پیپلز پارٹی دباؤ میں

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان کے جاری سیاسی بحران کا اثر پیپلز پارٹی اور اس کی حکومت دونوں پر بڑی بری طرح سے پڑ رہا ہے۔ اگر کوئی سیاسی جماعت سب سے زیادہ دباؤ میں اس وقت نظر آتی ہے تو وہ بلاشبہ پیپلز پارٹی ہے۔ صدر زرداری نے دباؤ کا جواب کنٹینروں کا جال بچھا کر ماضی کی آمر حکومتوں کی روایت کو برقرار رکھ کر دیا ہے۔
جیسا کہ دباؤ میں ہوتا ہے حکمراں جماعت میں دراڑیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ واضح ہوتی جا رہی ہیں۔ اعتزاز احسن تو دو برس قبل نو مارچ کے دن ہی سے پیپلز پارٹی کے کارکن سے زیادہ وکیل دکھائی دے رہے تھے۔
پھر بےنظیر بھٹو جیسی بڑی رہنما کا قتل ہوا اور ناہید خان اور سینٹر صفدر عباسی جیسے قریبی کارکن دور ہونے لگے۔ سینٹ کے حالیہ انتخابات کے دوران رضا ربانی اور انور بیگ جیسے اہم رہنما بھی دور ہوتے گئے۔
اب ایک اور شدید دھچکا وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان کے استعفے کی صورت میں پیپلز پارٹی کو لگا ہے۔ ان کا یہ عمل یقیناً قابل ستائش ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں بڑے بڑے سانحوں کے بعد بھی کسی کو اتنی جرات نہیں ہوتی کہ وہ وزارت سے باعزت طریقے سے الگ ہوجائے۔
وکلاء اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کا لانگ مارچ اگرچہ سخت حکومتی اقدامات کی وجہ سے اسلام آباد اس طرح نہ پہنچ پائے جس طرح منتظمین نے منصوبہ بندی کی تھی تاہم وہ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت کو ایک حد تک نقصان پہنچانے میں بظاہر کامیاب ہوا ہے۔
لیکن اس وقت پیپلز پارٹی سے زیادہ اس کے سربراہ اور صدر آصف علی زرداری حزب اختلاف کی تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔ عالمی میڈیا انہیں وفاق کی نہیں نفاق کی علامت بنتا دیکھ رہا ہے۔ وہ ہی معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بتائے جاتے ہیں۔

مختلف سیاسی جماعتیں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے صدر کے حصار سے نکل کر جمہوریت کے لیے آزادانہ فیصلہ کرنے کی مانگ کر رہی ہیں۔ لیکن ابھی اس کے اشارے کم ہی ہیں۔
اپنے انتخاب کے فورا بعد صدر نے جو سترہویں آئینی ترمیم کے خاتمے پر رضامندی ظاہر کی تھی اس میں تاخیر کی وجہ شاید اب واضح ہوگئی ہے۔ بےاختیار ہونا ان کے لیے سیاسی طور پر اچھا نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پارٹی کے قانون سازوں سے ایوان صدر میں ایک ملاقات میں صدر نے انہیں تنقید کا مرکز بنائے جانے کو ماضی کی جماعتی قیادت اور کارکنوں میں فاصلے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ستر کی دہائی میں مخالفین نے جماعت کے بارے میں کہا تھا کہ انہیں پیپلز پارٹی قبول ہے لیکن اس کے رہنما ذوالفقار علی بھٹو نہیں۔
اس کے بعد بےنظیر بھٹو کو ’سکیورٹی رسک‘ قرار دیتے ہوئے ان سے جان چھڑانے کی باتیں کی گئیں تھیں۔ بقول آصف زرداری یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اجلاس میں اس اثر کو زائل کرنے کے لیے کہ جماعت میں اختلافات ہیں پارٹی کے شریک چیرمین کی قیادت پر اس اجلاس کے شرکاء نے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
وکلاء نے کنٹینروں کے ہٹائے جانے تک اب احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ جس روز یہ آہنی ڈبے ہٹائیں جائیں گے اسی روز وہ لاکھوں کی تعداد میں شاہرائے دستور پر پہنچ جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ غیرمعینہ دھرنا ہوگا۔
اب ایسے میں سوال یہ ہے کہ رحمان ملک جیسے سکیورٹی ماہر کی تجویز کی روشنی میں صدر کب تک کنٹینروں کے ذریعے اپنی حکومت جاری رکھ پائیں گے۔ انہوں نے پرامن احتجاج کو ریاستی طاقت کے ذریعے روکنے کی کوشش کرکے اپنے آپ کو فوجی آمروں کی قطار میں کھڑا کر دیا ہے۔
معزول چیف جسٹس کے مستقبل کا کوئی متفقہ حل نہ نکل سکنے نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر سیاسی بحران کے ایک طویل دور سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے میں پیپلزپارٹی کو اپنے اندر اتفاق اور بیرونی مقبولیت کو برقرار رکھنا ایک مشکل چیلنج بھی درپیش رہے گا۔






















