جیو کی نشریات کی’ بندش‘

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
پاکستان کے کئی شہروں میں نجی ٹی وی چینل جیو کی نشریات مبینہ طور پر یا تو بند کر دی گئی ہیں یا اسے کیبل سروس کے آخری نمبر کے چینل پر منتقل کردیا ہے جس کی وجہ سے اس کا نشریات صاف دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ لاہور کے کچھ علاقوں میں بھی جیو کی نشریات نہیں دیکھی جا سکتیں۔
جیو انتظامیہ کے مطابق سب سے پہلے اسلام آباد اور راولپنڈی میں نشریات بند کی گئیں اس کے بعد لاہور ملتان فیصل آباد گوجرانوالہ سمیت مختلف شہروں میں کیبل آپریٹرز نے نشریات بند کرنا شروع کیں۔کراچی کے بعض علاقوں سے بھی ایسی اطلاعات ہیں۔
جیوٹی وی لاہور کے بیورو چیف خاور نعیم ہاشمی نے بی بی سی کو بتایا کہ کیبل آپریٹرز کو پاکستان میں میڈیا کے نگران ادارے پیمرا نے ایسا کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک حکومت نے اس پابندی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن یہ تو واضح ہے کہ پیمرا حکومت کے کہنے پر اقدامات کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر نیوز چینلز کی طرح ان کا چینل بھی لانگ مارچ کے بارے میں خبریں اور تبصرے نشر کررہا ہے جو ان کے بقول ممکن ہےکہ حکومت کو ناپسند ہوں۔
جیو نے احتجاج کے طور پر اپنے لوگو کا رنگ کالا کر دیا ہے اور اس پر اعلان کیا جارہا ہے کہ یہ بندش صدر آصف زرداری کے کہنے پر لگائی جا رہی ہے۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس،پنجاب یونین آف جرنلسٹس سمیت مختلف صحافی تنظیموں نے اس سے افسوسناک قرار دیا ہے اور احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔پنجاب یونین آف جرنلسٹس اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے ہفتہ کو لاہور پریس کلب میں احتجاجی کیمپ لگانے کا اعلان کیا ہے۔


















