’بحالی ہو گی، دوبارہ تقرری نہیں‘

- مصنف, عباد الحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے ججوں کی بحالی کا جو اعلان کیا ہے اس میں انہوں نے بحالی کا لفظ استعمال کیا ہے اور ان کے بقول بحالی سے مراد دوبارہ تقرری نہیں ہے اسی وجہ سے بحال ہونے والے ججوں کو دوبارہ حلف نہیں لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری اپنے عہدے پر بحال ہونے کے بعد خود این آر او کے بارے میں مقدمہ کی سماعت نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ بات پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ان کا کہنا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنی بحالی کے بعد اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کے بارے میں مقدمے کی سماعت کرنے والے بنچ کی صدارت کرنے سے گزیز کیا تھا کیونکہ جنرل مشرف نے جسٹس افتخار کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹایا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ این آر او سے فائدہ حاصل کرنے والے بھی جسٹس افتخار محمد چودھری کی مخالفت کرتے رہے ہیں اس لیے ان کے خیال میں جسٹس افتخار محمد چودھری اپنی ماضی کی روایت کے مطابق این آر او کے خلاف مقدمہ کی خود سماعت سے اجتناب کریں گے۔
اعتزاز احسن نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے قواعد کے مطابق نظرثانی کی درخواست کی سماعت عدالت کا وہی بنچ یا جج کرتے ہیں جو پہلے اس معاملے پر فیصلہ دے چکے ہوں اس لیے شریف برادران کی نااہلیت کے بارے میں اگر کوئی نظرثانی کی درخواست دائر کی جاتی ہے تو اس پر بقول ان کے جسٹس افتخار محمد چودھری سماعت نہیں کرسکتے۔
ایک سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعظم نے ججوں کی بحالی کا جو اعلان کیا ہے اس میں انہوں نے بحالی کا لفظ استعمال کیا ہے اور ان کے بقول بحالی سے مراد دوبارہ تقرری نہیں ہے اسی وجہ سے بحال ہونے والے ججوں کو دوبارہ حلف نہیں لیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دو نومبر کو جو جج تھے اور وہ اپنی معزولی کے دوران ریٹائر نہیں ہوئے وہ اب بحال ہوگئے ہیں۔
اعتزاز احسن جو پیپلز پارٹی کے رہنما بھی ہیں کا کہنا ہے کہ ان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ معزول ججوں کو ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بحال کیا جاسکتا ہے اور اس کے لیے کسی آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ان کے موقف کو درست تسلیم کرلیا ہے اور اس موقف کی مخالفت کرنے والوں کا موقف غلط ثابت ہوگیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وکیلوں کے رہنما اور سپریم کورٹ بار کے سابق صدر کا کہنا ہے کہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ مکمل تعاون کرے کیونکہ ایک آزاد عدلیہ ہی مسائل کا سدباب کرسکتی ہے۔
اعتزاز احسن نے بتایا کہ بائیس مارچ کو جب جسٹس افتخار محمد چودھری اپنے فرائض سنبھالیں گے اس دن وہ بیظیر بھٹو کے نمائندہ کے طور پر اور جسٹس افتخار محمد چودھری کی خواہش پر ایک سادہ تقریب میں ان کے گھر پر قومی پرچم اسی مقام پر لہرائیں گے جہاں سے تین کو سابق صدر جنرل مشرف نے یہ پرچم اتارا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو نے جو وعدہ کیا تھا وہ وعدہ اب پورا ہوگیا ہے اور ججوں کی بحالی سے لانگ مارچ اور دھرنا دینے کا مقصد پورا ہوچکا ہے۔






















