پنجاب میں کریک ڈاؤن، سیاسی رہنما نظر بند

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
وکلاء کے لانگ مارچ کے پیشِ نظر دارالحکومت اسلام آباد اور صوبہ پنجاب میں سیاسی کارکنوں اور وکلاء کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور دو سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
مسلم لیگ(ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کو ان کے گھر پر نظر بند کر دیا گیا ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ نون کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال اور مرکزی نائب صدر غلام دستگیر خان کی نظر بندی کے احکامات بھی جاری کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔اسلام آباد کی انتظامیہ نے راجہ ظفرالحق کی نظر بندی کی تصدیق کی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ نون کے علاوہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے متعدد رہنماوں کے گھروں میں نظر بندی کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد کو خدشۂ نقص امن کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں دو سے چار ہفتے تک زیرِ حراست رکھا جا سکتا ہے۔
لاہور سے بی بی سی اردو کے نمائندے علی سلمان کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے منگل کی شام صوبہ میں دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاد کے بعد سیاسی کارکنوں اور وکلاء رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ پر بات کرتے ہوئے لاہورکے ضلعی رابط افسر سجاد بھٹہ نے کہا ہے کہ دفعہ ایک چوالیس کم از کم تین روز تک نافذ العمل رہے گی اور اس دوران پانچ یا پانچ سے زیادہ افراد کے ایک جگہ اکھٹے ہونے، جلسے کرنے یا جلوس نکالنے پر پابندی عائد ہوگی۔
مسلم لیگ نون پنجاب کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پولیس نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات سے ہی مسلم لیگی اراکین اسمبلی،رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں میں چھاپے مارنے شروع کردیے ہیں لیکن پارٹی ہدایات کے مطابق کارکن اور رہنما پہلے ہی روپوش ہوچکے ہیں۔جماعت اسلامی، تحریک انصاف کے کارکنوں اور متحرک وکلاء کے گھروں پر بھی چھاپوں کی اطلاعات ہیں۔
لاہور کے مختلف علاقوں سے پولیس نے مسلم لیگ نون کے پوسٹر اور بینر بھی اتار دیے ہیں۔
وزارت داخلہ نے اسلام آباد کے چیف کمشنر کامران لاشاری کو یہ ہدایات بھی جاری کی ہیں کہ وہ وکلاء کے نمائندوں کے ساتھ بدھ کو مذاکرات کریں اور اُنہیں دھرنے کی جگہ تبدیل کرنے کے آمادہ کریں۔ مشیر داخلہ رحمن ملک کے مطابق حکومت وکلاء کو لانگ مارچ کے بعد دھرنا دینے کے لیے اسلام آباد میں شکرپڑیاں کے قریب پریڈ ایونیو پر دھرنا دینے کی اجازت دے سکتی ہے جبکہ وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شاہراہ دستور پر دھرنا دیں گے۔ یہ شاہراہ گذشتہ ایک سال سے زائد عرصہ سے عام ٹریفک کے لیےبند ہے اور اسے خار دار تاریں لگا کر بند کردیا ہے اور اس علاقے میں رینجرز کے اہلکار حفاظت پر تعینات ہیں۔ واضح رہے کہ دو روز قبل بھی اسلام آباد کی انتظامیہ اور وکلاء کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جن کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا تھا۔
حکومت لانگ مارچ کے حوالے سے راولپنڈی اور اسلام آباد میں پچیس ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔سندھ پولیس کے 500 اہلکاروں کے دستے کے علاوہ پنجاب کانسٹیبلری اور فرنٹیر کانسٹیبلری کے مزید دستے بھی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ذرائع کے مطابق ریجنل پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جہلم ، چکوال اور اٹک سے اسلام آباد کی طرف آنے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر دیں اس کے علاوہ ان راستوں میں آنے والے تمام پلوں پر کنٹینرز کھڑے کر دیے جائیں۔ اس ضمن میں پولیس نے مختلف کنٹینرز اور ان سے متعلقہ گاڑیوں کے کاغذات بھی قبضے میں لے لیے ہیں۔ واضح رہے کہ لانگ مارچ کے شرکاء 15 مارچ کو راولپنڈی پہنچیں گے جہاں سے وہ 16 مارچ کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔
ادھر لانگ مارچ سے قبل پنجاب میں پولیس اور دیگر انتظامی افسروں کے تبادلے مسلسل جاری ہیں اور ان افسروں کوہٹایا جارہا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ شریف بردران کی حمایت کریں گے۔لاہور میں سیکرٹری داخلہ تبادلے کے بعد پنجاب کے آٹھ میں سے تین ڈویژنل کمشنروں کو تبدیل کردیا گیا ہے جن میں فیصل آباد،ڈیرہ غازی خان اور راولپنڈی کے کمشنر شامل ہیں۔






















