’اب بھی حالات بہتر ہوسکتے ہیں‘

چوہدری نثار
،تصویر کا کیپشنججوں کی بحالی پر رکاوٹ پیدا ہوئی; نثار
    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سرکردہ رہنماچوہدری نثار علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے پنجاب میں ان کی جماعت کی حکومت بحال کرنے، گورنر راج اور شریف براداران کی نا اہلی ختم کرنے کی پیشکش کی ہے لیکن مصالحت میں ججوں کی بحالی پر رکاوٹ پیدا ہوگئی۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی اور بتایا کہ صدرِ مملکت نے یہ پیشکش مولانا فضل الرحمٰن، اسفند یار ولی، برطانوی ہائی کمشنر اور امریکی سفیر کی معرفت کی ہے۔ انہوں نے پہلی بار حکومت کے اتحادی اور مختلف ممالک کے سفیروں سے ہونے والی بات چیت کی تفصیلات کھل کر ذرائع ابلاغ کو بتائی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصالحت ججوں کی بحالی کے سوال پر رُکی ہوئی ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اب بھی حالات بہتر ہوسکتے ہیں اور ملک کو تباہی کے دہانے سے واپس لایا جاسکتا ہے اگر صدر آصف علی زرداری ججوں کی بحالی کا مسئلہ حل کریں۔

انہوں نے کہا مولانا فضل الرحمٰن عوام کو صحیح بات نہیں بتا رہے کہ اصل میں انہوں نے یہ خود کہا تھا کہ صدر آصف علی زرداری ججوں کی بحالی کا معاملہ وکلاء رہنماؤں سے مل کر طے کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر ان کے بقول مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ اگر وہ عدلیہ کا معاملہ خود طے کرنا چاہتے ہیں تو کریں لیکن ان کی جماعت دو سال سے جاری وکلاء تحریک کو چھوڑ نہیں سکتی۔

ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان نے بتایا کہ صدر زرداری کی جانب سے مصالحت کے لیے آنے والوں نے کہا کہ صدر گورنر راج ختم کرکے مسلم لیگ (ن) کو حکومت بنانے کی اجازت دینے اور میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی نا اہلی ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کے مطابق مصالحت کاروں نے نا اہلی ختم کرنے کے تین طریقے تجویز کیے، ایک یہ کہ صدر سزا معاف کردیں، دوسرا یہ کہ پارلیمان قانون سازی کرے اور تیسرا یہ کہ سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی جائے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے واضح کیا کہ وہ معافی کی کوئی درخواست نہیں دیں گے اور ایسا کوئی ریلیف قبول نہیں کریں گے جس سے ’قومی مصالحت آرڈیننس‘ کی بو آتی ہو۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنماء چوہدری نثار علی خان نے واضح کیا کہ آزاد عدلیہ کے بناء مسئلہ حل نہیں ہوگا اور لانگ مارچ کو روکنے سے یہ تحریک ختم نہیں ہوگی۔ ’یہ تحریک ہفتوں اور مہینوں تک جاری رہے گی اور اپنے مقاصد میں کامیابی تک نہیں رُکے گی۔‘

مسلم لیگ (ق) سے تعاون کے بارے میں بھی انہوں نے کہا کہ جو کچھ مسلم لیگ (ن) کرسکتی تھی وہ کیا اب فیصلہ چوہدری برادران نے کرنا ہے۔ انہوں نے پہلی بار یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کی جماعت نے مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شجاعت حسین، سید مشاہد حسین اور ایک خاتون سینیٹر کو منتخب کرانے اور چوہدری شجاعت کو چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے کی بھی پیشکش کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین جس جماعت (پیپلز پارٹی کو) اپنے باپ کا قاتل قرار دیتے رہے ہیں وہ ان کے ساتھ تعاون کرتے ہیں یاکہ وہ قوم کی آواز سنتے ہوئے اپنا فیصلہ کرتے ہیں۔