ڈرون حملہ، کئی ہلاکتوں کا خدشہ

ڈرون
،تصویر کا کیپشنحکومتِ پاکستان اس بات کی تردید کرتی ہے کہ ڈرون طیارے پاکستان کے ہوائی اڈوں سے ہی پرواز کرتے ہیں
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ امریکی جاسوس طیاروں نے مبینہ طور پر طالبان کے ایک کیمپ پر حملہ کیا ہے جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم چھ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوئے ہیں۔

پولٹیکل انتظامیہ کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی جاسوسی طیاروں نے جمعرات کی رات تقریباً نو بج کر چالیس منٹ پر سینٹرل کرم میں برجو کے علاقے میں طالبان کے ایک مبینہ کیمپ پر چار میزائل داغے ہیں۔

ان کے بقول حملے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق چھ افراد ہلاک بتائے جا رہے ہیں۔ اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں کے بارے میں سردست کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ غالب امکان یہی ہے کہ مرنے والے مقامی طالبان ہوسکتے ہیں۔

حکومتی اہلکار کے مطابق اس واقعے میں زخمی ہونے والے دو طالبان کو تقریباً پانچ کلومیٹر دور مندوری میں واقع بی ایچ یو لیجایا گیا ہے جہاں پر موجود ایک ڈاکٹر سے ان کی بات ہوئی ہے۔ ان کے بقول ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ زخمی طالبان نے ان کو بتایا ہے کہ وہ کیمپ سے باہر پہرہ دے رہے تھے کہ میزائل کےحملے ہوئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً پانچ کمروں پر مشتمل اس مکان میں اس وقت تقریباً اٹھاون کے قریب افراد موجود تھے جن میں بعض یر غمالی بھی شامل تھے۔

زخمی طالبان نے بتایا ہے کہ حملے کے بعد آگ نے پورے کیمپ کو اپنی لپیٹ میں لی لیا اور انہیں خدشہ ہے کہ وہاں موجود زیادہ تر افراد ہلاک ہو چکے ہونگے۔ تاہم اہلکار کے مطابق کسی اور ذریعے سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

ان کے مطابق حملے کے بعد بھی جاسوسی طیاروں کی علاقے پر پروازیں جاری رہیں اور اس دوران آس پاس کی آبادی نے تمام لائٹیں بجھا دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مساجد کے لاوڈوسپیکروں پر بھی یہ اعلانات کیے جارہے ہیں کہ لوگ جائے وقوع کی طرف نہ جائیں کہیں پرواز کرنے والے طیارے دوبارہ حملہ نہ کر دیں۔

حکام کے مطابق جس مکان کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ مبینہ طور پر طالبان کا کیمپ تھا جہاں وہ نہ صرف رہائش پذیر تھے بلکہ اسلحہ بھی ذخیرہ کرتے تھے اور ان کی میٹنگیں بھی وہیں ہوتی تھیں۔ طالبان ذرائع کے مطابق یہ کیمپ مقامی طالب کمانڈر فضل معبود کے زیر انتظام چل رہا تھا اور حملے کے وقت وہ یہاں پر موجود تھے تاہم ان کی ہلاکت کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔ حملہ جس جگہ کیا گیا ہے وہ افغانستان کی سرحد سے تقریباً بیس کلومیٹر دور ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں گزشتہ ماہ بھی امریکی میزائل حملہ ہوا تھا جس میں حکام کے بقول افغان طالبان کے ایک تربیتی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

قبائلی علاقوں میں گزشتہ کئی سالوں سے اس قسم کے مبینہ میزائل حملے جاری ہیں مگر پہلے زیادہ تر حملوں میں غیر ملکی جنگجوؤں بطور خاص عربوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے مقامی طالبان کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

اگرچہ پاکستان کی حکومت ان حملوں پر سخت احتجاج کرتی آئی ہے لیکن اس کے باوجود کمی کی بجائے حملوں کے دائرے کو کُرم ایجنسی جیسے قبائلی علاقوں تک وسیع کردیا گیا ہے۔

پاکستان کے اس احتجاج پر امریکی انٹیلیجنس کی ایک اہلکار نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق ڈرون طیارے پاکستان کے ہوائی اڈوں سے ہی پرواز کرتے ہیں لیکن حکومتِ پاکستان اس بات کی تردید کردی تھی۔