نواز کی قیادت میں قافلہ گوجرانوالہ میں

پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کی قیادت میں لاہور سے روانہ ہونے والا قافلہ رات ہونے کے ساتھ ہی شاہدرہ سے مرید کے درمیان پھیل گیا ہے۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پہلے یہ کہا جا رہا تھا کہ نواز شریف قافلے کے آگے چل رہے ہیں تاہم بعد میں کہا جانے لگا کہ وہ قافلے کے پیچھے ہیں اور آ رہے ہیں۔
اس کے علاوہ قافلے میں شامل دوسری گاڑیاں اور لوگ کچھ دیر آرام اور کھانے وغیرہ کے لیے قریب تریں شہروں کی طرف چلے گئے ہیں۔
اس دوران پاکستانی ذرائع ابلاغ مسلسل یہ خبر نشر کر رہے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی قوم سے خطاب کرنے والے ہیں جس میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کا اعلان کر سکتے ہیں۔
ان ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ میاں نواز شریف اس اطلاع کے بعد اپنے قافلے سے الگ ہو کر ایسی جگہ کی طرف روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ وزیراعظم کا خطاب سن سکیں۔ تاہم اس اطلاع کی ہمارے نمائندے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
اس سے قبل ملنے والی اطلاعات کے مطابق لاہور میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کا ہزاروں مظاہرین پر مشتمل قافلہ حکومت کی طرف سے قائم تمام رکاوٹیں عبور کرتا ہوا اسلام آباد کی طرف روانہ ہے اور راوی کا پل عبور کر چکا ہے۔ جلوس کے ساتھ رکاوٹیں اور کنٹینر ہٹانے کے لیے لفٹر بھی ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ یہ کہا سے حاصل کیے گئے ہیں۔
لاہور سے ہمارے نامہ نگار علی سلمان نے بتایا کہ دن بھر پولیس اور مظاہرین کے درمیان ٹکراؤ ہوتا رہا لیکن شام تک تمام حکومت کی تمام رکاوٹیں غیر موثر ہو گئیں اور شہر میں سیاسی کارکن آزادنہ گھومتے رہے اور مال روڈ کے ایک کونے سے دوسرے کونےتک عوام کا ہجوم تھا۔ مظاہرین میں مسلم لیگ(ن)، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے کارکن بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ(ن) کے سربراہ نواز شریف کا جلوس ماڈل ٹاؤن میں ان کی رہائشگاہ سے روانہ تو دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں کا قافلہ ہزاروں میں تبدیل ہو گیا۔ جلوس شہر کی مختلف شاہراوں سے ہوتا ہوا راوی کے پل کی طرف روانہ ہو گیا اور لوگوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے بتایا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد اور ان کے ساتھیوں کے پنجاب داخلے پر دس دن کی پابندی عائد کر دی گئی ہے اور انھیں آج کوئٹہ سے اسلام آباد جانے والے جہاز سے اتار دیا گیا ہے۔
علی احمد کرد نے کہا کہ آج دوسرح روز پرواز منسوخ ہونے کے خدشے اور دیگر سواریوں کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ جہاز سے واپس آگئے ہیں اور اب وہ اپنے ساتھیوں سے آئندہ کے لائحہ عمل کی تیاری کریں گے۔
اس سے قبل دن بھر لاہور کی سڑکوں پر مظٌاہرین اور پولیس میں ٹکراؤ ہوتا رہا اور آنسو گیس کا شدید استعمال کیا گیا۔شام کے وقت مظاہرین بہت بڑی تعداد میں مال روڈ پر پہنچ چکے تھے اور پولیس کی رکاوٹیں غیر موثر ہو چکی تھیں۔
دن کے آغاز پر کہا گیا تھا کہ حکومت پنجاب نے مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اعتزاز احسن کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کرکے ان کی قیام گاہوں کے اردگرد پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی تھی۔ تاہم حکومت نے کہا ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو نظر بند نہیں کیا۔
لاہور سے نامہ نگار نے بتایا کہ راستے میں لوگ ان کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کررہے ہیں اور ہاتھ ہلاکر ان کی خیر مقدم کیاجا رہا ہے۔ مال روڈ پر پہنچتے پہنچتے یہ قافلہ تقریباً تین کلومیٹر طویل ہو چکا تھا۔
پولیس نے جن جن راستوں کو روکنے کے لیے نجی بسیں کھڑی کی تھیں ان کے ڈرائیوروں نے نواز شریف کی گاڑی دیکھ کر بسیں ہٹا لیں۔کلمہ چوک پر بس ڈرائیوروں نے تاخیر کی تو لوگوں نے ان کے شیشے توڑ دیئے ہیں۔ متعدد مقامات پر لٹھ بردار کارکنوں نے پولیس اہلکاروں کی پٹائی بھی کی ہے۔
