شرعی عدالتوں میں سماعت شروع

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں صوبائی حکومت اور کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت منگل سے ' شرعی عدالتوں‘ نے ضلع بھر میں کام شروع کردیا ہے۔
ملاکنڈ ڈویژن کے کمشنر سید جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات کے سات شرعی عدالتوں نے نظام عدل ریگولیشن سنہ انیس چورانوے ، ننانوے کے تحت کیسوں کی سماعت منگل سے شروع کردی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے خود منگل کو سوات میں قائم بعض عدالتوں کا دورہ کیا۔
اگرچہ حکومت نےسوات میں پہلے سے قائم سات شرعی عدالتوں کو پچھلے ہفتے دوبارہ فعال کردیا تھا۔ تاہم ان شرعی عدالتوں منگل سے باضابطہ طور پر کام شروع کردیا ہے۔ان میں سے دو عدالتوں نے طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے خوازہ خیلہ اور کبل میں بھی کیسوں کی سماعت شروع کردی ہے۔
منگل کو صرف مینگورہ میں قائم دو شرعی عدالتوں میں تیس سے زائد درخواست گزاروں نے اپنی درخواستیں جمع کرائیں۔ان میں زیادہ تر معمولی نوعیت کے مقدمات تھے جن میں چوری چکاری، جھگڑے اور قرض وغیرہ کے کیسز شامل تھے۔
مقامی صحافی شییرین زادہ کا کہنا ہے کہ درخواست گزار اپنی درخواست شرعی عدالت کے قاضی کے پاس جمع کراتے ہیں جس کے بعد وہ پولیس اہلکاروں کو دوسرے فریق کو عدالت میں جلد از جلد حاضر کرانے کے احکامات جاری کرتے ہیں۔ان کے بقول قاضی، فریقین کے درمیان مسئلے کو افہام تفہیم سے حل کرانے کی کوشش کرتے رہے۔
طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے خوازہ خیلہ کے عدالت میں قاضی نے فریقین کے درمیان قرض کے ایک مقدمے کو اس طرح نمٹایا کہ انہوں نے مقروض شخص کو سترہ ہزار روپے موقع پر نقد ادا کرنے جبکہ پانچ سو روپے ماہانہ دینے کے احکامات جاری کیے۔ ان شرعی عدالتوں نے ایسے وقت کام شروع کیا ہے جب صوبائی حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن سمیت ضلع کوہستان میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کا ترمیمی مسودہ صدر آصف علی زرادری کو دستخط کے لیے بھیجا تھا۔
ترمیمی مسودے پر صدرِ مملکت کے دستخط کے بعد شرعی عدالتیں فوجداری اور دیوانی مقدمات کی باضابطہ سماعت شروع کردیں گی لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا عدالتیں محض کام جاری رکھنے کے لیے نطام عدل ریگولیشن سنہ انیس چورانوے اور نناوے کے تحت معمولی نوعیت کے کیسوں کی سماعت کریں گی جن میں قاضیوں کی یہ کوشش ہوگی کہ کسی فریق کو سزا سنانے کی بجائے انہیں آپس میں صلح کرنے پر قائل کیا جائے۔


















