لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان

دن بھر کے ٹکراؤ کے بعد پولیس کی رکاوٹیں غیر موثر ہو گئیں
،تصویر کا کیپشندن بھر کے ٹکراؤ کے بعد پولیس کی رکاوٹیں غیر موثر ہو گئیں
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گوجرانوالہ
  • وقت اشاعت

مسلم لیگ نون کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے معزول ججوں کی بحالی کے فیصلہ کے اعلان کے بعد اسلام آباد کی طرف جاری لانگ مارچ کو ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

نواز شریف نے یہ اعلان پیر کی صبح پنجاب کے شہر گوجرنوالہ میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نواز شریف نے یہ اعلان وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خطاب کے بعد کیا جس میں وزیر اعظم پاکستان نے معزول ججوں کو بحال کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

نواز شریف اس قافلے کی قیادت کررہے تھے جو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرتے ہوئے پنجاب کے شہر گوجرانوالہ پہنچا تھا۔

نواز شریف نے لانگ مارچ کو ختم کرنےکا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ معزول ججوں کے بحال ہونے کے بعد اسلام آباد میں دھرنا دینے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔

ان کے بقول لانگ مارچ کو ختم کرنے کا فیصلہ وکلاء کے رہنماؤں اعتزاز احسن اور علی احمد کرد کے علاوہ وکلاء قیادت سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

مسلم لیگ نون کے قائد نے ججوں کی بحالی کے اعلان پر صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ آج قوم کو ایک بڑی خوش خبری ملی ہے اور اب ملک کی تقدیر یہاں سے بدلے گی بقول ان کے اب انقلاب آئے گا۔

نواز شریف نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اب مثیاق جمہوریت پر عمل کریں گے اور ملک میں اصل جمہوریت رائج کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عہد کیا کہ پاکستان میں اب عدلیہ آزاد ہوگی اور پارلیمنٹ کی بالادستی قائم ہوگی۔

دوسری طرف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ججوں کی بحالی کے اعلان کے بعد دھرنے کی اپیل واپس لے لی ہے اور اس فیصلے کو ملک اور قوم کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔

کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق صحافیوں سے باتیں کرتے ہوے علی احمد کرد نے وکلا صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کو مبارکباد دی ہے اور کہا کہ اب ملک میں صورتحال بہتر ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ انھیں اور ان کے ساتھیوں کو یقین تھا کہ جسٹس افتخار چودھری اور دیگر ججز کو بحال کر دیا جائے گا۔ علی احمد کرد آج اسلام آباد روانہ ہوں گے۔ اس سے پہلے تین روز تک مسلسل کوششوں کے باوجود انھیں لاہور اور اسلام آباد نہیں جانے دیا گیا تھا اور گزشتہ روز پنجاب حکومت کی جانب سے ان پر پنجاب داخلے پر دس روز کے لیے پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

اس کے علاوہ آج وکلا کی جانب سے ایک ریلی نکالی جائے گی جس میں تحریک کی کامیابی پر شکر ادا کیا جائے گا۔

جسٹس افتخار چودھری کا تعلق بلوچستان سے ہے اور ان کی بحالی کے لیے بلوچستان کے وکلاء نے تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس تحریک کے دوران گرفتار بھی کیے گئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد کچھ وکیل اس تحریک میں پیچھے ہٹ گئے تھے لیکن اس کے باوجود صوبے میں وکلا نے ہمت نہیں ہاری۔