لانگ مارچ کے شرکاء رکاوٹیں عبور کرنے میں کامیاب

لاہور میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کا ہزاروں مظاہرین پر مشتمل قافلہ حکومت کی طرف سے قائم تمام رکاوٹیں عبور کرتا ہوا اسلام آباد کی طرف روانہ ہے اور راوی کا پل عبور کر چکا ہے۔ جلوس کے ساتھ رکاوٹیں اور کنٹینر ہٹانے کے لیے لفٹر بھی ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ یہ کہا سے حاصل کیے گئے ہیں۔
لاہور سے ہمارے نامہ نگار علی سلمان نے بتایا کہ دن بھر پولیس اور مظاہرین کے درمیان ٹکراؤ ہوتا رہا لیکن شام تک تمام حکومت کی تمام رکاوٹیں غیر موثر ہو گئیں اور شہر میں سیاسی کارکن آزادنہ گھومتے رہے اور مال روڈ کے ایک کونے سے دوسرے کونےتک عوام کا ہجوم تھا۔ مظاہرین میں مسلم لیگ(ن)، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے کارکن بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ(ن) کے سربراہ نواز شریف کا جلوس ماڈل ٹاؤن میں ان کی رہائشگاہ سے روانہ تو دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں کا قافلہ ہزاروں میں تبدیل ہو گیا۔ جلوس شہر کی مختلف شاہراوں سے ہوتا ہوا راوی کے پل کی طرف روانہ ہو گیا اور لوگوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔
کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے بتایا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد اور ان کے ساتھیوں کے پنجاب داخلے پر دس دن کی پابندی عائد کر دی گئی ہے اور انھیں آج کوئٹہ سے اسلام آباد جانے والے جہاز سے اتار دیا گیا ہے۔
علی احمد کرد نے کہا کہ آج دوسرح روز پرواز منسوخ ہونے کے خدشے اور دیگر سواریوں کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ جہاز سے واپس آگئے ہیں اور اب وہ اپنے ساتھیوں سے آئندہ کے لائحہ عمل کی تیاری کریں گے۔
اس سے قبل دن بھر لاہور کی سڑکوں پر مظٌاہرین اور پولیس میں ٹکراؤ ہوتا رہا اور آنسو گیس کا شدید استعمال کیا گیا۔شام کے وقت مظاہرین بہت بڑی تعداد میں مال روڈ پر پہنچ چکے تھے اور پولیس کی رکاوٹیں غیر موثر ہو چکی تھیں۔
دن کے آغاز پر کہا گیا تھا کہ حکومت پنجاب نے مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اعتزاز احسن کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کرکے ان کی قیام گاہوں کے اردگرد پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی تھی۔ تاہم حکومت نے کہا ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو نظر بند نہیں کیا۔
لاہور سے نامہ نگار نے بتایا کہ راستے میں لوگ ان کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کررہے ہیں اور ہاتھ ہلاکر ان کی خیر مقدم کیاجا رہا ہے۔ مال روڈ پر پہنچتے پہنچتے یہ قافلہ تقریباً تین کلومیٹر طویل ہو چکا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے جن جن راستوں کو روکنے کے لیے نجی بسیں کھڑی کی تھیں ان کے ڈرائیوروں نے نواز شریف کی گاڑی دیکھ کر بسیں ہٹا لیں۔کلمہ چوک پر بس ڈرائیوروں نے تاخیر کی تو لوگوں نے ان کے شیشے توڑ دیئے ہیں۔ متعدد مقامات پر لٹھ بردار کارکنوں نے پولیس اہلکاروں کی پٹائی بھی کی ہے۔
نواز شریف کے کارکن پرجوش ہیں وہ نواز شریف زندہ باد اور دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا کے نعرے لگارہے ہیں۔نواز شریف اپنی بلٹ پروف گاڑی میں ہیں اور ہاتھ ہلا کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دے رہے ہیں۔پولیس نے نواز شریف پر تعینات اپنی تمام سیکیورٹی ہٹا لی ہے اور اب ان کے ساتھ پارٹی کارکن اور خود ان کے سیکیورٹی گارڈ ہیں۔

