طالبان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ

تحریک نفاذِ شریعت محمدی کے ترجمان امیر عزت ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کر رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنتحریک نفاذِ شریعت محمدی کے ترجمان امیر عزت ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کر رہے ہیں
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں کالعدم تحریکِ نفاذ شریعت محمدی نے حکومت کو ایک سو ستر طالبان سمیت تقریباً تین سو قیدیوں کی ایک فہرست دیکر ان کی جلد رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے ترجمان امیر عزت نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے یہ فہرست حکومت کے حوالے کردی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فوجی کاروائی کے دوران گرفتار کیے جانے والے ان افراد کو جلد از جلد رہا کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے زیادہ تر عام شہری ہیں جن کو ڈیڑھ سال تک جاری رہنے والی فوجی کارروائی کے دوران مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔

طالبان ترجمان مسلم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے تقریباً ایک سو ستر ایسے ساتھیوں کی فہرست دی ہے جو اس وقت صوبے کی مختلف جیلوں میں قید ہیں اور ان میں سے بعض مبینہ طور فوج کی تحویل میں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امن معاہدے کے بعد ان کے تقریباً بتیس ساتھیوں کو رہا بھی کیا گیا ہے۔ ان کے بقول نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے پندرہ مارچ تک طالبان کی رہائی کی یقین دہانی کرائی تھی مگرمقررہ مدت کےگزر جانے کے بعد بھی طالبان نے مزید وقت دینے کی حامی بھر لی ہے۔

مسلم خان کے بقول ان گرفتار شدہ طالبان میں کوئی سرکردہ کمانڈر شامل نہیں ہے بلکہ زیادہ تر عام جنگجو ہی ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں مسلم خان کا بھائی اور ایک اور کمانڈر ابنِ خطاب کا بیٹا بھی شامل ہیں۔

ان سے پوچھا گیا کہ حکومت اگر ’قاضی عدالتوں‘ میں ان پر مقدمہ چلانے کے بعد انہیں رہا کرنے پر راضی ہوجاتی ہے تو کیا وہ اس کے لیے تیار ہونگے تو مسلم خان کا کہنا تھا کہ پہلے تو امن معاہدے سے قبل گرفتار ہونے والے تمام افراد کو عام معافی دی جانی چاہیئے اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو انہیں قاضی عدالتوں میں اس صورت میں پیش کیا جائے کہ بقول ان کے مخالف فریق یعنی جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف اور دیگر فوجی اہلکار کو بھی ان عدالتوں میں پیش کرنا ہوگا۔

اس سلسلے میں مالاکنڈ ڈویژن کے کمشنر سید جاوید سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی اس فہرست کی تصدیق کی البتہ کہا کہ انہوں نے فہرست سیکریٹری داخلہ کے پاس بھیج دی ہے جو اس بارے میں کوئی طریقہ کار وضع کریں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال مئی میں صوبائی حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے ٹوٹنے کی ایک بڑی وجہ گرفتار شدہ طالبان کی عدم رہائی تھی۔ ایک سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت تقریباً پینتیس طالبان سکیورٹی فورسز کی قید میں تھے اور صوبائی حکومت انہیں رہا کرانا چاہ رہے تھے مگر سکیورٹی فورسز نے ان کی رہائی سے اس لیے انکار کردیا تھاکیونکہ ان کا مؤقف تھا کہ ان پر فوجیوں کو قتل میں مبینہ طور ملوث ہونے اور دیگر کاروائیوں کے الزامات ہیں۔

ایک اور اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ طالبان اپنے ساتھیوں کی رہائی پر فی الوقت اتنا زور نہیں دے رہے ہیں مگر اگر حکومت نے ان کی رہائی سے انکار کیا یا لیت و لعل سے کام لیا تو خدشہ ہے کہ آگے چل کر امن معاہدے کو برقرار رکھنے میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