شیری مستعفی، حکومت پر دباؤ

سرکاری ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمان کے حکومت کی 'میڈیا ہینڈلنگ‘ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفی دیا تھا جسے ان کے مطابق وزیر اعظم نے منظور کر لیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیر برائے امور کشمیر قمرالزماں قائرہ کو وزارت اطلاعات کا چارج بھی دے دیا ہے۔
حکومت کی طرف سے لانگ مارچ کو روکنے لیے اقدامات کے پیش نظر وکلاء نے جنوبی پنجاب سے لاہور پہنچنے کے لیے نئی حکت عملی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلوس کی بجائے سب لوگ اپنے ذرائع سے سفر جاری رکھیں۔ اسی دوران وزیر اطلاعات شیری رحمان نے ایک نجی چینل جیو کی نشریات کی بندش کی وجہ سے استعفی دے دیا ہے۔
کراچی اور کوئٹہ میں وکیل رہنماؤں نے ہوائی جہاز کے ذریعے سفر کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں بھی کامیاب نہ ہو سکے۔ جنوبی پنجاب سے سترہ لوگ گرفتار بھی ہوئے ہیں۔ سنیچر کو ملتان ہائی کورٹ بار سے وکلاء کا ایک جلوس روانہ ہوا جو کمہاراں والا چوک پر دھرنے کے بعد منتشر ہو گیا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں حکومت نے یونیورسٹیوں کے ہاسٹل خالی کروا لیے ہیں۔
<link type="page"><caption> رکاوٹوں کے باوجود احتجاج</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/03/090314_longmarch_pix_14_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
شیری رحمان کی جانب سے اپنا فیصلہ تبدیل نہ کرنے کی صورت میں پیپلز پارٹی حکومت کے لیے یہ ایک شدید دھچکا ہوگا۔ مبصرین کے خیال میں اس سے خصوصاً صدر آصف علی زرداری دن بدن سیاسی طور پر تنہا ہو جائیں گے۔
شیری رحمان نے جوکہ خود بھی ملک کی ایک سینئر صحافی رہی ہیں یہ فیصلہ بظاہر حکومت کی جانب سے ایک نجی ٹی وی چینل جیو پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد کیا ہے۔ ان کا ماضی میں کہنا تھا کہ اگر حکومت کی جانب سے کبھی کسی چینل پر پابندی عائد کی گئی تو وہ اسی وقت مستعفی ہو جائیں گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ایوان صدر میں کل رات گئے ایک صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایک اجلاس شیری رحمان کی بعض شرکاء کے ساتھ تقرار کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ادھر پیپلز پارٹی نے واضح کیا ہے کہ جماعت کی اس کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس سولہ مارچ سے شروع ہونے والے ہفتے میں کسی روز منعقد ہوگا۔ تاہم اس کی حتمی تاریخ کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔
پارٹی ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یے اجلاس سولہ مارچ کو منعقد نہیں کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں توقع ہے کہ ملکی سیاسی بحران پر غور ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملتان سے ہمارے نامہ نگار عباد الحق نے بتایا کہ ملتان ہائی کورٹ بار سے سینکڑوں وکلاء کا ایک جلوس لاہور کے لیے روانہ ہوا لیکن شرکاء نے چند کلومیٹر چلنے کے بعد کمہاراں والا چوک پر دھرنا دیا۔ وہاں پر ملتان ہائی کورٹ بار کے صدر محمود اشرف خان نے اعلان کیا کہ سب لوگ اب اپنے اپنے ذرائع سے لاہور پہنچنے کی کوشش کریں۔
انہوں نے ملتان ہائی کورٹ بار سے لانگ مارچ کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں اسلام آباد ضرور پہنچیں گے۔
نامہ نگار نے بتایا کہ کہ پانچ سو زیادہ وکلاء پر مشتمل قافلہ ہائی کورٹ بار سے پیدل روانہ ہوا تو پولیس کے اہلکار بھی ان کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع سے وکلاء اس قافلے میں شریک تھے۔ ملک کے دیگر حصوں سے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے روانہ ہونے والے وکلاء رکاوٹوں کی وجہ سے ملتان نہیں پہنچ سکے۔ ملتان میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ تھی اور وکلاء نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جلوس نکالا۔
طے شدہ پروگرام کے مطابق صوبہ سندھ اور بلوچستان سے وکیلوں کے قافلوں کو جمعہ کو پنجاب کے شہر ملتان پہنچنا تھا اور یہاں سے ان قافلوں کو چودہ مارچ کی صبح لاہور روانہ ہونا تھا۔
نامہ نگار کے مطابق بہاولپور ، ڈیرہ غازی خان ، مظفرگڑھ اور راجن پور سے آنے والے وکلاء کے بقول دریائے ستلج اور دریائے چناب کے پلوں پر پولیس کے ناکے ہیں اور وہاں سے گزرنے والی ہرگاڑی کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ ان وکلاء کا کہنا ہے کہ ان دونوں پلوں کے قریب کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں تاہم ابھی اس راستے کو بند نہیں کیا گیا۔

کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے بتایا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے کہا ہے کہ انھیں لاہور جانے کے لیے اجازت نہیں دی جا رہی اور اسلام آباد کی پرواز منسوخ کر دی گئی ہے۔ مسلم لیگ نواز کے صوبائی قائدین بھی اسی پرواز سے اسلام آباد جا رہے تھے جسے منسوخ کر دیا گیا ہے۔وکلاء رہنماؤں نے کہا ہے کہ علی احمد کرد کل اسلام آباد جانے کی کوشش کریں گے۔
صبح علی احمد کرد لاہور جانے کے لیے جب کوئٹہ کے ہوائی اڈے پر پہنچے تو انھیں بورڈنگ کارڈ جاری نہیں کیا گیا۔ علی احمد کرد نے صحافیوں کو بتایا کہ اس طرح کے حربوں سے انھیں لانگ مارچ یا دھرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ ان سے جب پوچھا کہ وکلا کے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ ناکام ہوگیا ہے تو انھیں نے کہا کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ابھی دن ہیں اور وہ ضرور اسلام آباد جاکر دھرنا دیں گے۔ انھوں نے کہا مرکزی حکومت کے احکامات پر انھیں بورڈنگ کارڈ جاری نہیں کیا گیا ہے اور اس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔
علی احمد کرد نے کہا کہ اب وہ اسلام آباد جائیں گے۔ اسلام آباد جانے والی قومی پرواز چار بجکر دس منٹ پر روانہ ہوگی۔ دریں اثناء ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ اسلام آباد جانے والی پرواز پی کے تین سو باون منسوخ پر دی گئی ہے۔ پی آئی کے حکام سے اس بارے میں رابطہ کیا تو ان سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔
علی احمد کرد نے کہا کہ انہیں روکنے میں بلوچستان حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے بلکہ صوبائی حکومت انھیں سہولت فراہم کرتی رہی جبکہ سندھ اور مرکز کی حکومتیں جو وکلاء کی تحریک کے نتیجے میں قائم ہوئی ہیں لیکن آج وہ انہی وکلاء کے احتجاج میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں جو قابل مذمت ہے۔
بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے رہنما باز محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق ژوب کے راستے ڈیرہ اسماعیل خان اور رکھنی کے راستے ڈیرہ غازی خان جانے والے راستوں پر بھی سخت چیکنگ کی جا رہی ہے اور انھیں اس طرف سے بھی جانے نہیں دیا جائے گا۔ باز محمد کاکڑ نے کہا کہ وہ اتوار کو جہاز کے ذریعے اسلام آباد جانے کی کوشش ضرور کریں گے۔
مسلم لیگ نواز کے صوبائی جنرل سیکرٹری ایاز سواتی نے کہا ہے کہ ان کے کارکن مختلف راستوں سے لاہور اور اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جبکہ قائدین نے کل کے لیے اسلام آباد جانے والی پرواز کی ٹکٹیں حاصل کر لی ہیں۔
کراچی سے ہمارے نگار ارمان صابر نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے کراچی میں بھی وکلاء کو لانگ مارچ میں شرکت کے لیے جہاز سے لاہور روانہ ہونے کی اجازت نہیں دی اور انہیں جہاز سے اتار لیا گیا۔
سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جسٹس ریٹائرڈ رشید اے رضوی، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر منیر اے ملک اور دیگر پانچ وکلاء کو آج سہ پہر پی آئی اے کے جہاز سے لاہور جانے کے لیے ہوائی اڈے پہنچے۔
وکلاء تمام مراحل طے کرنے کے بعد پی آئی اے کی فلائٹ نمبر 304 پر سوار ہوئے اور جہاز اپنے وقت پر روانگی کے لیے تیار ہوچکا تھا۔ ابھی جہاز پرواز بھرنے کے لیے رن وے کی جانب رواں دواں تھا کہ صوبائی محکمۂ داخلہ کی جانب سے انتظامیہ کو وکلاء کو کراچی میں ہی روکے جانے کے احکامات موصول ہوئے۔
احکامات موصول ہونے کے فوری بعد جہاز کو کنٹرول ٹاور سے اطلاع دی گئی کہ وہ رن وے سے واپس آجائے۔ واپس آنے کے بعد ائرپورٹ انتظامیہ نے لاہور جانے والے وکلاء کو جہاز سے اتار دیا اور انہیں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وکلاء نے حکومت کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
مظرف آباد سے ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکمران اتحاد میں شامل دو جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے سولہ مارچ کو لانگ مارچ اور دھرنے میں شریک ہوں گے۔ کشمیری حکام کا کہنا ہے کہ وہ لانگ مارچ کے شرکاء کو نہیں روکیں گے۔
حمکران اتحاد میں شامل یہ دونوں جماعتیں میاں نوازشریف کی حمایتی ہیں اور یہ دونوں جماعتیں پاکستان کے معزول ججوں کی بحالی کے مطالبے کی حمایت کرتی رہی ہیں۔
اسی دوران سنیچر کے روز مظفرآباد میں کالے کوٹ پہنے درجنوں وکلاء تپتی سڑک پر ننگے پاؤں احتجاج کیا اور وہ معزول ججز کی بحالی کے حق میں نعرہ لگارہے تھے۔






















