انتخابی اصلاحات کی نئی تجاویز

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
الیکشن کمیشن نے جمعہ کو وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو انتخابی اصلاحات کے لیے بھیجی گئی اپنی سفارشات میں تجویز دی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں صدر کا صوابدیدی اختیار ختم کرکے صدرکو وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی مشاورت کا پابند بنایا جائے۔
انتخابی اصلاحات کے بارے میں سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے اور الیکشن کمیشن کو با اختیار بنانے کے لیے آئین اور مختلف قوانین میں وسیع پیمانے پر ترامیم کی سفارش کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کردہ تجاویز میں نگران حکومت میں غیر جانبدار افراد کو مقرر کرنے اور ملک میں عام انتخابات کے لیے تاریخ کا تعین کرنے کے لیے صدر پر چیف الیکشن کمشنر سے مشاورت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے لیے ترامیم کی تجاویز مرتب کرتے وقت دنیا کے مختلف ممالک میں انتخابی طریقہ کار اور قوانین کا جائزہ لینے، پاکستان میں الیکشن کے انعقاد سے سامنے آنے والے معاملات اور بین الاقوامی مبصرین کی آراء کو مد نظر رکھا گیا ہے۔
تجاویز میں چیف الیکشن کمشنر کی مدت ملازمت چار سال کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ جس سال چیف الیکشن کمشنر ریٹائر ہو رہے ہوں اور اگر ان کی ریٹائر منٹ کی تاریخ کے بعد بھی اُسی سال اگر انتخابات ہونے ہیں تو وہ ان کا انعقاد کروائیں گے اور ایسی صورت میں ان کی مدت قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کے روز ختم ہوگی۔
فی الوقت یہ مدت تین سال ہے اور اس میں قومی اسمبلی سے قرار داد کی صورت میں مزید ایک سال کی توسیع کی جا سکتی ہے۔ کمیشن نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ سپریم کورٹ کے کسی جج کو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر تعینات کرنے کے بجائے سینیر رکن کو بنایا جائے۔ الیکشن کمیشن کے اراکین کی تعداد پانچ کرنے کی سفارش کی گئی ہے جن میں چاروں صوبوں کے ہائی کورٹس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج بھی شامل ہے۔
الیکشن کمیشن نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ آئین میں ترمیم کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اسلام آباد سے خواتین کی ایک مخصوص نشست بحال کی جائے۔ کمیشن نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ ایک امیدوار صرف ایک سیٹ سے الیکشن لڑے اور اگر یہ تجویـز منظور نہ ہو تو ایک سے زیادہ جس نشست پر جو امیدوار انتخاب میں کامیاب ہوگا اس کے ضمنی انتخاب کا جملہ خرچ متعلقہ امیدوار ادا کرے گا۔
انتخابی اصلاحات کی تجاویز میں قومی اسمبلی کی نشست پر انتخابات لڑنے والے امیدوار کے لیے ناقابل واپسی فیس بیس ہزار اور صوبائی اسمبلی کے لیے دس ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ کسی بھی شخص یا کسی ادارے کو کوئی بھی دستاویز چیف الیکشن کمشنر کے طلب کرنے پر پیش کرنے کو لازم قرار دیا جائے( اس تجویز کی منظوری کی صورت میں تمام خفیہ ایجنسیاں بھی پابند ہوں گی) ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
الیکشن کمیشن نے سینیٹ میں ٹیکنو کریٹس کی نشستوں کے لیے تشریح بھی تبدیل کرنے کی سفارش کی ہے۔ موجودہ شق کے مطابق سولہ سال تک تعلیم حاصل کرنے یعنی ماسٹرز ایک پیمانہ ہے لیکن ترمیم میں تجویز کیا گیا ہے کہ متعلقہ شعبہ میں پندرہ سال تک کا تجربہ اور مہارت ہونا لازم ہے۔
کمیشن نے امیدوار پر قرضہ معاف کرانے، ٹیکس یا یوٹیلی بلز کے نادہندہ ہونے کی صورت میں نا اہلی کی شق ختم کرنے کی سفارش کی ہے اور کہا ہے کہ اب امیدوار کا کوئی تجویز یا تائید کنندہ بھی نامزدگی فارم جمع کراسکتا ہے۔
انتخابی مقدمات نمٹانے کے لیے اِس وقت چیف الیکشن کمشنر پر لازم ہے کہ وہ صدر کی منظوری کے بعد اپیلٹ ٹریبونلز کے جج مقرر کرے۔ لیکن ترامیم میں تجویز کیا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو اختیار دیا جائے کہ وہ صدر کے بجائے متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت سے جج مقرر کرے۔
کمیشن کی زیادہ تر ترامیم تیکنیکی نوعیت کی ہیں اور مختلف قوانین میں ترامیم کرکے معاملات کو آسان بنانے کے بارے میں ہیں۔






















