قاف کا نون سے براہِ راست رابطے کا فیصلہ

چودھری شجاعت حسین نے مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مسلم لیگ ن سے علیحدہ دھڑا بنا لیا تھا
،تصویر کا کیپشنچودھری شجاعت حسین نے مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مسلم لیگ ن سے علیحدہ دھڑا بنا لیا تھا
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

صوبہ پنجاب میں حکومت سازی کے لیے صوبائی اسمبلی میں تیسری اکثریتی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) نے مسلم لیگ نواز کی قیادت کے ساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسلم لیگی قیادت کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ جمعرات کو ق لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین کی رہائشگاہ پر ہونے والے پارٹی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔

پنجاب میں حکومت سازی کے بارے میں دستیاب آپشنز پر غور کے لیے ہونے والے اس اہم اجلاس میں، پارٹی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ نواز کے ساتھ اتحاد کے حامی پارٹی راہنماؤں نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ مسلم لیگ ن سے اتحاد کےحامی راہنماؤں بالخصوص اعجازالحق، طارق عظیم اور مشاہد حسین نے پارٹی قیادت کو تجویز پیش کی کہ صوبہ پنجاب میں سیاسی کشیدگی میں کمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نواز لیگ کی قیادت سے براہ راست مذاکرات کیے جائیں۔

گزشتہ دنوں پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری سے خفیہ ملاقات کے باوجود مسلم لیگ (ق) کی قیادت کی جانب سے نواز لیگ کے ساتھ حکومت سازی کے لیے ملاقات کو سیاسی مبصرین خاصی اہمیت دے رہے ہیں۔ ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعرات کے اجلاس میں پارٹی کے اہم راہنماؤں نے’شجاعت فارمولا‘ پر عمل نہ ہونے کی صورت میں نواز لیگ کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کو بہتر آپشن قرار دیا۔ ان راہنماؤں کا اصرار تھا کہ صرف اسی طرح مسلم لیگ ق اپنے فارورڈ بلاک کو بھی واپس لا سکتی ہے۔

پارٹی اجلاس کے بعد اخبار نویسوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئےمسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ انہوں نے پنجاب میں حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا اور’ اس بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہے سب غلط ہے۔ ہمارا پیپلز پارٹی سے کوئی مفاہمت نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی کھلا یا خفیہ معاہدہ ہوا ہے‘۔

اس موقع پر پارٹی کے صوبائی صدر چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلد نواز لیگ کے راہنماؤں کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’سیاسی مفاہمت میں فارورڈ بلاک کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اگر مسلم لیگ نواز چاہتی ہے کہ اس کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے تو اسے ہمارے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے فارورڈ بلاک کے ارکان ہمیں واپس کرنا ہوں گے، صرف اسی طرح مفاہمت کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے‘۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں سیاسی بے یقینی ملک کے مفاد میں نہیں ہے لہذا وہ جلد از جلد اس بح یقینی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے گزشتہ روز کہا تھا کہ صوبے میں کوئی دو جماعتیں اتحاد پر راضی ہو جائیں تو وہ اسمبلی کا اجلاس فوری طور پر طلب کر لیں گے۔