نواز شریف کے کارکن پرجوش ہیں وہ نواز شریف زندہ باد اور دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا کے نعرے لگارہے ہیں۔نواز شریف اپنی بلٹ پروف گاڑی میں ہیں اور ہاتھ ہلا کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دے رہے ہیں۔پولیس نے نواز شریف پر تعینات اپنی تمام سیکیورٹی ہٹا لی ہے اور اب ان کے ساتھ پارٹی کارکن اور خود ان کے سیکیورٹی گارڈ ہیں۔
اس سے پہلے ماڈل ٹاؤن میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ وہ اپنی نظر بندی کے احکامات کو تسلیم نہیں کرتے اور ہر رکاوٹ توڑتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں گے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں سے نکلیں اور پاکستان کو بچانے کے لیے اپنا فیصلہ کن کردار ادا کریں۔
اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری نے ان کے رہائش گاہ کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور پورے شہر میں جگہ جگہ ناکے لگے تھے۔
نواز شریف نے کہا اس وقت پورے ملک میں کرفیو کا سماں ہے اور ہر وہ حربہ استعمال کیا گیا جس سے قانون پامال ہوتا ہے اور عوام کے سیلاب کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے ہر حربہ استعمال کیا تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ان غیر قانونی اقدامات کو تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی نظربندی کو نہیں مانتے کیونکہ یہ غیر آئینی ،غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔انہوں نے کہا کہ 'غیر آئینی عدالتوں کے تمام فیصلے اور ان فیصلے کے نتیجے میں ہونے والے تمام عمل غیر قانونی ہیںٰ۔پاکستان میں یہ جو جگہ جگہ دفعہ ایک سوچوالیس نافذ کی گئی ہے وہ بھی غیرقانونی ہے۔ٰ
انہوں نے کہا 'مجھے باہر جانے سے روکا جارہا ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ ساری پابندیاں ہٹادو،یہ پاکستانی جذبے کو گرفتار نہیں کرسکتے۔یہ پاکستان کو اس کی منزل پر پہنچانے کے جذبے کو نہیں روک سکتےٰ۔انہوں نے کہا کہ اس جذبے کو روکنے کی بجائے اسے سلام کرو۔انہوں نے کہا کہ 'خدا خدا کرکے آج یہ دن دیکھنا نصیب ہوا ہے ساٹھ برس کے بعد ہم یہ دیکھ پائے ہیںٰ۔مسلم لیگ نون کے سربراہ نے کہا کہ 'اب پاکستان کو اس کا منزل مقصود پر پہنچائے بغیر ان کے قدم رک نہیں سکتےاور اگر انہوں نے مجھے گرفتار کرلیا ہے تو میں انہیں وارننگ دیتا ہوں کہ یہاں سے یہ سب پابندیاں ہٹاؤ کیونکہ یہ غیر قانونی پابندیاں ہیں اور یہ نواز شریف کو ان پابندیوں میں جکڑ کر نہیں رکھ سکتے۔ٰ
انہوں نے کہا اگر نواز شریف نے ان پابندیوں کوقبول کرلیا تو پھر کون انہیں توڑے گا؟انہوں نے کہا کہ ہم اس قانون اس پابندی کو قبول نہیں کرتے۔نواز شریف نے کہا کہ 'وہ دن آگیا ہے کہ نوجوان گھر نکلیں، قوم کی بیٹیوں اپنے گھروں سے نکلنے کا وقت آگیا ہے۔یہ پاکستان کو دوراہے سے نکالنے کا وقت ہے آؤ ملکر منزل کی جانب رواں دواں ہوجائیںٰ۔انہوں نے کہا 'اگر راستے میں مجھے روکا گیا تو پھر شمع سے شمع جلنی چاہیے اور یہ روشنی گھر گھر پہنچے اور اتنی بڑھ جائے کہ پاکستان سے بے روزگاری کی لعنت،بے انصافی اور افراتفری کا خاتمہ ہوجائے۔ٰ
انہوں نے عوام کو مخاطب ہوکر کہا کہ 'اپنے آپ کو گومگو کی کیفیت کا شکار نہ ہونے دینا آج فیصلہ کن گھڑی آچکی ہے آؤ نواز شریف کے سنگ سنگ چلیں آؤ اسلام آباد چلیں عوام کی خوشحالی کی طرف چلیں۔۔ہم کسی سے ڈر نہیں سکتے ہم کسی سے مرعوب نہیں ہوسکتے۔ٰ
نواز شریف نے شعر پڑھا
باطل سے ڈرنے والے اے آسماں نہیں ہم، سوبار کرچکا ہے امتحاں ہمارا
نواز شریف نے کہا کہ 'یہ رکاوٹیں عارضی ہیں انہیں گرا کر اپنی منزل پر پہنچ سکتےہیں۔انہوں نے کہ میں آج میں گھر گھر آواز دے رہا ہوں،پاکستان ہر گھر پردستک دے رہا ہے اورپکاررہا کہ آؤ فیصلہ کن کردار ادا کرکے مجھے بچاؤ۔آج مجھے اپنی منزل پر پہنچاؤٰ۔
مسلم لیگ نون کے قائد نے کہا کہ' سنہ انیس سوسینتالیس کو قیام پاکستان کے بعد اب یہ دوسرا موقع ہے جب پاکستان آپ کو ایک بار پھر آواز دے رہا ہے۔ٰ
انہوں نے کہاکہ 'آج یہ قافلہ نکلے گا اور اپنی منزل پر پہنچے گاٰ۔انہوں نے عوام کو مخاطب کرکے کہا کہ 'آپ نے وعدہ کررکھا ہے کہ آپ نواز شریف کے کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم ملا کر نواز شریف کے سنگ چلیں گے۔آج وہ گھڑی آگئی ہے میں نکل رہا ہوں اپنا وعدہ پورا کرو میرے ساتھ آؤ ہم پاکستان کی تقدیر بدلیں گے۔ٰ

