’کابینہ میں ابھی واپسی کا امکان نہیں‘

شیری رحمان
،تصویر کا کیپشنشیری رحمان سینیر صحافی اور مدیر رہ چکی ہیں
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمان کا کہنا ہے کہ ان کا وفاقی کابینہ میں واپسی کا ابھی کوئی امکان نہیں ہے تاہم وہ حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کی رکن رہیں گی۔

یہ بات سابق وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ معزول ججوں کے قضیے کے حل ہونے کی بعد بھی ان کی کابینہ میں واپسی کافی الحال کوئی امکان نہیں۔

اپنے مستعفی ہونے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ان کا اسی اصول پر مبنی تھا جس کے لیے ان کی جماعت کوشش کرتی رہی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ ان کے انتظامی امور پر اختلافات کے باوجود وہ اپنی جماعت کے نظریاتی موقف اور منشور کی پابند رہیں گی۔

ججوں کی بحالی کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس سے جمہوریت کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کے خیال میں گزشتہ چند ماہ کی ملک میں تصادم بھری سیاست کے بعد اب لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت ہے۔

سابق سینئر صحافی اور مدیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ دنوں حکومت کے ایک نجی ٹی وی چینل پر مبینہ پابندی کے فیصلے کے خلاف استعفی دے دیا تھا۔ تاہم پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایوان صدر میں ایک اجلاس میں شیری رحمان کی کارکردگی پر کڑی تنقید ہوئی جس کے بعد انہوں نے کابینہ سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق ان کی کارکردگی پر تنقید لانگ مارچ اور پنجاب حکومت کے خاتمے کے بعد صدر آصف علی زرداری کو میڈیا میں ہونے والی براہ راست شدید تنقید کا مقابلہ کرنے میں ناکامی کی وجہ سے ہوئی تھی۔ تاہم شیری رحمان جس آزادی اظہار پر یقین رکھتی تھیں ان کے بقول وہ کسی پر پابندی کی قائل نہیں تھیں۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں تصادم کی سیاست کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ 'ملک کی تمام جمہوری قوتوں کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے موقف کو سمجھنے اور لچک دکھانے کی سیاست سیکھیں۔'

بعض پارٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ شیری رحمان پر تنقید ان کی جانب سے ماضی میں مبینہ طور پر سرکاری اجلاسوں کی معلومات بعض اخبارات کو جاری کرنے کی وجہ سے بھی ہوئی۔ تاہم شیری رحمان سے اس الزام کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

پیپلز پارٹی حکومت کو گزشتہ دنوں نہ صرف شیری رحمان بلکہ رضا ربانی کی طرف سے اپنی وزارت سے مستعفی ہونے کی وجہ سے سیاسی دھچکا لگا تھا۔ تاہم پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ کسی بھی جمہوری سیاسی جماعت میں ایک معمول کا عمل ہے۔