زرداری کی طرف سے اعلامیہ جاری: جج بحال

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
صدر آصف علی زرداری نے بلآخر منگل کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت دس معزول ججوں کو بحال کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس بائیس مارچ کو بحال ہوں گے جبکہ باقی نو ججوں فوری طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔ ایوانِ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کی جانب سے ایک بیان میں کیا گیا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری تین نومبر دو ہزار سات سے پہلی والی حالت میں بحال ہوں گے۔ صدر نے سپریم کورٹ کے جن باقی چار ججوں کی فوری بحالی کا حکم دیا ہے ان میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس خلیل الرحمان رمدے، جسٹس راجہ فیاض احمد اور جسٹس چوہدری اعجاز احمد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ کے فوری طور پر بحال کیے جانے والے تین جسٹسس خواجہ محمد شریف، جسٹس اعجاز احمد چوہدری اور جسٹس اقبال حمید الرحمان شامل ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے جن دو ججوں کو بحالی کیا گیا ہے ان میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مقبول باقر شامل ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان واحد جج ہیں جو ابھی تک معزول تھے انہیں بھی بحال کر دیا گیا۔ صدارتی بیان کے مطابق چیف جسٹس بائیس مارچ کو عہدہ سنبھالیں گے۔
اس سے قبل حکومت پاکستان نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بحالی کے بعد متنازعہ مقدمات کی سماعت کا آغاز نہیں کریں گے۔
اٹارنی جنرل پاکستان لطیف کھوسہ نے منگل کی صبح صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’مجھے امید ہے کہ چیف جسٹس پرانے مردے نہیں اکھاڑیں گے۔‘
متنازعہ مقدمات سے مراد قومی مفاہمتی آرڈیننس، لاپتہ افراد اور سٹیل مل کیس شامل ہیں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کہ معزول ججوں کی بحالی کے سرکاری اعلامیے کے اجراء کے فورا بعد ماسوائے چیف جسٹس دیگر تمام جج فوری طور پر اپنے فرائض ادا کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ ’چیف جسٹس افتخار چوہدری، جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے اکیس مارچ کو ریٹائر ہونے کے بعد ہی چارج سنبھالیں گے۔‘
اسی دوران وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ججوں کی بحالی کا اعلامیہ صدر کو منظوری کے لیئے بھیج دیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنماوں نواز شریف اور شہباز شریف کی
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نااہلی مقدمے کے ازسرے نو جائزے کی درخواست کے بارے میں لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ حکومت ایک جامع اور ٹھوس بنیادوں پر نظرِ ثانی کی پٹیشن تیار کی جائے گی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر عدالت نے شریف برادران کو پیش ہونے کے لیے کہا اور وہ پیش نہ ہوئے تو اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ اس بارے میں وہ قیاس نہیں کرنا چاہیں گے۔
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پیر کی صبح قوم سے اپنے خطاب میں سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت اعلٰی عدالتوں کے دیگر معزول ججوں کو بحال کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
وزیر اعظم سید یوسف رضا نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی حکومت نے معزول ججوں کو عوامی خواہشات کے مطابق بحال کیا ہے۔ پنجاب میں گورنر راج کے خاتمے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی پہلی ترجیع ہے کیونکہ وہ گورنر راج کے حق میں نہیں۔
گزشتہ برس سید یوسف رضا گیلانی جب وزیراعظم بنے تھے تو انہوں نے پہلے ہی خطاب کے اُن تمام معزول ججوں کو رہا کرنے کے احکامات دیے تھے جنہیں سابق ملڑی ڈکٹیٹر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ججز کالونی میں نظر بند کردیا تھا۔
صدر آصف علی زرداری نے معزول ججوں کی بحالی کے لیے پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کے ساتھ تحریری معاہدے بھی کیے تھے بعدازاں ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا جس پر پاکستان مسلم لیگ نون حکومت سے علیحدہ ہوگئی تھی۔
اس وقت حکمراں جماعت کا کہنا تھا کہ ملک میں تین نومبر ملک میں ایمرجنسی کے بعد جن ججوں کو معزول کیا گیا تھا اُن میں سے پچانوے فیصد ججوں نے حلف اُٹھالیا ہے اور اگر افتخار محمد چوہدری بحال ہونا چاہتے ہیں تو اُنہیں دوبارہ حلف لینا ہوگا تاہم اُنہیں چیف جسٹس کے عہدے پر بحال کرنے کے بارے میں فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی جبکہ سابق وزیر قانون اور سینیٹ کے نومنتخب چیئرمین فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ آئین میں ججوں کی دوبارہ تعیناتی کا قانون تو موجود ہے بحالی کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔






















