پنجاب میں کریک ڈاؤن، سینکڑوں گرفتار

وکلاء کے لانگ مارچ اور دھرنے کو روکنے کے لیے صوبۂ پنجاب کے علاوہ کراچی اور اسلام آباد میں بھی دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ ہوگیا ہے، ریلیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے اور کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ جگہ جگہ چھاپے مارے جانے کی اطلاعات ہیں اور سینکڑوں افراد پولیس کی حراست میں ہیں۔
مسلم لیگ نواز، جماعتِ اسلامی اور اپوزیشن کی دیگر پارٹیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے درجنوں رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید کو پکڑنے کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پنجاب کی صوبائی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ اب تک ساڑھے تین سو سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والوں میں کوئی سیاسی رہنما یا عہدیدار شامل نہیں ہے۔
ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق وکلاء کا احتجاجی مارچ روکنے کے لیے پولیس کو بڑے بڑے کنٹینر فراہم کیےگئے ہیں جبکہ اسلام آباد پولیس کی درخواست پر سندھ پولیس کے پانچ سو کے قریب اہلکار دارالحکومت روانہ کر دیے گئے ہیں جو سات روز تک وہاں قیام کریں گے۔
وزیرِ اطلاعات شیری رحمان نے اسلام آباد میں صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ افسوناک ہے لیکن احتجاجی مارچ سے لوگوں کی جان و مال کو خطرہ پیدا ہوگیا تھا اور معصوم شہریوں کا خون بہنے کا امکان تھا لہذا اس طرح کا اقدام ضروری ہوگیا تھا۔
اسلام آباد سے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق صوبہ پنجاب میں وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے اراکین کی گرفتاریوں اور نظر بندیوں کے باوجود مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف بدھ کو لاہور سے ایبٹ آباد پہنچے جہاں انہوں نے ایک جلسۂ عام سے خطاب کیا۔
اگرچہ پنجاب کے صوبے میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر دی گئی ہے لیکن سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے ابھی تک اس طرح کا کوئی اقدام نہیں کیا اور نہ وہاں سے کسی گرفتاری کی خبر آئی ہے۔
اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک نے خبر دی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کو ان کے گھر پر نظر بند کر دیا گیا ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ نون کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال اور مرکزی نائب صدر غلام دستگیر خان کی نظر بندی کے احکامات بھی جاری ہوئے ہیں۔اسلام آباد کی انتظامیہ نے راجہ ظفرالحق کی نظر بندی کی تصدیق کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان مسلم لیگ نون کے علاوہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں کے گھروں میں نظر بندی کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد کو خدشۂ نقص امن کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں دو سے چار ہفتے تک زیرِ حراست رکھا جا سکتا ہے۔
لاہور سے نامہ نگار علی سلمان نے بتایا ہے کہ پنجاب کے سیکرٹری داخلہ راؤ افتخار نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں گرفتار ہونے والوں میں کوئی رکن پارلیمان یا کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار شامل نہیں ہے بلکہ صرف ان عناصر کو گرفتار کیا گیا ہے جو ’عوام کی زندگی میں خلل ڈالنے کا سبب بن سکتے تھے‘۔انہوں نے واضح کیا کہ مزید گرفتاریاں عمل میں آسکتی ہیں۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے منگل کی شام صوبے میں دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاد کے بعد سیاسی کارکنوں اور وکلاء رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ لاہور کے مختلف علاقوں سے پولیس نے مسلم لیگ نون کے پوسٹر اور بینر بھی اتار دیے ہیں۔
مسلم لیگ نون پنجاب کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پولیس نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات سے ہی مسلم لیگی اراکین اسمبلی،رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں میں چھاپے مارنے شروع کردیے لیکن پارٹی ہدایات کے مطابق کارکن اور رہنما پہلے ہی روپوش ہوچکے ہیں۔
وکلاء تحریک کے اہم رہنما اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اعتزاز احسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گھر پر گزشتہ رات چھاپہ مارا گیا لیکن وہ وہاں نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ گھر سے باہر ہیں اور ہر قیمت پر لانگ مارچ میں شریک ہونا چاہیں گے۔
جب اعتزاز احسن سے پوچھا گیا کہ اگر ان کے سابق حلیف صدر آصف زرداری نے ان کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے تو اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یہ افسوسناک ہوگا۔ ’وہ میرے حلیف ہی نہیں بلکہ میرے دوست اور کلائنٹ بھی رہے ہیں‘۔
وزارت داخلہ نے اسلام آباد کے چیف کمشنر کامران لاشاری کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ وکلاء کے نمائندوں کے ساتھ بدھ کو مذاکرات کریں اور اُنہیں دھرنے کی جگہ تبدیل کرنے کے لیے آمادہ کریں۔ مشیرِ داخلہ رحمٰن ملک کے مطابق حکومت وکلاء کو لانگ مارچ کے بعد دھرنا دینے کے لیے اسلام آباد میں شکرپڑیاں کے قریب پریڈ ایونیو پر دھرنا دینے کی اجازت دے سکتی ہے جبکہ وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شاہراہ دستور پر دھرنا دیں گے۔
یہ شاہراہ گذشتہ ایک سال سے زائد عرصہ سے عام ٹریفک کے لیے بند ہے اور اسے خار دار تاریں لگا کر بند کردیا ہے اور اس علاقے میں رینجرز کے اہلکار حفاظت پر تعینات ہیں۔ واضح رہے کہ دو روز قبل بھی اسلام آباد کی انتظامیہ اور وکلاء کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جن کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا تھا۔
لانگ مارچ کے پیشِ نظر راولپنڈی اور اسلام آباد میں پچیس ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔سندھ پولیس کے 500 اہلکاروں کے دستے کے علاوہ پنجاب کانسٹیبلری اور فرنٹیر کانسٹیبلری کے مزید دستے بھی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ریجنل پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جہلم ، چکوال اور اٹک سے اسلام آباد کی طرف آنے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر دیں اس کے علاوہ ان راستوں میں آنے والے تمام پلوں پر کنٹینرز کھڑے کر دیے جائیں۔ اس ضمن میں پولیس نے مختلف کنٹینرز اور ان سے متعلقہ گاڑیوں کے کاغذات بھی قبضے میں لے لیے ہیں۔ واضح رہے کہ لانگ مارچ کے شرکاء 15 مارچ کو راولپنڈی پہنچیں گے جہاں سے وہ 16 مارچ کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔
ادھر لانگ مارچ سے قبل پنجاب میں پولیس اور دیگر انتظامی افسروں کے تبادلے مسلسل جاری ہیں اور ان افسروں کوہٹایا جارہا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ شریف بردران کی حمایت کریں گے۔لاہور میں سیکرٹری داخلہ تبادلے کے بعد پنجاب کے آٹھ میں سے تین ڈویژنل کمشنروں کو تبدیل کردیا گیا ہے جن میں فیصل آباد،ڈیرہ غازی خان اور راولپنڈی کے کمشنر شامل ہیں۔
کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق شہر کی پولیس کے سربراہ وسیم احمد نے بتایا ہے کہ ابھی تک کراچی سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ کسی کی نظر بندی کے احکام جاری کیے گئے ہیں۔ سیکورٹی کے پیشِ نظر سندھ ہائی کورٹ کے داخلی راستوں پر اضافی پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔






















