’گورنر راج کے خلاف ہوں ‘

- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ وہ پنجاب میں گورنر راج کے مخالف ہیں اور اس کا جلد از جلد خاتمہ ان کی ترجیحات میں شامل ہے ۔
منگل کے روز اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی مخلوط حکومت کے قیام کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے لیکن وہ پنجاب میں گورنر راج کے مخالف ہیں اور ان کی اولین ترجیحات میں پنجاب سے جلد از جلد گورنر راج کا خاتمہ ہے ۔ انھوں نے پنجاب میں مخلوط حکومت کے بارے میں مزید کہا کہ '’ہم مفاہمت کی طرف جائیں گے تو یہ فیصلے ہو جائیں گے لیکن ابھی اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی ہے ۔‘
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے شریف برادران اہلیت کیس کا تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد ان کی انتخابی نا اہلی کے خلاف حکومت سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف اور اس وقت پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نا اہل قرار دے دیا تھا جس کی بعد وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اپنے عہدے سے علیحدہ ہو گئے اور پنجاب میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی مخلوط حکومت ختم کر کے گورنر راج کا نفاذ کر دیا گیا۔
وزیراعظم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چکا تھا تاہم عوامی جذبات ، اعلان مری اور پیپلز پارٹی کی مرحومہ چیر پرسن بینظر بھٹو کے وعدے کے مطابق چیف جسٹس کو بحال کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت کو بنیاد بنا کر مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا اور اس عمل میں مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شیف اور دیگر اتحادی جماعتوں کے قائدین بھی شامل ہونگے۔


















