بحالی کا جشن جاری، نوٹیفکیشن آج متوقع

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، راولپنڈی
- وقت اشاعت
جسٹس افتخار چودھری کی بحالی پر ملک بھر میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں جبکہ اس سلسلے میں سرکاری اعلامیہ آج جاری ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی سیکریٹری قانون آغا رفیق نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طرف سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور اعلیٰ عدلیہ کے دیگر معزول ججوں کی بحالی کے اعلان کے بعد وزارتِ قانون کی طرف سے ایک سمری صدر کی منظوری کے لیے بھیجی گئی ہے اور اس کی منظوری کے بعد سرکاری نوٹیفکیشن آج کسی بھی وقت جاری ہو سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں آغا رفیق نے کہا کہ سمری کی منظوری کے بعد چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے پانچ، لاہور اور سندھ ہائی کورٹ کے دو دو اور پشاور ہائی کورٹ کے ایک جج کی بحالی عمل میں آئے گی۔
یادرہے کہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پیر کی صبح قوم سے اپنے خطاب میں سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت اعلٰی عدالتوں کے دیگر معزول ججوں کو بحال کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
جسٹس افتخار بائیس مارچ کو اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گے۔ موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اکیس مارچ کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔
اس وقت افتخار محمد چودھری کے علاوہ سپریم کورٹ کے جن چار ججوں کو بحال کیا گیا ہے ان میں جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس راجہ محمد فیاض، جسٹس محمد اعجاز چودھری اور جسٹس فلک شیر شامل ہیں۔جسٹس جاوید اقبال نے تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پاکستان پریس کونسل کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا تھا تاہم جب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے جن معزول ججوں کی نظر بندی ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تو انہوں نے اپنےعہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ وہ افتخار محمد چودھری اور جسٹس رانا بھگوان داس کے بعد سپریم کورٹ کے سب سے سینئیر جج تھے۔
وزیر اعظم یوسف گیلانی کی طرف سے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے بعد وکلاء کی ایک بڑی تعداد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے گھر پر پہنچ گئی اس کے علاوہ اسلام آباد کے مختلف علاقوں بالخصوص ججز کالونی کے باہر تمام رکاوٹیں ہٹا دی گئیں۔ ججز کالونی میں ایک جشن کا سا سماں رہا اور وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے رہے اور اس موقع پر مھٹائیاں بھی تقسیم کی گئیں۔

وزیراعظم کی تقریر کے بعد معزول ججوں کی بحالی کے اعلان کے بعد راولپنڈی میں بھی متعدد مقامات پر رکاوٹیں ہٹا دی گئیں اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور آزاد عدلیہ اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے حق میں نعرے لگائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ گزشتہ برس سید یوسف رضا گیلانی جب وزیراعظم بنے تھے تو انہوں نے پہلے ہی خطاب کے اُن تمام معزول ججوں کو رہا کرنے کے احکامات دیے تھے جنہیں سابق ملڑی ڈکٹیٹر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ججز کالونی میں نظر بند کردیا تھا۔
صدر آصف علی زرداری نے معزول ججوں کی بحالی کے لیے پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کے ساتھ تحریری معاہدے بھی کیے تھے بعدازاں ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا جس پر پاکستان مسلم لیگ نون حکومت سے علیحدہ ہوگئی تھی۔ اس وقت حکمراں جماعت کا کہنا تھا کہ ملک میں تین نومبر ملک میں ایمرجنسی کے بعد جن ججوں کو معزول کیا گیا تھا اُن میں سے 95 فیصد ججوں نے حلف اُٹھالیا ہے اور اگر افتخار محمد چودھری بحال ہونا چاہتے ہیں تو اُنہیں دوبارہ حلف لینا ہوگا تاہم اُنہیں چیف جسٹس کے عہدے پر بحال کرنے کے بارے میں فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی جبکہ سابق وزیر قانون اور سینیٹ کے نومنتخب چیئرمین فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ آئین میں ججوں کی دوبارہ تعیناتی کا قانون تو موجود ہے بحالی کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔
وکلاء رہنما اعلامیے کے انتظار میں ہی اب بھی وزیر اعظم کے اعلان پر محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ نوٹیفکیشن دیکھنے کے بعد ہی اصل صورتحال واضح ہوسکے گی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ترجمان اطہر من اللہ نے تاہم حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر چیف جسٹس کے عہدے کی میعاد کم کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچے گا جبکہ وکیل رہنما جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی کوئی پیچیدہ مسئلہ حل کیا جاتا ہے تو اس میں کچھ نہ کچھ ایڈجسمنٹ کرنا پڑتی ہے تاہم حتمی بات اس وقت سامنے آئی گی جب حکومت کی جانب سے معزول ججوں کو بحال کرنے کا باقاعدہ نوٹیفیکشن آئے گا۔
ادھر سوموار کو وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے معزول ججوں کو بحال کرنے کے اعلان اور سیاسی کارکنوں کی رہائی کے بعد پہلی بار مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف اور سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کو ٹیلی فون کیا اور انھیں معزول ججوں کی بحالی پر مبارکباد دی۔وزیراعظم نے شریف برادران کو یقین دہانی کروائی کہ ان کی انتخابی نا اہلی کے خلاف حکومت سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کرے گی۔ نامہ نگار ذیشان ظفر کے مطابق بیان کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور شریف برادران نے مصالحت کے عمل کو آگے بڑھانے اور میثاق جمہوریت پر عمل درآمد کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا ہے۔






















