رضا ربانی کابینہ سے مستعفی

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ میں حکمراں پیپلز پارٹی کے رہنما سینٹر رضا ربانی کی ایوان بالا میں بطور قائد ایوان اور وفاقی وزیر استعفی منظور کر لیا ہے۔ اس کا اعلان وزیر اعظم سے رضا ربانی کی ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔
ادھر پیپلز پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سینٹر صفدر عباسی اور ان کی اہلیہ اور سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کی قریبی ساتھی ناہید خان نے راولپنڈی میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے لانگ مارچ اور دھرنے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
مبصرین کے خیال میں رضا ربانی کے مستعفی ہونے اور سینٹر صفدر عباسی کی جانب سے وکلا تحریک کے حمایت سے پیپلز پارٹی کے اندر جاری چھوٹے پیمانے پر ٹوٹ پھوٹ کے اشارے مل رہے ہیں۔
وزیر اعظم ہاوس کی جانب سے یہاں جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سیینٹر رضا ربانی نے سیینٹ میں بطور قائد ایوان اور وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی امور فرائض کی انجام دہی کے دوران وزیر اعظم کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔

بیان کے مطابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے رضا ربانی کی خدمات کی تعریف کی۔ انہوں نے خصوصاً سینیٹ کے چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کے عہدوں کے ئے حالیہ انتخابات میں بھی ان کے کردار کو سراہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سیینٹر رضا ربانی سینٹ چیرمین کے عہدے کے لیے فاروق ایچ نائیک کی نامزدگی پر ناراض تھے تاہم انہوں نے ابھی تک کھل کر ان عہدوں سے مستعفی ہونے کی وجوہات میڈیا کے سامنے نہیں بیان کیے ہیں۔
پشاور: پیپلز پارٹی کے سابق وزیر پارٹی سے مستعفی
پشاور میں پیپلز پارٹی کے ایک سابق وفاقی وزیر نے پارٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں حاجی یعقوب کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی کی موجودہ پالیسی سے متفق نہیں اور لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کریں گے۔ یاد رہے کہ حاجی یعقوب گزشتہ بائیس برسوں سے پیپلز پارٹی کے رکن تھے۔
راولپنڈی بار سے ناہید خان اور صفدر عباسی کا خطاب
راولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سیینٹر صفدر عباسی اور ناہید خان نے صدر آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا کہ وہ وکلاء کے مطالبات کو تسلیم کر لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرحومہ بےنظیر بھٹو کو ماننے والا ہر پارٹی کارکن معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کا حامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر زرداری کی ساکھ عدلیہ کے مسئلے کی وجہ سے عوام میں خراب ہو رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ناہید خان نے اپنے خطاب میں وکلاء سے اپنا مقاصد کے حصول تک جہدوجہد جاری رکھنے کے لیے کہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ جسٹس افتخار کے لیے نہیں بلکہ عدلیہ کی آزادی کے لیے ہے۔






