چند ناکے ایسے بھی تھے جہاں پولیس اہلکاروں نے کوئی مزاحمت نہیں کی اور خاموشی سے الگ ہوگئے کارکنوں نے پنجاب پولیس زندہ باد کے نعرے لگائے۔لاہور کی تاریخ میں مسلم لیگ نون کا یہ پہلا ایسا بڑا جلوس ہے جو پرتشدد بھی ہے اور پولیس سے تصادم بھی کررہا ہے۔
اتوار کو مسلم لیگ نون کے رہنما ڈاکٹر سعید الہی نے کہا کہ پولیس اہلکار اپنے ساتھ نواز شریف سمیت چھ رہنماؤں کی نقل و حرکت پر پابندی کے تحریری لائے اور انہیں کہا کہ وہ ریلی نہ نکالیں۔ مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ اس پابندی کو نہیں مانتےاور جلوسضرور جائے گا۔
میاں شہباز شریف پہلے ہی موٹر وے کےذریعے راولپنڈی پہنچ چکے ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے امیر قاضی حسین احمد رات کو ہی لاہور سے اسلام آباد پہنچ گئے تھے جہاں وہ لانگ مارچ اور دھرنے کے مقام پر پہنچیں گے۔ منصورہ کے اردگرد خاردار تاریں لگا کر پولیس نے محاصرہ کررکھا ہے کارکنوں نے ایک مظاہرہ بھی کیا۔
تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے ذیلی دفاتر کا بھی پولیس نے محاصرہ کیے رکھا۔ لاہور میں معمول کی زندگی عملی طور پر معطل ہوکررہ گئی ۔پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی پولیس کے محاصروں اورناکوں کی اطلاعات تھیں۔ لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ اسلام آباد تک راستہ صاف ہے اور جلوس کو کسی رکاوٹ کے پیش آنے کا امکان نہیں۔ اس سے پہلے دن بھر مختلف شہروں سے لوگوں کو نکلنے کی اجازت نہیں تھی حتی کہ بسوں ویگنوں سے مسافروں کو اتارا جارہا ہے۔
حکومتی اقدامات کی وجہ سے لانگ مارچ کے اثرات پنجاب کی بڑی آبادی نے محسوس کیے ہیں۔
وفاقی وزیر منظور وٹو سمیت پانچ وفاقی وزراء کی کمیٹی لانگ مارچ کے معاملات کی نگرانی کے لیے لاہور میں موجود تھی۔ منظور وٹو نے کہا کہ اسلام آباد تک لانگ مارچ میں شرکت روکنے کے لیے لوگوں کو ان کے شہروں میں ہی روکا جارہا ہے۔
اسکے علاوہ اعلیٰ پولیس حکام نے سوموار کے روز علی الصبح شریف برادران کی رہائشگاہ پر ایک تحریری سرکاری دستاویز بھی پہنچائی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق بعض خود کش حملہ آور لاہور شہر میں داخل ہو چکے ہیں جن کا ہدف میاں نواز شریف ہیں۔
نواز شریف کی رہائشگاہ پر دیگر سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ رات گزارنے والے رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سعید الٰہی نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ اس سرکاری دستاویز کی بنیاد پر پولیس نے نواز شریف سے اپنے ریلی منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔

رکن صوبائی اسمبلی کے مطابق اس پولیس پارٹی کے جانے کے فوراً بعد بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے شریف برادران کی رہائشگاہ کے سبزہ زار میں ٹینٹ میں سوئے ہوئے پارٹی کارکنوں پر دھاوا بول دیا اور ان میں سے بعض کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کا یہ چھاپہ اتنا اچانک تھا کہ صبح ریلی میں شرکت کے انتظار میں سوئے ہوئے پارٹی کارکنوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔
تاہم شور مچنے پر اردگرد موجود سینکڑوں کارکن وہاں جمع ہو گئے اور انہوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ ان میں بعض ایسی خواتین کارکن بھی موجود تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کے ہمراہ رات اسی ٹینٹ میں گزاری تھی۔
ادھر راولپنڈی میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات راولپنڈی ڈسٹرکٹ کورٹپر چھاپہ مار کر مختلف شہروں سے آئے ہوئے سو سے زائد وکیلوں کو گرفتار کر لیا۔
ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق گرفتاری کے وقت ان وکلاء پر تشدد بھی کیا گیا۔ انہیں بعد میں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ راولپنڈی کی انتظامیہ کے مطابق ان وکلاء کو دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے۔






















