سوئی، ڈیرہ بگٹی میں کارروائی

- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
- وقت اشاعت
بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی اور سوئی سے کشیدگی اورجھڑپوں کی اطلاعات ہیں جہاں مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی ہیں۔
نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمدغ بگٹی کی جماعت بلوچ ریپبلکن پارٹی کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا ہے کہ فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر بے گناہ افراد کو گرفتار کیا ہے اور فصلوں کو آگ لگا دی ہے۔
سوئی سے بی آر پی کے مقامی رہنما فیصل بگٹی نے کہا ہے کہ یہ کارروائی سترہ مارچ سے شروع کی گئی ہے اور اب تک دو درجن سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس بارے میں فرنٹیئر کور کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سترہ مارچ کو ایف سی کے اہلکار سوئی میں کچھی کینال کے علاقے میں معمول کی گشت کے دوران لاپتہ ہو گئے ہیں۔ اس بیان میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایف سی کے اہلکاروں کو اغوا کیا گیا ہے اس لیے ایف سی نے ان اہلکاروں کی تلاش کے لیے علاقےکو گھیرے میں لے کر لاپتہ جوانوں کی بازیابی کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس بیان میں ایسی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ اس کارروائی میں کتنی گرفتاریاں کی گئی ہیں۔
دریں اثناء اپنے آپ کوکالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر کہا ہے کہ کچھی کینال اور اوچ کے قریب ان کی ایف سی کے اہلکاروں سے جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں فورسز کا نقصان ہوا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
سرباز بلوچ نے لاپتہ ایف سی کے اہلکاروں کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔


















