیورٹی فورسز کے قلعے پر حملے کا دعوی کیا تھا۔ سرباز بلوچ کے مطابق سیکیورٹی فورسز پر حملہ چھ بے گناہ بگٹیوں کو گرفتاری کے بعد ہلاک کرنے پر کیا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر ان دعووں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

بلوچستان کے علاقے سوئی اور ڈیرہ بگٹی سے مقامی لوگ اکثر یہ شکایت کرتے رہتے ہیں کہ بے گناہ افراد کو گرفتار کر لیا جاتا ہے اور یا جھوٹے مقدمے درج کیے جاتے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ اب ڈیرہ بگٹی میں کتنا امن قائم ہے۔