جب میاں نواز شریف اپنی رہائش گاہ سے باہر آئے تو چند ناکے ایسے بھی تھے جہاں پولیس اہلکاروں نے کوئی مزاحمت نہیں کی اور خاموشی سے الگ ہوگئے کارکنوں نے پنجاب پولیس زندہ باد کے نعرے لگائے۔لاہور کی تاریخ میں مسلم لیگ نون کا یہ پہلا ایسا بڑا جلوس ہے جو پرتشدد بھی ہے اور پولیس سے تصادم بھی کررہا ہے۔
اتوار کو مسلم لیگ نون کے رہنما ڈاکٹر سعید الہی نے کہا کہ پولیس اہلکار اپنے ساتھ نواز شریف سمیت چھ رہنماؤں کی نقل و حرکت پر پابندی کے تحریری لائے اور انہیں کہا کہ وہ ریلی نہ نکالیں۔ مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ اس پابندی کو نہیں مانتےاور جلوسضرور جائے گا۔
میاں شہباز شریف پہلے ہی موٹر وے کےذریعے راولپنڈی پہنچ چکے ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے امیر قاضی حسین احمد رات کو ہی لاہور سے اسلام آباد پہنچ گئے تھے جہاں وہ لانگ مارچ اور دھرنے کے مقام پر پہنچیں گے۔ منصورہ کے اردگرد خاردار تاریں لگا کر پولیس نے محاصرہ کررکھا ہے کارکنوں نے ایک مظاہرہ بھی کیا۔
تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے ذیلی دفاتر کا بھی پولیس نے محاصرہ کیے رکھا۔ لاہور میں معمول کی زندگی عملی طور پر معطل ہوکررہ گئی ۔پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی پولیس کے محاصروں اورناکوں کی اطلاعات تھیں۔ لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ اسلام آباد تک راستہ صاف ہے اور جلوس کو کسی رکاوٹ کے پیش آنے کا امکان نہیں۔ اس سے پہلے دن بھر مختلف شہروں سے لوگوں کو نکلنے کی اجازت نہیں تھی حتی کہ بسوں ویگنوں سے مسافروں کو اتارا جارہا ہے۔
حکومتی اقدامات کی وجہ سے لانگ مارچ کے اثرات پنجاب کی بڑی آبادی نے محسوس کیے ہیں۔
وفاقی وزیر منظور وٹو سمیت پانچ وفاقی وزراء کی کمیٹی لانگ مارچ کے معاملات کی نگرانی کے لیے لاہور میں موجود تھی۔ منظور وٹو نے کہا کہ اسلام آباد تک لانگ مارچ میں شرکت روکنے کے لیے لوگوں کو ان کے شہروں میں ہی روکا جارہا ہے۔
اسکے علاوہ اعلیٰ پولیس حکام نے سوموار کے روز علی الصبح شریف برادران کی رہائشگاہ پر ایک تحریری سرکاری دستاویز بھی پہنچائی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق بعض خود کش حملہ آور لاہور شہر میں داخل ہو چکے ہیں جن کا ہدف میاں نواز شریف ہیں۔
نواز شریف کی رہائشگاہ پر دیگر سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ رات گزارنے والے رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سعید الٰہی نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ اس سرکاری دستاویز کی بنیاد پر پولیس نے نواز شریف سے اپنے ریلی منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔

رکن صوبائی اسمبلی کے مطابق اس پولیس پارٹی کے جانے کے فوراً بعد بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے شریف برادران کی رہائشگاہ کے سبزہ زار میں ٹینٹ میں سوئے ہوئے پارٹی کارکنوں پر دھاوا بول دیا اور ان میں سے بعض کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کا یہ چھاپہ اتنا اچانک تھا کہ صبح ریلی میں شرکت کے انتظار میں سوئے ہوئے پارٹی کارکنوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔
تاہم شور مچنے پر اردگرد موجود سینکڑوں کارکن وہاں جمع ہو گئے اور انہوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ ان میں بعض ایسی خواتین کارکن بھی موجود تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کے ہمراہ رات اسی ٹینٹ میں گزاری تھی۔
ادھر راولپنڈی میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات راولپنڈی ڈسٹرکٹ کورٹپر چھاپہ مار کر مختلف شہروں سے آئے ہوئے سو سے زائد وکیلوں کو گرفتار کر لیا۔
ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق گرفتاری کے وقت ان وکلاء پر تشدد بھی کیا گیا۔ انہیں بعد میں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ راولپنڈی کی انتظامیہ کے مطابق ان وکلاء کو دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے۔






















