سیاسی تلخیاں کم نہیں ہوئیں

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
لانگ مارچ کے خاتمے اور ججوں کی بحالی کے علاوہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان کوئی ایسا براہ راست رابطہ نہیں ہوا ہے جس کے بارے میں یہ کہا جاسکے کہ معاملہ افہمام و تفہیم کی جانب بڑھ گیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ جب تک پنجاب حکومت اپنی چوبیس فروری والی صورتحال پر بحال نہیں ہوجاتی یہ کہنا مشکل ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان تلخیاں کم ہوئی ہیں۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پہلے ہی یہ اعلان کرچکے ہیں کہ حکومت شریف بردران کی نااہلی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کرے گی۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ ادھر عدالت میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی گئی اور ادھر شہباز شریف اپنی کابینہ سمیت بحال ہوگئے۔
معروف سیاستدان اور آئینی امور کے ماہر ایس ایم ظفر نے کہا کہ نظر ثانی کی اپیل کی سماعت میں کچھ عرصہ لگے گا۔ ان کا خیال ہے کہ اس وقت تک صوبے میں گورنر راج برقرار رہے گا۔
ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ اگرعدالت عظمی نے نئے فیصلے میں شریف بردران کو اہل قرار قرار دیا اور ان کی نااہلی سے لیکر بعد میں ہونے والے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دیا تو تب ہی وہ وزیر اعلی بن سکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ عدالت عظمی کے فیصلے کا انتظارکرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر پچھلے اقدامات کالعدم نہ قرار دیئے گئے تو شہباز شریف کے وزیر اعلی بننے میں وہ آئینی رکاوٹ آئے گی جس کے تحت کوئی بھی شخص دو یا دو سے بار وزیراعلی نہیں بن سکتا۔
ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ حالیہ مفاہمت اور ججوں کی بحالی کا فیصلہ عجلت میں اور سوئی کی نوک پر ہوا ہے اور پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت کی بحالی میں تاخیر سے خرابیاں پیدا ہونے کا امکان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی میڈیا میں یہ قیاس آرئیاں بھی ہورہی ہیں کہ نظرثانی کی اپیل داخل ہوتے ہی عدالت عظمی اپنے حکم امتناعی میں نااہلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدے گی اور شہباز شریف تخت لاہور پرجا بیٹھیں گے۔
ایس ایم ظفر نے کہاکہ ایسا حکم امتناعی بہت ہی مشکل ہے اور اگر ایسا ہوا بھی یہ ایک بدنما فیصلہ ہوگا کیونکہ ان کے بقول عدالت شریف برادران کو نااہل قرار دیتے ہوئے ایک لمبی بحث کی تھی اور اب فورا ہی حکم امتناعی عجیب بلکہ بدنما لگے گا۔
سیاسی مبصرین کاکہنا کہ پیپلز پارٹی اگر مسلم لیگ نون سے مفاہمت چاہتی ہے تو اسے گورنر پنجاب کو تبدیل کرنا ہوگا۔
نواز شریف سلمان تاثیر کی بطور گورنر پنجاب تقرری کو آصف زرداری سے تلخی کی ایک بنیادی وجہ قراردیتے ہیں۔
گورنر پنجاب سلمان تاثیر لانگ مارچ کی کامیابی کے بعد دوروزہوگئے مقامی میڈیا پر دکھائی نہیں دیئے اورسوموار کو آصف زرداری سے ملاقات کے لیے اسلام آباد چلے گئے۔ان کی آصف زرداری سے ملاقات کو بنیاد بنا کر مقامی میڈیا ان کی تبدیلی کی خبریں نشر کرتا رہا لیکن ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے ایک بیان میں گورنر کی تبدیلی کی خبروں کی تردید کی ہے۔
مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما احسن اقبال سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ گورنر پنجاب تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں توانہوں نےکہا کہ سلمان تاثیر جتنا نقصان خود پیپلز پارٹی کو پہنچا چکے ہیں اس کے بعد آصف زرداری کو خود ان کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
ادھر مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کے تیور بھی بظاہر مفاہمانہ دکھائی نہیں دے رہے۔ انہوں نے لانگ مارچ کےبعد اپنے پہلے ہی بیان میں کہا کہ ہے کہ اب وہ عوامی طاقت سے پاکستان کے موجودہ فرسودہ نظام کے خاتمے کے لیے پیش قدمی کریں گے۔
بلوچستان کے وزیراعلی سردار اسلم رئیسانی کے مفاہمانہ دورہ لاہور اور ان کی مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف سے ملاقات کو مسلم لیگ نون نے ایک غیر رسمی رابطہ قراردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مرکز کا نمائندہ بن کر نہیں بلکہ ذاتی حثیت میں آئے ہیں۔
ایک سو اسی ایچ ماڈل ٹاؤن میں ہونے والی اس ملاقات میں سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اور دیگر مسلم لیگی رہنما بھی موجودتھے۔
اسلم رئیسانی نے میڈیا سے مختصر گفتگو میں کہا کہ وہ نواز شریف اور آصف زرداری کے تعلقات بحال کرنے اور انہیں شیر وشکر کرنے کے لیے کوششیں کررہے ہیں لیکن مسلم لیگ پنجاب کے صدر سردار ذوالفقار علی کھوسہ نے فورا ہی واضح کردیا کہ ان کی یہ ملاقات ذاتی نوعیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی اسفند یار ولی خان،مولانا فضل الرحمان یا اسلم رئیسانی کے مذاکرات کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ جج لانگ مارچ اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں بحال ہوئے ہیں۔






















